ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں لیکن مشکلات سے نفرت کرتے ہیں۔ کچھ پانا چاہتے ہیں لیکن کچھ کھونے کی ہمت نہیں رکھتے۔ مضبوط بننا چاہتے ہیں مگر ہتھوڑے کی ضرب سے ڈر لگتا ہے۔ سونا بننا چاہتے ہیں لیکن بھٹی میں جلنا ہمیں گوارا نہیں ہے۔بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ سونے کو بھٹی سے گزارے بغیر کندن بنا دیا جائے۔ جب تک آگ نہ لگے گی، ہمارے وجود سے چپکا کچرا کبھی جل نہ پائے گا۔ ضرب نہیں کھائیں گے تو مضبوط کیسے بنیں گے؟ وادیِ طائف میں پتھر کھا کر بھی خاموش رہنا پڑتا ہے۔ فاقے کاٹ کر بھی شکر ادا کرنا پڑتا ہے ۔ رتبہ عطا ہونے سے پہلے آزمایا جانا ایک قدرتی اصول ہے۔ حق پہ ہوتے ہوئے ستایا جانا ایک نعمت ہے۔ اگلے سفر کی ابتدا اور پچھلے سفر کی انتہا ہے۔

زندگی کی حقیقت سے روشناس ہونے والے مشکلات سے گھبراتے نہیں۔ وہ ہر مشکل کا استقبال کرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں، یہ اگلے سفر کا دروازہ ہے۔ ان کی زندگی میں مشکلات آنا بند ہوجائیں تو وہ ساکن ہوجاتے ہیں۔ ان کا نظریہ ہے کہ اگر آپ آسانی سے گیم کے ہر لیول کو پورا کر تے جا ئیں تو کھیل میں مزا کیسا؟ کھیل کا مزا تجسس سے بڑھتا ہے ۔ آپ رشوت، دغا بازی اور سفارش سے کوئی بھی مقام حاصل کرلیں، دنیا آپ کے قدمے چومے، آپ کو عزت دے، آپ کے اشاروں پہ چلے۔ ان لاتعداد آسائشوں کے باوجود بھی آپ کے اندر سکون نہیں آسکتا۔ سفارش، رشوت اور دغابازی آپ کو مقام و مرتبہ دلا سکتی ہے لیکن آپ کے اندر لگی جنگ ختم نہیں کرسکتی۔

جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک بڑے لشکر کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تلواروں سے کھیلنا پڑتا ہے، زخم لگتے ہیں اور لگا ئے جاتے ہیں۔ گھائل دونوں گروہ ہوتے ہیں لیکن شکست اسے، جو ہتھیار ڈال دے، جو بے جان ہوجائے، پھر فاتح حکومت فتح کرتا ہے۔ اندر لگی جنگ بے جا خواہشات اور تمنا وﺅں کی جنگ ہے جس کا سامنا ہمارے مقاصد کرتے ہیں، جو مشکلات اور رکاوٹوں کے ساتھ آتے ہیں۔ بے تحاشا خواہشات اور آسانیوں کی تمنا مر جائے، تو مقاصد فتح یابی حاصل کرلیتے ہیں، پھر یہ لمحہ جب مقام، رتبہ، فتح یابی، نصرت اور سعادت حاصل ہوتی ہے، تو یہ لمحہ سکون کا لمحہ ہوتا ہے۔ چاہے فتح کے بعد فاتح مر جائیں، لیکن ان کا نام باقی رہتا ہے۔ کام باقی رہتا ہے، انہیں اشاروں پر چلانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ قافلے بن بلائے مہمانوں کی مانند ان کے پیچھے رواں ہوجاتے ہیں۔

ایک شارٹ کٹ راہ اور ایک مشقت طلب راہ، ایک مقام پانا چاہتا ہے، ایک مقام کمانا چاہتا ہے۔ مال و جلال کے بل بوتے پہ مقام پایا تو جا سکتا ہے لیکن کمایا نہیں جا سکتا۔مقام کمانے کے لیے وی آ ئی پی بننے کے بجائے اپنے جسم کے ہر عضو کو بھٹی میں جلنے کے لیے چھوڑ نا پڑتا ہے۔ عرصہ بھر کے لیے آگ کی تپش اور کباڑ خانوں کی گرد اور بدبو کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ماحول کا شکوہ کرنے کے بجائے خاموشی سے سب حالات سہنے پڑتے ہیں۔ان سب تکالیف کے بعد آپ پہ اوریجنل گولڈ کا ٹیگ لگا دیا جاتا ہے۔ بلاشبہ بناوٹی لحاظ سے آپ جیسا بے شمار نقلی سونا (آرٹیفیشل گولڈ) آپ کے ارد گرد موجود ہوتا ہے ، لیکن اس کے باوجود آپ کی قیمت لاکھوں میں ہی رہتی ہے۔ بناوٹی گولڈ کے پاس چونکہ اوریجنل عقل نہیں ہوتی اس لیے وہ آپ کو ہمیشہ رشک کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور احساس کمتری کا شکار رہتا ہے۔
آپ جن مرحلوں سے گزر کر بنتے ہیں، وہ مراحل ہی آپ کی قیمت کا تعین کرتے ہیں۔ آپ کو لاکھوں اور کڑوروں کا بننے کے لیے جلنا اور سہنا پڑتا ہے۔ آپ کا آگ میں جلنے کا عمل آپ کی ساری کثافتوں کو دور کردیتا ہے۔ آپ گم تو سکتے ہیں، ٹوٹ تو سکتے ہیں لیکن آپ کی قدر کم نہیں ہوتی۔

آپ قوم کا زیور بن جاتے ہیں، آپ کا بھٹی میں جلنا رائیگاں نہیں جاتا۔ آپ جل کر خوب صورتی پھیلانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں، بد بو سہہ کر خوشبو بن جاتے ہیں۔ آپ کی بے آواز چیخیں خوب صورت الفاظ بن جاتیں ہیں، درد سہہ کر دردِدل بن جاتے ہیں۔ آپ کے بہائے گئے آنسو، آگ بجھانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ آپ تنہا سفر پہ نکلتے ہیں قافلے آپ کے پیچھے رواں ہوجاتے ہیں۔ آپ کے آنسو رائیگاں نہیں جاتے۔ آپ کچھ نہ ہو کر بھی بہت کچھ بن جاتے ہیں۔ نہ کسی شے کی تمنا باقی رہتی ہے نہ کسی مقام کی چاہ۔ آپ جاہ و مال ہار کر دل جیت جاتے ہیں۔ یہی آپ کا اثاثہ ہوتا ہے اور یہی مال و متاع۔

Facebook Comments