اپنی زندگی میں مجھے اور کوئی افسوس ہو یا نہ ہو لیکن یہ افسوس ضرور رہے گا کہ میں ایک بھی ایسی فلم یا ڈرامہ نہ دیکھ سکا جس میں رحم دل چودھری کو بچانے کے لیے گاوں کے کسی ایک شخص نے بھی اپنی جان قربان کی ہو۔ پاکستان اور بھارت میں ہزاروں نہیں تو سینکڑوں ایسی فلمیں بنی ہیں جن میں گاوں کا چودھری کہہ لیں، سردار کہہ لیں، وڈیرایا پھر کوئی سرپنچ۔۔۔ بہت ہی رحم دل ہوتا ہے۔ اپنی رعایا کے لیے اس نے خزانوں کے منہ کھولے ہوتے ہیں اور ان کو اپنے بچوں سے بڑھ کر چاہتا ہے۔ اس کے راج میں شیر اور بکری آپس میں دوست ہوتے ہیں اور سب ہی اس کی درازی عمر کے لیے دعا گو ہوتے ہوئے اسے کوئی فرشتہ یا بھگوان کا اوتار سمجھتے ہیں اور پھر ولن کی انٹری ہوتی ہے جو اس علاقے پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔

وہ اس چودھری کو گھسیٹ کر بازار کے بیچ میں لے آتا ہے اور وہاں اس کو قتل کر کے عام عوام میں اعلان کر دیا جاتا ہے کہ اگر کسی نے ہماری بات نہ مانی تو اس کا انجام بھی ایسا ہی ہو گا۔ اس سین میں عموما لوگ سرکس دیکھنے والوں کی طرح جمع ہوجاتے ہیں یا کبھی کبھی کہیں کہیں اپنے گھروں میں بند ہوجاتے ہیں، گلیاں بازار ویران اور سنسان، اس بوڑھے چودھری کے انجام کے گواہ ہوتے ہیں۔ سب ھی لوگ اطاعت قبول کر لیتے ہیں اور ولن ہنسی خوشی ان پر نہ صرف ظلم کرتا ہے بلکہ ان سب کی طرف سے بے فکر بھی ہوتا ہے۔ فلم کے آخری کسی سین میں اس چودھری کا بیٹا واپس آتا ہے اور اپنے باپ کا بدلہ لیتا ہے۔ ولن کو قتل کرنے سے پہلے وہ خود بھی تھوڑی بہت مار کھاتا ہے اور اس وقت بھی علاقے کی ساری عوام سرکس کا تماشا دیکھنے والوں کی طرح جمع ہوتی ہے۔

مظلوم چودھری کا بیٹا باپ کا بدلہ لیتے ہوئے ولن کو قتل کرتا ہے تو گاوں والے اسے نیا سردار مان لیتے ہیں۔ مجھے حسرت ہی رہی کہ کوئی ایسی فلم ہو کہ جہاں گاوں والے اس ولن سے چودھری کو بچا لیں، اپنے فرشتے کی خاطر کوئی تو اپنی جان کی قربانی دے دے لیکن طاقت ور کے سب ہی والا محاورہ آخر بزرگوں نے ایسے ہی تو نہیں بولا۔ چڑھتے سورج کی سب ہی پوجا کرتے ہیں اور کسی دوسرے کی خاطر کوئی بھلا اپنی جان سے کیوں جائے۔ ٹھیک ہے ولن صاحب ظالم ہوں گے لیکن کسی ایک اکیلے کے لیے تھوڑی ہوں گے بھلا۔ جہاں اتنی دوسری دنیا یہ عذاب سہے گی ہم بھی سہہ لیں گے۔ یہ سوچ اور تماش بینی کی عادت صرف فلموں تک ہی محدود نہیں بلکہ عام حالات میں بھی اپنے ارد گرد اگر نگاہ ڈالی جائے تو صورت حال کچھ مختلف نہیں ہوتی۔ عام آدمی ہمیشہ تبدیلی کا خواہاں اور ایک تماش بین ہی نظر آیا ہے۔ کوئی کتنا ہی نیک اور اچھا شخص حکمران ہو، عوام اس سے بھی تنگ پڑ جاتے ہیں اور پھر ذرا سا تماشا لگا کر کوئی بھی سارا منظر نامہ بدل دے، لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔کرنل معمر قذافی صاحب کی موت ایسے ہی صدمات اور تماش بینی کا ایک نتیجہ تھی اور آج اس ملک کے سربراہ کا نام بھی کوئی نہیں جانتا۔

اپنے لوگوں کی بات کی جائے تو ان سے زیادہ تماش بین تو شاید ہی دنیا میں کوئی ہو۔ انہیں اچھے برے سے کوئی غرض نہیں ہوتی بس تماشا ہونا چاہیے، بھلے کوئی بھی لگائے۔ آج آپ حکمران پارٹی اور ان کے سپوٹرز کی باتیں سنیں یا اپوزیشن والوں کی، سب ہی ایک دوسرے پر بازی لے جانے کے لیے کوشاں ہوتے ہیں لیکن اپنی اصل میں یہ بھی تو ایک تماشا ہی ہے۔ ٹی وی چینلز پر صبح سویرے ایک تماشا شروع ہوتا ہے اور شام ہوتے ہی ٹاک شوز کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔ سارے مسئلے مسائل وہیں دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ عوام کو بھی مسئلے مسائل سے کوئی غرض نہیں، انہیں بھی صرف تماشا نظر آنا چاہیے تاکہ وہ تماش بینی کر سکیں۔ الیکشن سے پہلے ہونے والے جلسے ایسی ہی تماش بین قوم نما ہجوم کی اصل حقیقت سامنے لانے کے لیے کافی تھے کہ ایک ہی شہر میں ایک دن نون لیگ کا جلسہ ہو تو پورا شہر موجود، دوسرے دن تحریک انصاف کا جلسہ ہو تب بھی اتنے ہی لوگ، لیکن الیکشن والے دن ووٹ ڈالنے کا تناسب صرف چالیس سے پنتالیس فیصد۔ یہ چالیس پنتالیس فیصد بھی امیدواروں میں برابر برابر تقسیم نظر آتا ہے اور فرق بس چند سو یا ہزار کا نظر آتا ہے۔ کس طرح سے سوچا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ اپنے راہنما تلاش کرنے میں سچے اور مخلص ہیں۔ جب فاطمہ جناح الیکشن ہار جائے اور الیکشن میں اس کی تذلیل پر مبنی انتخابی مہم چلائی جائے تو اس ملک کے لوگوں کی تماش بینی کا اور کیا ثبوت دیا جا سکتا ہے۔ جب ایدھی صاحب جیسا شخص الیکشن میں کھڑا ہوتا ہے اور ضمانت ہی ضبط کروانے سے بمشکل بچتا ہے ان لوگوں سے کیا یہ توقع رکھی جا سکتی ہے کہ ووٹ دینے میں یہ سب ہی سچے ہیں۔

یہ سب سوچا جائے تو یقین مانیں اس ملک کے لوگوں کے لیے کچھ بھی کرنے کو دل نہیں کرتا۔ ان تماش بینوں کی بھلائی کے لیے کیوں کوئی اپنی جان پر مصیبت سہے اور کیوں اپنی جوانی ایسے لوگوں کے لیے رول دے جنہوں نے تھوڑی دیر بعد ہی کسی اور سورج کو سجدہ کر دینا ہے۔ آج اس ملک میں جس کے پاس اختیار ہے وہی کرپٹ ہے کیونکہ ایسے لوگوں نے یہ راز جان لیا ہے کہ تماش بینوں کے ساتھ بھلائی کرنے کا دوسرا مطلب اپنے آپ کو کسی مصیبت میں ڈالنا ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ جو کچھ سمیٹ سکتے ہو سمیٹ لو۔ یہ عام آدمی کب کسی کا ہوا ہے۔ رحم دل چودھری بھی ان کے سامنے مارا جائے تو تماشہ دیکھنے پہنچ جاتے ہیں اور ولن بھی مارا جائے تو یہ سب تماشائی ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو صرف تماشا ہی خوش رکھتا ہے، اس راز کو سیاست دانوں نے پا لیا ہے اور اسی لیے اب ملک میں ہر طبقہ فکر کے لیے الگ الگ تماشے کا اہتمام ہے اور کھانے والے انہی لوگوں کو جڑوں سے کھا رہے ہیں لیکن تماش بینوں کو کیا فرق پڑتا ہے۔

انہیں تو تماشے سے فرق پڑتا ہے کہ آج کوئی نیا تماشا ہے کہ نہیں اور تماشا لگانے والوں نے اپنے تماش بینوں کو کبھی مایوس نہیں کیا۔ آنے والے کل میں ان تماش بینوں کی اولاد کو ان تماشوں کی کیا قیمت چکانی پڑ سکتی ہے، آپ کسی کی پیشانی پر ایسی کوئی فکر نہیں دیکھیں گے۔ سب کو آج کے تماشے سے غرض ہے اور دیکھ لیں کہ آج ملک میں ہر سو ایک سے بڑھ کر ایک تماشا لگا ہوا ہے۔ ایسے ملک میں کسی کی بھلائی کی بات کرنا اب گناہ ہے اور گناہ بھلا کوئی کیوں کرے۔ لوگ خوش ہیں مطلب سب ٹھیک ہے اور جب سب ٹھیک ہے تو ہم کون اور ہماری باتیں کیا لیکن پھر بھی گزارش ہے کہ کیا اپنے بچوں کو ایک ایسا مستقبل دینا چاہیں گے جس کے لیے کسی نے کچھ نہیں کیا ہے؟ سوچیں، شاید اپنے بچوں پر ہی آپ کو رحم آ جائے اور آپ اس ملک کے لیے فکر مند ہو سکیں۔

Facebook Comments