لاہور کی رہائشی ڈاکٹر طیبہ ظفر اگرچہ ستاروں، سیاروں اور کہکشاؤں سے دلچسپی رکھتی ہیں تاہم انہوں نے زمین کے سرد کنارے انٹارکٹیکا پر کمند ڈال کر ملک کا نام روشن کردیا ہے۔ وہ پہلی پاکستانی خاتون ہیں جنہیں ہوم ورڈ باؤنڈ پروگرام کے تحت  چنا گیا تھا۔

ہوم ورڈ باؤنڈ پروگرام 2018ء اور 2019ء کے تحت 26 ممالک سے 80 خواتین منتخب ہوئیں جن میں پاکستان سے ڈاکٹر طیبہ ظفر کانام شامل تھا۔ اس پروگرام میں دنیا بھر سے سائنس، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں سے وابستہ خواتین ماہرین کو برفیلے براعظم انٹارکٹیکا لے جایا گیا ۔ اس پروگرام کا مقصد خواتین کے اعتماد میں اضافہ اور ان میں رہنمائی کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہے۔ ڈاکٹر طیبہ اس کے ایچ بی تھری پروگرام کا حصہ بنی ہیں۔

پروگرام کے تحت ڈاکٹر طیبہ نے تین ہفتوں کا پروگرام مکمل کیا جس میں لیڈرشپ کی تربیت اور لیکچر دیے گئے۔ اس کے ساتھ ہی حساس علاقوں کا دورہ بھی کروایا گیا جو آب و ہوا میں تبدیلی یا کلائمٹ چینج سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں پگھلتے گلیشیئرز سے لے کر پینگوئن پر تحقیق اور وھیل کا نظارہ بھی شامل ہے۔

ڈاکٹر طیبہ کا کہنا تھا کہ انٹارکٹیکا کا دورہ ایک یادگار سفر تھا جس میں  آپ مثبت اثرات اپنے سانسوں کے اندر تک محسوس کرتے اور اسے اپنی شخصیت سے ظاہر کرتے ہیں اس دورے سے قبل 12 ماہ تک آن لائن تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ سفر بہت اہم تھا لیکن کئی خواتین سمندری مرض (سی سِکنیس) کی شکار ہوگئیں اور ان میں غنودگی کی کیفیات دیکھی گئیں۔

ڈاکٹر طیبہ ماہرِ فلکیات ہیں اور انہیں یہ جنون بچپن سے ہی تھا، وہ ستاروں اور اجرامِ فلکی پر ڈھیروں کتابیں پڑھتی رہیں۔ انہوں نے فزکس میں ماسٹرزکیا اور کوپن ہیگن میں واقع نیلز بوہر انسٹی ٹیوٹ سے ڈاکٹریٹ کی اور یہ ادارہ ڈارک کاسمولوجی سینٹر کے نام سے بھی معروف ہے۔

ڈاکٹر طیبہ فرانس میں واقع یورپین سدرن آبزرویٹری میں بھی کام کیا ہے اور وہ دوردراز کہکشاؤں میں موجود گیسوں اور دھاتوں پر تحقیق کرتی ہیں علاوہ ازیں چلی کے اتاکاما ریگستان میں واقع 8 میٹر قطر کی دوربین سے بھی انہوں نے فلکیاتی مشاہدات کیے ہیں۔

ڈاکٹر طیبہ نے مزیدکہا کہ پاکستانی خواتین کو فلکیات سمیت تمام شعبوں میں آگے آنا چاہیے، اس ضمن میں بین الاقوامی شرکت اور تربیت کے پروگراموں میں بھی بھرپور شرکت کرنی چاہیے۔

Facebook Comments