سید الانبیاحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل یہ کائنات جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی۔ انسان اپنے تخلیق کے مقصد کو یکسر فراموش کرچکا تھا۔ ہر طرف جہالت کا دور دورہ تھا، بھائی بھائی کا دشمن اور خون کا پیاسا تھا۔ انسان کا سر بارگاہ الہی میں جھکنے کے بجائے اپنے ہی ہاتھوں سے بنے مٹی، لکڑی اور سونا چاندی کے بتوں کے آگے جھکتا تھا۔ خالق حقیقی کو بھول کر لوگ آگ، سورج، ستاروں اور درختوں کو پوجتے تھے۔ اس سے بڑھ کر گمراہی کا کیا عالم ہوگا کہ انسان اپنے معبود حقیقی سے منہ موڑ کر جھوٹے خداوں کی پرستش کرے۔

یہی وہ دور تھا جسے تاریخ میں دور جاہلیت کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل ہر طرف ظلم وستم کا راج تھا، ہر جانب گمراہی کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ ذرا ذرا سی بات پر بات جنگ و قتال تک جاپہنچتی اور یہ دشمنیاں نسلوں تک جاری رہتیں۔ شراب اور جوئے کی لت عام تھی۔لوگ رنگ، نسل، ذات پات میں تقسیم ہوکر خود کو افضل و اعلی سمجھتے تھے۔ غرض ایسی کوئی برائی نہیں تھی جس میں اہل عرب ملوث نہ ہوں۔ایسا کیسے ممکن تھا کہ ان تمام تر برائیوں کے بعد صنف نازک کو عزت و حرمت کی نگاہ سے دیکھا جاتا۔ تاریخ شاہد ہے کہ اس دور میں عورت کو ہر طرح ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کا ہر طرح سے استحصال کیا گیا۔اس کی ولادت کو منحوس تصور کیا جاتا۔ عورت کی حیثیت فقط زر خرید غلام اور باندی کی سی تھی جسے بھیڑ بکریوں کی طرح فروخت کیا جاتااور بازاروں میں بولیاں لگائی جاتیں۔ وہ عورت جس کے وجود سے نسل انسانی کی بقا ہے وہ کسی رشتے میں معتبر نہ تھی۔

مختصر یہ کہ عورت کو کسی طرح کے کوئی حقوق حاصل نہ تھے۔ اسے ماں، بیٹی، بہن بیوی الغرض ہر حیثیت سے بالکل مفلوج کردیا گیا تھا۔ عورت مرد کے ہاتھوں فقط ایک کھلونا بن کر رہ گئی تھی۔ اہل عرب عورت کے وجود کو موجب ذلت وعار تصور کرتے تھے۔گھرمیں لڑکی کی ولادت پرمنہ چھپائے پھرتے۔ بیٹی کی پیدائش پر یا تو اسے زندہ درگور کردیا جاتا یا اگر وہ منشا خداوندی سے زندہ بچ جاتی تو اس سے تمام حقوق سلب کرلیے جاتے۔ جب کہ معاشرے میں عورت کا استحصال کیا جارہا تھا ایسے میں دین اسلام کا سورج چمکا جس نے عورت پر سے ظلم و ستم اور تشدد کی تاریکیاں دور کی۔ آفتاب اسلام چمکا تو چہار سو اجالا ہوگیا۔

بانی اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے رحمت سے بھرے دین نے عرب کے باشندوں کو ایسے بدلنا شروع کیا کہ بت پرست خدا پرست بن گئے، رہزن رہبر بن گئے، جنگ و جدل کرنے والے آپس میں ایسے شیر و شکم ہوئے کہ اخوت کی انوکھی مثال قائم کی۔ وہ لوگ جو عورتوں کی عزت و حرمت اور حقوق چھیننے کے درپے تھے، عورتوں کے محافظ بن گئے۔ دین اسلام نے جہاں عورتوں کو حقوق فراہم کیے وہیں عورتوں کو مردوں کی عزت و ناموس میں خیانت نہ کرنے کا حکم دیا۔ دین اسلام نے ماں، بہن، بیوی بیٹی غرض ہر رشتے کے تحت حقوق اور مرتبہ کا لحاظ رکھا۔ بحیثیت ماں اس کی خدمت کو جہاد پر ترجیح دی۔ بیوی سے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،” یہی خانہ آبادی کا سبب ہیںرزق انہی کے نیک قدموں سے بڑھتا ہے“۔ بیٹیوں اور بہنوں کے بارے میں فرمایا،” جس نے تین بیٹیوں یا تین بہنوں کے اخراجات برداشت کیے اور ان کو ادب سکھایا اور رحم اور شفقت کا برتاو کیا حتی کہ وہ اس کے خرچ سے بے نیاز ہوگئیں (بیاہ دی گئیں) جنت اس کے لیے اللہ واجب کرے گا“۔

اسلام عورت کے لیے تربیت اور نفقہ کے حق کا ضامن بنا کہ اسے روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور علاج کی سہولت ”ولی الامر“ کی طرف سے ملے گی۔جن بیٹیوں کو زندہ دفن کردیا جاتا تھا اور معاشرے میں ان کا کوئی مقام نہ تھا انہیں نہ صرف عزت و احترام سے نوازا گیا بلکہ وراثت میں ان کا حصہ بھی مقرر کیا گیا۔ ان کے لیے ارشاد ہوا،”اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی وراثت) کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ لڑکے کے لیے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے، پھر اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں (دو یا) دو سے زائد تو ان کے لیے اس ترکہ کا دو تہائی حصہ ہے، اور اگر وہ اکیلی ہو تو اس کے لیے آدھا ہے“۔ (سورة النسا، 4 : 11)

اسی طرح عورت کی تعلیم و تربیت کو بھی اسلام میں اس حد تک اہمیت حاصل ہے کہ حضور سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کودرس دینے کے لیے ہفتے میں ایک دن مقرر فرمایا۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا علم و فضل میں اتنا کمال پاگئیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ رضی اللہ عنہا نہ صرف عورتوں بلکہ مردوں کی بھی باپردہ معلمہ بنیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے حقوق کے بارے میں وصیت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا،” اے لوگو! عورتوں کے بارے میں نیکی اور بھلائی کرنے کی وصیت فرماتا ہوں تم میری وصیت قبول کرو۔ بے شک عورتوں کا تمہارے اوپر حق ہے تم ان کے پہنانے اور کھلانے میں نیکی اختیار کرو“۔دین اسلام نے عورت کو ذلت و پستی کے عمیق گڑھے سے نکال کر عزت و رحمت، تقدس و تحفظ کی وہ بلندی بخشی جس کی نظیر دوسرے ادیان میں نہیں ملتی۔ دین اسلام نے عورت کو معاشرے میں معتبر مقام عطا فرمایا۔

آج کے دور میں عورت کو جو عزت و مقام حاصل ہے وہ اسلام کا عطا کردہ ہے۔ عورت کو ایک نسل کا امین تصور کیا جاتا ہے۔ ایک عورت ایک نسل کی تربیت کرتی ہے جس سے ایک قوم تشکیل پاتی ہے۔آج کے دور میں عورت کوہر حیثیت سے معاشرے کا فرد سمجھا جاتا ہے اور اس کے متعین کردہ حقوق ادا کیے جاتے ہیں یہ بلاشبہ دین اسلام ہی کی بدولت ہے جس نے عورتوں کو گھر کی زینت اور عزت بنا دیااب عورت کی ذمے داری ہے کہ دین اسلام نے اسے جس منصب پر فائز کیا ہے وہ اس کا احترام بجالاتے ہوئے اسلامی طرز زندگی اختیار کرے ۔ 7 جنوری 1929 میں علامہ اقبال نے انجمن خواتین اسلام مدارس کے ایک سپاس نامے کے جواب میں جو ارشادات فرمائے اس کی تلخیص کچھ یوں ہے کہ،” میرا عقیدہ رہا ہے کہ کسی قوم کی بہترین روایات کا تحفظ بہت حد تک اس قوم کی عورتیں ہی کرسکتی ہیں“۔

پابند وفا میں ہوں
مانوس حیا میں ہوں
آدم کی دعا میں ہوں
کیا جانیے کیا میں ہوں
مجھے کہتے ہیں عورت

Facebook Comments