ہر سال 8 مارچ کو بین الاقوامی سطح پر یوم خواتین منایا جاتا ہے جس کا مقصد خواتین کی عزت و عصمت کی حفاظت اور ان کی اہمیت کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ ان کو حقوق فراہم کرنا ،ان کے مکمل تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا ہے۔ عورت کے بغیر دنیا یہ بے رنگ ہے اور نسل انسانی کے پروان چڑھنے میں انہیں کا کردار اہم ہے۔ خواتین کے بغیر یہ دنیا بے رنگ و بو گلاب کی طرح ہے یہاں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے تخلیق بخشی اور انہیں جنت میں داخل کیا جہاں پر تمام قسم کے باغات و نہرے پھل پھول عیش و آرام کی چیزیں موجود تھی لیکن پھر بھی بے چینی کی کیفیت تھی ۔اس لیے اللہ تعالٰی نے ان کی تسکین کے لیے جنت میں حوا علیہ السلام کو ان کا ساتھی بنایا۔ جنت جیسی جگہ بھی عورت کے بغیر سونی تھی اس لیے عورت کمی کو پر کرکے جنت کو اور بھی حسین بنادیا گیا۔

عورت صرف مرد کی تسکین کا ہی ذریعہ نہیں ہے بلکہ وہ اچھے اور برے معاشرے کی تشکیل کا ذریعہ ہے ۔دنیائے انسانی میں جتنی عظیم شخصیات نے نمایاں کامیابی حاصل کی اس دنیا میں کوئی بڑا کارنامہ انجام دیا تو اس میں صرف اس مرد کمال نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے اس ماں کے معیاری تعلیم و تربیت اخلاقی اقدار پر مبنی تربیت کا نتیجہ ہے۔ زمانہ ماضی میں لڑکی کے پیدا ہونے کو منحوس و عیب دار بے عزتی سمجھا جاتا تھا اور انہیں زندہ درگور کردیا جاتا تھا۔ اسی طرح آج پیدا ہونے سے پہلے ہی مادر رحم میں قتل کردیا جاتا ہے یہ حرام ہے۔ لیکن پھر عالم عرب میں ایک آفتاب روشن ہوا جس نے صرف عالم اسلام ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کو اپنے نور سے منور کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت اللعالمین بناکر دنیا میں مبعوث فرمایااور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کو نازل فرمایا۔ جو عالم انسانیت کے لیے مکمل ضابطہ حیات ہے۔

اسلام نے تمام انسانوں کو برابری کے حقوق عطا فرمائے۔ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے سوائے اس کے جو زیادہ تقوی اختیار کرے ،اسلام ہی واحد مذہب ہے جس نے جاہلیت کی گہرائی سے نکال کر انسان کو دوسرے کے حقوق و فرائض اور انسانیت کا درس دیا، انہیں برابری کے حقوق فراہم کیے۔ اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے خواتین کی عزت و تکریم اور انکی عصمت کی حفاظت کا حکم دیا اور نکاح کے ذریعے ایک مقدس پاک تعلق کا حکم دیا جس سے وہ تسکین حاصل کرسکے ۔نہ کہ زمانہ جاہلیت کی طرح اپنی مرضی سے حرام کام کرتا پھرے۔ مذہب اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے مردوں کے مہر کی ادائیگی کو فرض قرار دیا، خواتین کو والد کے اور شوہر کی وراثت میں حقوق عطا کیے۔ لیکن آج انہیں وراثت سے محروم کردیا جاتا ہے صرف شادی کردینے کو ہی لڑکی کا حق ادا کردینا سمجھتے ہیں۔ جہیز کی وجہ سے آج کئی لڑکیوں کی عمریں شادی کی عمر سے تجاوز کرجاتی ہے، جہیز کا قرض ادا کرتے ہوئے والدین بوڑھے ہوجاتے ہے، اتنا ہی نہیں شادی کے بعد سسرال میں لڑکیوں کو جہیز کے نام پر طعنہ دیے جاتے ہے، اس کے ساتھ نوکرانی جیسا سلوک کیا جاتا ہے، ان تمام حقوق کی پامالیوں کا فائدہ اٹھا کر آج غیر ہماری شریعت میں مداخلت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں طلاق ثلاثہ کبھی تعداد ازدواج کے مسائل کو ہوا دے کر مسلم خواتین سے جھوٹی ہمدردی جتائی جاتی ہے۔

خواتین کو اسلام نے بہترین تحفظ فراہم کیا اگر کوئی تین بیٹیوں یا دو بیٹیوں یا دو بہنوں کی ذمے داری نبھائے انکی اچھی تربیت کریں ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں اور ان کا نکاح کردے تو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے جنت کا فیصلہ کردیا، اگر عورت ماں ہے تو اس کے قدموں میں جنت کو رکھ دیا گیا۔ آج دنیا یہ سمجھتی ہے کہ ایک دن کو خواتین کے نام سے مناکر کیا خواتین کو ان کے حقوق مل جائیں گے، مغربی تہذیب نے آزادی نسواں اور حقوق نسواں کے نام پر عورت کو صرف برہنہ کرنے کا کام کیا ۔یوم خواتین کے نام پر بڑی بڑی این جی اوز پروگرام کرتی ہے اس میں لبرل ذہن کے افراد کو مدعو کیا جاتا ہے فیشن اور میک اپ سے لدی لبرل خواتین وہاں حقوق نسواں کے نعرے لگاتے دکھائی دیتی ہیں۔ یہ کیسی آزادی ہے کہ عورت کو آزادی کے نام بے پردہ کردیا جائے۔ اسے صنفِ نازک کے زمرے سے ہی باہر کردیا جائے اور جانورں کی طرح صبح شام کام پر لگا دیا جائے۔ بچوں کی پرورش کو پس پشت ڈال کر نوکریاں کرنے لگ جائے اور پھر گھر جاکر شوہر اور بچوں کی ضرورت کو بھی پورا کریں ۔اس سے تو نہ بچوں کی صحیح تربیت ہوسکتی ہے نہ شوہر کو سکون فراہم کر سکتی ہے آج کل دیکھنے میں آتا ہے کہ شوہر کی بیوی پر عدم توجہی اور بیوی کی شوہر پر عدم توجہی کی وجہ سے شادی شدہ ہونے کے باوجود آفس کے اندر کسی غیر سے تعلقات قائم کرلیتے ہیں۔

جس سے خاندانی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے یہ کیسا انصاف ہے۔ خواتین کے حقوق صحیح طور پر اس وقت ادا ہوگے جس وقت ان کو سماج میں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا اور تحفظ اس وقت ممکن ہے جب شرعی قانون کو نافذ کیا جائے ورنہ خواتین کی عزتیں و عصمتیں پامال ہوتی رہیں گی اور حکومت کے اپاہج قانون سے مجرم فرار ہوکر آزاد دندناتے پھرتے رہیں گے۔ جیسے کہ آج تک نربھیا ، آصفہ، کے مجرم حکومت کی گرفت سے باہر ہے۔ کوئی صبح ایسی نہیں گزرتی کے کسی لڑکی یا عورت کو تشدد کا شکار نہ بنایا گیا ہو آج حالات پر قابو پانے کی بے حد ضرورت ہے موجودہ حالت یہ بنی ہوئی ہے کہ ہر سیکنڈ میں 8 خواتین کو جنسی تشدد کا شکار بنایا جاتا ہے۔ فیشن کے نام پر برہنگی و عریانیت کو فروغ مل رہا ہے انٹرنیٹ موبائل فلمی دنیا ننگے ناچ گانوں کی وجہ سے بھی جنسی درندگی میں اضافہ ہورہا ہے۔ یوم خواتین دراصل خواتین کو حقوق و تحفظ فراہم کرنا ہے اس کے بغیر یہ یوم کوئی معنی نہیں رکھتا۔ حکومت کو چاہیے کے وہ خواتین کی حفاظت کے لیے قانون سازی پر غورفکر کریں۔

Facebook Comments