پاکستان اور بھارت کی غیر اعلانیہ جنگ شروع ہوتے ہی ختم بھی ہو گئی ایٹمی جنگ کا خطرہ اور خدشہ ٹل چکا ہے۔ وزیراعظم عمران خان جشن فتح کی بجائے بھارت کو مذاکرات کی دعوت دے رہے ہیں۔ پاکستان کے شاہینوں نے دو بھارتی لڑاکا طیاروں کو نہیں بلکہ مودی سرکار کے تکبر وغرور کو مارگرایا ہے۔ پاک فوج کے سر پرائزکی تاثیر دیکھیں کہ طیارے تباہ ہونے کے چند ہی گھنٹوں بعد ہی بھارت کالب ولہجہ اور مزاج بدل چکا ہے۔ بھارت جو مذاکرات کے بجائے جارحیت کے جنوں میں مبتلا تھا، اب سشما سوراج مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ وزیر اعظم عمران خان اس بحران میں سے عالمی مدبر بن کر ابھرے ہیں جب کہ مودی نے اپنے آپ کو تیسرے درجے کا چھچھورا، انتہاپسند پاگل ثابت کر دیا ہے۔

اس جنگ کے نتیجے میں جنوبی ایشیاءکو دہکتی آگ کے جہنم کی طرف دھکیلا جارہا تھا۔ حکومت، مسلح افواج ہی نہیں بلکہ ہماری قوم بھی اس امتحان میں سرخرو ہو کر نکلی ہے۔ نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے فیصلے ہماری اجتماعی دانش، کے آئینہ دار ہیں۔ صدر شکر بارگاہ الٰہی میں کہ اس نے قوم کو یہ دن دکھایا کہ ہمارے شاہینوں نے بھارتی اشتعال انگیزی کا ڈٹ کر جواب دیا اور پاک فضائیہ عقاب کی طرح دشمن کے طیاروں پر جھپٹی اور لمحوں میں ان کے پرخچے اڑا کررکھ دیے۔ پاک فضائیہ نے ایم ایم عالم اور اپنے دیگر ہیروز کی تابندہ اور روشن تاریخ یاد کرادی اور قوم کا سرفخر سے بلند کردیا۔ پوری قوم نے جس وارفتگی اور محبت کا اپنی افواج اور بالخصوص فضائیہ کے لیے اظہار کیا، یہ وہ اصل قوت ہے جو الحمداللہ ہماری فوج کو حاصل ہے۔

پاک فضائیہ نے دو بھارتی طیاروں کو تباہ کرکے بھارت کو عملی طورپر جواب دے دیا ہے کہ پاکستان کی امن پسندی کو کمزوری یا بزدلی نہ سمجھا جائے۔ ایک بھارتی طیارہ پاکستان کی حدود کے اندر ہی تباہ ہوا، جب کہ دوسرے طیارے کا ملبہ بھارتی حدود میں جا کر گرا، پاکستان میں بھارتی طیارے کا ملبہ اور بھارتی پائلٹ کی گرفتاری یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ بھارت ہی دراندازی کررہا ہے۔ اس حملے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کا قوم سے خطاب بھی پاکستانی تہذیب کا آئینہ دار ہے، انہوں نے بالکل درست توجہ دلائی کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر اسے پاکستان کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے پاکستانی شاہینوں کی جانب سے سرانجام دیے جانے والے کارنامے کو بروقت قرار دیتے ہوئے صحیح نشاندہی کی کہ یہ اس لیے ضروری تھا کہ بھارت یہ نہ سمجھے کہ وہی پاکستان کی فضائی سرحدوں کی خلاف ورزی کرسکتا ہے۔

بھارتی تنصیبات پاکستانی شاہینوں کے نشانے پر ہیں، مگر پاکستانی امن کے خواہاں ہیں اس لیے صرف پاکستان کی حدود میں ہی بھارتی طیاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ بھارتی سرکار کو طاقت کے زعم سے باہر نکل آنا چاہیے اور بھارتی عوام کودانش کا مظاہر ہ کرتے ہوئے مودی کی جنونیت کی بھینٹ چڑہنے کے بجائے اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔ ایک شخص محض اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے پورے خطے کو جنگ کی آگ میں جھونکنے پر تلا ہوا ہے اور جھوٹی فتح کے ترانے سنا کر انہیں ایک ایسے گڑھے کی طرف دھکیل رہا ہے جس کا انجام تباہی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ بھارتی عوام کوسمجھ آجانا چاہیے کہ مودی اپنے پانچ سالہ اقتدار کی ناکامیوں کو پاکستان کے ساتھ جنگی جنون میں چھپانا چاہتے ہیں۔ اس کی آڑ میں مودی نے انتہاپسند ہندووں کو پورے ملک میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اور ان کوسرکاری سرپرستی میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کی بھرپور آزادی ہے۔

مودی سمجھتا ہے کہ اس طرح انتہا پسندی کو بڑھاوا دینے سے اسے ہندو اکثریت کے ووٹ مل جائیں گے اور یوں وہ آئندہ پانچ سال مزید اقتدار کے مزے کرے گا۔ اگر ایسا ہوا تو بھارتیوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ اجتماعی خودکشی کررہے ہیں کیوں کہ مودی کی پالیسیوں سے پاکستان کو تو کچھ نہیں ہوگا، مگر بھارت ضرور تباہ ہورہا ہے۔ اس تازہ واقعے کے بعد بھارت کے پاس دو راستے ہیں، ایک راستہ بات چیت، امن اور خوشحالی کی طرف جاتا ہے جب کہ دوسرا راستہ تباہی ہے جس کی ایک جھلک حالیہ جوابی کاروئی کے واقع میں دیکھنے کو ملی۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے ایک بار پھر بھارت کو امن کی پیشکش کی ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے طیاروں کی تباہی کے بعد اپنے بیان میں کشیدگی کو مزید نہ پھیلنے دینے کی بات کی ہے۔ اگر واقعی بھارتی قیادت خلوص نیت سے کشیدگی اور جنگ کا ماحول ختم کرنا چاہتی ہے تو اسے ایل او سی اور بین الاقوامی سرحدوں پر چھیڑ خانی بند کر کے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا ہو گا۔ جنوبی ایشیا میں امن قائم رکھے بغیر بھارت ترقی کر سکتا ہے نہ خطے کی حالت بہتر ہو سکتی ہے اس لیے بھارت کو امن کے حوالے سے پاکستان کی پیشکش سے فائدہ اٹھاناچاہیے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان اب تک جتنی جنگیں ہوئی ہیں ان کی بڑی وجہ کشمیر کا تنازع ہے۔ ایک مہذب اور جمہوری ملک کے طور پر بھارت کو یہ سوچنا چاہیے کہ تنازع کشمیر کو کس طرح طے کیا جا سکتا ہے۔ پاکستانی حکومت کو بھی اس وقت سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف پیش رفت کرنا چاہیے۔ یہ بھارت کا کشمیر میں تشدد اور خونریزی ہی ہے جس کے باعث پلوامہ کا واقعہ رونما ہوا اور معاملات اب اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ خطے کے دو ایٹمی ممالک باقاعدہ جنگ کے دہانے پر ہیں۔ بھارتی حملے نے پاکستان کو ایک موقع مہیا کیا ہے کہ دنیا کو بتادیا جائے کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ایک متنازع علاقہ ہے جسے بالآخر پاکستان کا حصہ بننا ہے۔ دنیا کو بتادیا جائے کہ اہل کشمیر دہشت گردی کا ارتکاب نہیں کررہے بلکہ آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں۔ فی الواقع یہ وہ اصل سرپرائز ہوگا جس کا قوم انتظار کررہی ہے۔ پلوامہ حملہ دہشت گردی کی کارروائی نہیں مجاہدین کی کامیاب کارروائی تھا۔

دنیا کے سامنے جنونی، انتہا پسند اور دہشت گرد بھارت کااصل چہرہ پیش کرنے کا وقت ہے۔ ہمیں ایک دوسرے محاذ پرسفارتی جنگ لڑنا ہوگی، سفارتی محاذ پر بھارت کے مقابل ہماری پسپائی کا ایک الگ بڑا میدان ہے۔ تیس برس سے بھارت ہر عالمی فورم پر پاکستان کو دہشت گرد ملک ثابت کرنے کی کوشش کرتا آیا ہے جس کے جواب میں ہمارا رویہ معذرت خواہانہ رہا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کو بتادیا جائے کہ دہشت گرد بھارت کا وزیراعظم نریندر مودی ہے جس نے الیکشن میں اپنی کامیابی کے لیے پورے خطے کو جنگ کی طرف دھکیل دیا ہے، یہ بھارتی جنگی جنون کو ٹھکانے لگانے کا وقت ہے۔ پاک فوج نے بھارتی جنگی جنون کا شرمندہ اختتام کردیاہے، ہم نے بھارت باور کروا دیا ہے کہ اگر تم نے جنگ شروع کی تواس کا اختتام تمہارے ہاتھ میں نہیں ہوگا، اس آخری جنگ کا اختتام ہم کریں گے۔

Facebook Comments