کراچی کی اہم ترین شاہراہ کے کنارے موٹر سائیکل پر سوار دو نوجوان لڑکے بار بار سڑکے کے آنے والے راستے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ ان کی بے قراری کو دیکھ کر محسوس ہورہا تھا کہ وہ کسی کابے صبری سے انتظار کر رہے ہیں یا وہ انتظار کرتے آرہے ہیں۔ اتنے میں ایک بس ان کے قریب سے گزری تو یک لغت موٹر سائیکل چلانے والے نے تیزی سے موٹر سائیکل کو اسٹارٹ کیا اور اتنی ہی رفتار سے موٹرسائیکل کو ریس دی جس رفتار سے بس ان کے پاس سے گزری تھی۔ اگلے ہی اسٹاپ پر بس رکی جس سے کالج کی کچھ طالبات اتر کر سامنے کی گلی سے اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوگئیں، جب کہ وہ دونوں لڑکے کچھ دیر کے لیے وہاں رکے پھر نامعلوم مقام کی جانب بڑھ گئے۔

یہ منظر میری طرح وہاں پر کھڑے تمام افراد نے یکساں دیکھا تاہم کچھ نے اس کی حقیقت کو سمجھا کہ آخر وہ لڑکے کیوں رک رک کر چل رہے تھے، وہ ایک جگہ پر کافی دیر کیوں رکے اور پھر وہاں سے چلے گئے۔ شاید اب اس قسم کے واقعات کا رونما ہونا معمول بن چکا ہے جس کی وجہ سے کسی نے کچھ خاص توجہ نہیں دی۔ دراصل وہ لڑکے قریب کالج میں پڑھنے والی طالبات کے تعاقب میں یہ سب کر رہے تھے جسے وہاں کے کھڑے افراد نے کچھ کہنے کی بجائے روٹین سمجھ کر نظر انداز کردیا۔

کچھ دہائیاں قبل کی بات ہے کہ جب کوئی لڑکا کسی لڑکی کو میلی نگاہوں سے دیکھتا تھا تو معاشرے کا ہر فرد اس لڑکی کو اپنی بہن، بیٹی کی حیثیت دے کر اس لڑکے کی اس حرکت کا سخت نوٹس لیتے تھے۔ جب ہی کوئی بھی کسی کو چھیڑنے یا اس کی طرف بری نگاہوں سے دیکھنے سے پہلے آس پاس میں نگاہیں ضرور گھما لیتا تھا۔ تاہم آج کل کے بے ہنگم معاشرے میں لڑکوں کی جانب سے اسکول، کالج، یونیورسٹی یا پھر کسی ادارے میں کام کرنے والی لڑکیوں کو چھیڑنا، آوازیں کسنا یاگھورنا وغیرہ فیشن کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔ پہلے اگر کوئی لڑکا یہ حرکت کرتا تھا اس کے ساتھی اس کو برا بھلا کہتے اور سمجھاتے تھے کہ یہ حرکت درست نہیں ہے تاہم اب یہ صورتحال بن چکی ہے کہ جو لڑکا جس قدر بدتمیز اور اخلاقی حدوں کو عبور کرتا ہے اس کے ساتھی دوست اسے اس قدر داد دیتے اور بہادر سمجھتے ہیں۔ حالانکہ وہ نہیں جانتے کہ ان کی اس قسم کی غیر اخلاقی حرکت کی وجہ سے گھر سے اکیلی نکلنے پر مجبور لڑکیوں پر ناجانے کیا بیتتی ہوگی۔

ایسے اوباش قسم کے لڑکوں کی وجہ سے ناجانے کتنی ہی لڑکیاں ادھوری تعلیم کے لئے ہمیشہ کے لیے گھر بیٹھ چکی ہوں گی۔ بجائے اس کے وہ ان حالات کا سامنے کرے وہ اپنے آپ پر جبر کر کے گھر میں بیٹھنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ کیوں کہ وہ جان چکی ہیں کہ اب ان کی جانب سے ایسے لڑکوں کو کوئی منع کرنے والا نہیں ہے۔ حال ہی میں ایک پڑوسی ملک کے کچھ نوجوان لڑکوں کی جانب سے ایک ویڈیو سوشل میڈیا کی زینت بنی۔ ویڈیو میں ایک لڑکا لوگوں کے بیچ میں بیٹھی دو لڑکیوں کو چھیڑتا ہے، تاہم اس کے بار بار چھیڑنے کے باوجود سب اسے دیکھتے ہیں، ہنستے ہیں تاہم کوئی منع نہیں کرتا۔ ایک نوجوان یہ حرکت دیکھ کر اس لڑکے کو ایک طرف لے جاکر منع کر تا ہے تو دیگر افراد بھی اس کے ساتھ ہوجاتے ہیں ۔ اس ویڈیو کا مقصد معاشرے میں اس ناسور کو ختم کیسے کیا جائے اس کا پیغام دینا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ آخر لڑکوں کی جانب سے لڑکیوں کوکیوں چھیڑا جاتا ہے، انہیں تنگ کیوں کیا جاتا یا پھر موبائل اور انٹرنیٹ پر الٹے سیدھے پیغامات کے ذریعے انہیں ہراساں کیوں کی جاتا ہے؟ اس کے لیے سب سے پہلی ذمہ داری والدین اور سرپرستوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ بچوں کی تربیت پر مکمل توجہ دیں اور وہ ان کی حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھیں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی اولادیں کیا کر رہی ہیں۔ دوسری بڑی ذمہ داری ہمارے میڈیا پر عائد ہوتی ہے کہ میڈیا کھلے عام ایسے پروگرامات نہ کرے جن میں گرل فرینڈ اور دیگر غیر شرعی و غیر ملی جملوں کا استعمال کیا جاتا ہے یا ان جیسے رول ماڈل کو پیش کر کے ہمارے معاشرے کے نوجوان طبقہ کو ایسی حرکات کرنے پر اکسایا جاتا ہے۔ کسی بھی معاشرے کے بگاڑ اور سدھار میں ذرائع و ابلاغ کا اہم کردار ہوتا ہے۔

کچھ روز قبل ایف ایم ریڈیو پر باقاعدہ طور پر بوائے فرینڈ کی جانب سے محبت بھرا پیغام گرل فرینڈ کو آن ایئر دیا جارہا تھا۔ جب اس قسم جملوں کا تبادلہ یوں بھری محفل میں کیا جائے گا تو پھر ہر سر اٹھاتا لڑکا گرل فرینڈ ڈھونڈنے نکل پڑے گا اور یوں گلی ، کوچوں، چوک چوراہوں پر اوباش لڑکوں کی ٹولیاں ہی نظر آئیں گی جو ہماری ماﺅں، بہنوں اور بیٹیوں کا گھروں سے باہر نکلنا اور جینا حرام کردیں گی۔ اس لیے میڈیا کو اپنا قبلہ درست کرنا ہوگا۔ میرے ایسے نوجوانوں سے التماس ہے کہ خدارا کسی بھی دوسرے کی بہن، بیٹی کو چھیڑنے یا اسے نازیبا جملوں کا نشانہ بنانے سے قبل ایک مرتبہ یہ سوچ لیں کہ کوئی دوسرا ان کی ماں، بہن یا پھر آنے والی نسل میں کسی کو انہیں جملوں کا نشانہ بنا سکتا ہے ۔ جو جملے آپ کو اپنی کسی عزت دار ماں، بہن یا بیٹی کے لیے برداشت نہیں ہوتے تو پھر کسی اور کو کیسے برداشت ہو پائیں گے۔ یاد رکھیں یہ دنیا مکافات عمل ہے آج جو بوئیں گے کل وہ کاٹنا پڑے گا بھلے پسند ہو یا نہیں ہو۔

Facebook Comments