ابا دوسری شادی کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ تانیہ ماں کے آنسو صاف کرتے ہوئے آج پھر سوال کر رہی تھی اور ماں ہمیشہ کی طرح خاموش اپنے آپ سے شرمندہ تھی۔ تانیہ کے اصرار نے جب زور پکڑا تو ماں کی ہمت جوب دے گئی اور سلطانہ کے لب ہلے۔ وہ ایک صوبیدار کی بیوی ضرور تھی لیکن اس کی زندگی ایک ملازمہ سے بھی بد تر تھی۔ ملازمہ کو اس کی خدمت کا معاوضہ ملتا ہے، لیکن مجھے تو تمہارے بابا نے ایک ملازمہ کی حیثیت بھی نہیں دی۔ میں ابھی کم عمر تھی لیکن میری بہن جو کہ اپنے دیور کے لیے رشتہ تلاش کر رہی تھی جب کہیں سے رشتہ نہ ملا تو اماں اور ابا سے بات کی، ان پر دباو¿ ڈالا اور یوں مجھے تمہارے ابا کے ساتھ رخصت کر دیا گیا۔ میں چونکہ کم عمر تھی گھریلو کام کاج سے واقفیت نہیں تھی۔ آپا بڑی تھیں لیکن انہوں نے مجھے کچھ کام کاج نہ سکھایا۔ مجھے بس کپڑے دھونے میں لگا دیتں اور کھانے پکانے سے دور رکھتیں، تمہارے بابا جب چھٹی آتے، تمہاری خالہ کے ہاتھ کا کھانا کھاتے۔ گھر کا نظام آپا چلایا کرتیں تھیں، مجھے ان تمام معاملات سے دور رکھتیں۔ پھر تم پیدا ہوئیں، تمہارے بابا کو تم میں اور مجھ میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ میں جس عمر سے گزر رہی تھی میرے لیے یہ سب ناقابلِ برداشت تھا، لیکن آپا کی منافقانہ رویے سے اماں ابا بھی مجھ پہ اعتبار نہ کرتے تھے۔

وقت مجھے عجیب دوراہے پہ لے آیا تھا اگر میں تمہیں لے کر اماں ابا کے پاس چلی جاتی تو تمہارے ساتھ بھی وہی ہوتا جو میرے ساتھ ہوا، اسی خوف سے میں تمہارے بابا کی ہر زیادتی اور بے مروتی سہتی رہتی۔ تمہارے بابا کا زیادہ وقت شہر سے باہر گزرتا اور میں گاو¿ں میں آپا لوگوں کے ساتھ رہتی۔ اللہ نے جب بیٹے کی نعمت سے نوازا تو یہ امید ہوئی کہ شاید اب تمہارے بابا کا رویہ بدل جائے، افسوس! کہ میں سیاہ بخت تھی اور یہ سیاہی مجھے تم دونوں کی زندگیوں میں پھیلتی نظر آنے لگی۔ میں ہر روز خود کو موردِ الزام ٹھراتی اور میری ہر امید مایوسی کی قبر میں دفن ہو جاتی۔ وقت گزرتا رہا اور اللہ نے مجھے 5 بیٹے عطا کیے۔ لوگ مجھے خوش بخت کہتے کہ میرے 5 بیٹے تھے۔ کوئی میرے دکھ سے واقف نہیں تھا۔ مجھے کہنے کی اجازت نہیں تھی۔ میرے ہونٹ میرے اپنوں نے سی دیے تھے۔ میں اس پنچھی کی مانند تھی جس کے پر کاٹ کر قفس سے رہائی دے دی جائے۔ ہر روز اپنے دکھوں پر آنسو بہاتی اور سو جاتی۔ یہی زندگی کا مقصد تھا۔

پھر نہ جانے کیا ہوا کہ تمہارے بابا کو شادی کا خیال آ گیا۔ وہ یہی کہتے کہ اسے کسی کام کی سمجھ بوجھ نہیں ہے۔ اسے گھر چلانا نہیں آتا، شادی کے 20 سال بعد ان کو یہ خیال آیا کہ انہیں شادی کر لینی چاہیے۔ شادی کے لیے تیاری مکمل کی گئی لیکن شاید اب میرے اللہ کو مجھ پہ رحم آگیا ہے کہ انہیں کوئی مناسب رشتہ نہیں مل رہا۔ وقت کی ستم ظریفی کہ میری اپنی سگی بہن جب جٹھانی کے روپ میں آئی تو انسانیت کے رتبے سے ہی گِرگئی۔ تمہارے بابا پچھلے چار برس سے شادی کی تیاریوں میں ہیں مگر کوئی رشتہ نہیں مِل رہا۔ ان کو ایک سگھڑ اور سلیقہ شعار بیوی چاہیے جو کہ ان کے ساتھ چل سکے۔ جو ان کے گھر کو جنت بنا دے جو شاید میں نہیں بنا سکی، میرا قصور صرف یہ تھا کہ میں کم عمر میں بیاہ دی گئی، جو عمر گڑیوں سے کھیلنے کی تھی، والدین کی زیادتی اور سسرال میں ہونے والے سلوک سے میں ایک نارمل شخصیت کی حامل نہیں بن پائی۔ ان کو ایک تعلیم یافتہ عورت کی ضرورت ہے جو ان کی نسل کو سنوار سکے۔ معاشرہ عورت کی اہمیت سے واقفیت کب دلاتا ہے تانیہ۔

ماں ان پڑھ ہو کہ بھی بچے کی درسگاہ ہوتی ہے امیّ“، تانیہ ماں کے گرتے آنسووں کو اپنے ہاتھوں سے صاف کرتے ہوئے بولی۔ آپ فکر نہیں کریں امیّ۔ میں یہ ظلم اب نہیں ہونے دوں گی۔ مجھے بابا اور بابا جیسے تمام مردوں کے خلاف آواز اٹھانی ہے۔ عورت کو عزت کسی انسان نے نہیں دی امی جان، عورت کو عزت رب ذوالجلال نے دی ہے۔ اگر معاشرہ عورت کو عزت نہیں دے سکتا تو چھین بھی نہیں سکتا۔ آپ بولیں ناں امیّ؟ آج اتنا کچھ کہہ دیا جو برسوں سے دفنائے بیٹھیں تھیں آپ، کچھ تو بولیے ناں!

کیا ظلم کے خلاف میرا ساتھ دیں گی آپ؟ سلطانہ کی سسکیاں پورے کمرے میں گونج رہیں تھیں۔ لیکن وہ کسی بھی فیصلے کو کر گزرنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی، وہ اپنے ابا، اپنے شوہر کے خلاف نہیں بول سکتی تھی۔ سلطانہ کپکپاتی ہوئی آواز میں گویا ہوئی، ”تانیہ بیٹی یہ جو عورت ہوتی ہے ناں ہر ظلم سہہ لیتی ہے لیکن کچھ کہہ نہیں پاتی۔ اپنوں کے مظالم کے بعد بھی مسکرا لیتی ہے کیونکہ وہ مشرقی ہے۔ اس کے دین میں بہت مقام ہے مرد کا وہ اس مقام کو اس مرتبے کو کم نہیں کر سکتی۔ عورت سہتی آئی ہے اور شاید آگے بھی سہتی رہے گی“۔

Facebook Comments