ٹائیفائیڈ پوری دنیا میں عام طور پر پائی جانے والی بیماری ہے۔ جو ایک بیکٹریا سالمونیلا ٹائفی کے ذریعے ہوتی ہے۔ یہ بیکٹریا پانی اور خشک گٹر وغیرہ میں کافی عرسے تک زندہ رہ سکتا ہے۔ سالمونیلا ٹائفی صرف انسانوں کے اندر پرورش پاتا ہے اور جو مریض اس بیکٹریا کے انفیکشن یا بخار میں مبتلا ہو جاتے ہیں ان مریضوں کے خون کی نالیوں اور آنتوں میں اس کے جراثیم موجود ہوتے ہیں۔ ٹائیفائیڈ بخار کے جراثیم مریض کے رفع حاجت اور پیشاب کے ذریعے خارج ہوتے ہیں اور پھر یہ پانی میں یا پھر کھانے پینے کی اشیاءمیں شامل ہو کر دوسرے افراد کو بھی بیمار کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ افراد جو کہ ٹائیفائیڈ بخار سے صحت یاب ہو چکے ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود جراثیم سے مکمل طور پر چھٹکارا نہیں پاتے ہیں ایسے افراد ٹائیفائیڈ کے کیریئر ہوتے ہیں جن کے جسم میں سالمونیلا ٹائفی کے جرثومے موجود ہوتے ہیں لہذا بخار میں مبتلا افراد کے علاوہ ان کیریئر افراد کے فضلے  میں بھی سالمونیلا ٹائفی موجود ہوتے ہیں جوکے ساتھ خارج ہوتے ہیں۔ اگر یہ افراد رفع حاجت کے بعد اچھی طرح اپنے ہاتھوں کو نہ دھوئیں اور ان کی تیار کردہ غذائیں وغیرہ کوئی صحت مند انسان استعمال کرلیں یا ان سے مصا فحہ کر یں تو وہ بھی ٹائیفائیڈ بخار میں مبتلا ہو سکتا ہے۔

ٹائیفائیڈ بخار گندے اور آلودہ پانی اور خوراک کے ذریعے پھیلتا ہے۔ یہ گندے خوراک کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر خون میں شامل ہو جاتاہے اور لمف نوڈز، جگر اور جسم کے دوسرے حصوں میں حملہ کرتا ہے۔ اسی طرح سے پینے کے پانی میں یا عام استعمال کے پانی میں جب سیوریج کا گندا پانی شامل ہو جائے جس میں سالمونیلا ٹائفی موجود ہوں تو ایسے گندے اور آلودہ پانی کو پینے یا کھانے پینے کی اشیاءمیں استعمال کرنے سے بھی ٹائفائیڈ کے بیکٹریا انسانی جسم میں داخل ہو کر بخار کا سبب بنتے ہیں۔ ایک بار سالمونیلا کے کھانے پینے یا پانی کے ساتھ جسم میں داخل ہوتے ہی اس کے بعد خون میں پہنچتے ہی ان کی تعداد تیزی سے بڑھنے لگتی ہے۔

ٹائیفائیڈ کی انکیوبیشن مدت ایک سے دوہفتے جب کہ بیماری کی صورت تقریبا دو سے چارہفتے تک ہوتی ہے۔ ٹائیفائیڈ کا بیکٹریا جسم میں داخل ہونے کے بعد پہلے ہفتے مریض کی طبیعت سست رہتی ہے۔ سرمیں درد اور پھر بخار ہونے لگتا ہے۔ یہ بخار ابتداءمیں ہلکا ہوتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ تیز ہو جاتا ہے۔ ابتداءمیں بعض اوقات کھانسی اور گلا خراب ہونے کی شکایتیں بھی لاحق ہو جاتی ہیں مگر سردرد اور مسلسل نہ ٹوٹنے والا بخار ٹائیفائیڈ کی خاص علامات ہیں۔ بخار کی شدت میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ لیکن بخار مستقل رہتا ہے۔ بچوں میں یہ بخار، سردی اور کپکپی کے ساتھ بھی چڑھتا ہے اور مریض لاغر اور کمزور دکھائی دینے لگتا ہے۔ ان سب علامات کے ساتھ ساتھ پیٹ میں درد اور قبض کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات مریض کو بخار کے دوسرے ہفتے میں ہی دست لگ جاتے ہیں اور مریض نڈھال سا ہو جاتا ہے۔ ٹائیفائیڈ میں بعض اوقات پیٹ اور سینے پر باریک باریک سرخ دانے جو گچھوں کی صورت میں ہوتے ہیں، نکل آتے ہیں۔ زبان سفید ہو جاتی ہے اور ساتھ ساتھ زبان کے کنارے بھی سرخ ہو جاتے ہیں جب کہ کچھ مریضوں میں کچھ نفسیاتی تبدیلیاں بھی نمودار ہوتی ہیں ایک تحقیق کے مطابق جیسے کہ ہذیان کا مسئلہ ہو جاتا ہے۔

اگر ان سب میں سے کوئی علامات ظاہر ہو یا بخار ایک ہفتہ سے زیادہ دیر رہے تو فوراََ اپنے معالج سے مشورہ کرنا چاہیے کیوں کہ ٹائیفائیڈ کا اگر فوری طور پر علاج نہ کیا جائے تو آنتوں میں زخم ہو نے کا خطرہ ہوتا ہے۔ چھوٹے بچوں میں یہ بخار نسبتاََ زیادہ خطرناک ہوتا ہے اور تیز بخار کے سبب بچوں کے دماغ پر اثر انداز ہو سکتا ہے اس کے علاوہ آنکھوں اور کانوں میں بھی نقص ہو نے کا خطرہ ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو مرض کے علاج میں غفلت برتتے ہیں تو ان کا یہ بخار کئی مہینوں تک رہتا ہے اور ایک اعداد و شمار کے مطابق 20 فیصد مریض اس بیماری کی پیچیدگیوں کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔اس بیماری کی حالت میںمریض کو مکمل آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ مریض کو ہلکی پھلکی اور جلد ہضم ہونے والی غذائیں دینی چاہیے۔ ٹائیفائیڈ جیسے مختلف امراض سے بچنے کے لیے پانی ابال کر استعمال کر نا چاہیے کیوں کہ یہ بیماری زیادہ تر آلودہ پانی سے ہی پھیلتی ہے اور کھانے پینے کی اشیاءکو مکھیوں اور دوسرے کیڑے مکوڑوں سے بچا کر ڈھک کر رکھنا چاہیے۔

کچھ وقت پہلے ٹا ئیفائیڈ کا بخار مختلف دوائیوں کے استعمال سے ٹھیک ہو جاتا تھا مگر آہستہ آ ہستہ سالمونیلا ٹائفی پر ان دوائیوں نے اثرکرنا بند کر دیا۔ اس کی بنیادی وجہ اینٹی بائیوٹک کا بے جا استعمال ہے۔ سندھ میں سپر بگ ٹا ئیفائیڈ کا پہلا کیس 2016 میں حیدرآباد میں سامنے آیا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ سے صرف سندھ میں اب تک اسی ہزار افراد متا ثر ہو چکے ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ کیسز کراچی اس کے بعد حیدرآباد، سانگھڑ اور اطراف کے اضلاع میں سامنے آئے۔

تحقیق کے مطابق ٹائیفائیڈ بیکٹریا یا یہ مرض ایسے علاقوں کے افراد میں زیادہ پایا گیا جہاں صفائی ستھرائی کے انتظامات بالکل ناقص اور نہ ہونے کے برابر تھے۔ لہذا صحت اور صفائی کا ہر ممکن خیال رکھنا چاہیے اور کھا نے سے پہلے اور رفع حاجت سے فراغت کے بعد لازمی ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح دھولینا چاہیے۔ ہاتھوں کی صفائی سے ہونے والی بیماریاں زیادہ تر گندے اور سہولیات سے محروم علاقوں میں رہائش پذیر افراد اور خصوصاً بچوں کو لاحق ہوتی ہیں جوحفظانِ صحت کے اصولوں سے دور ہوتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر اکثر اوقات فضلہ خارج کرنے کے بعد ہاتھ کو نہ دھونے کے باعث مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔

مریض کے رفع حاجت اور پیشاب کو فوراََ مٹی سے ڈھک دینا چاہیے تاکہ اس پر مکھیاں نہ بیٹھ سکیں۔ کنوئیں تالاب اور پانی کے ذخائر کے نزدیک رفع حاجت کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اپنے گھر وں کے اندر اور گلیوں میں کوڑا کرکٹ اور غلاظت کے ڈھیر نہ لگنے دیں ورنہ اس میں مکھیاں پیدا ہو کر بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔ ایسی غذائیں اور مشروبات استعمال نہیں کرنے چاہیے جن کے جراثیم سے آلودہ ہونے کا امکانات ہوں۔ ٹائیفائیڈ بخار سے بچنے کے لیے ٹیکے لگوانے چاہیے مگر ٹیکے لگوانے کے بعد بھی آلودہ غذاﺅں اور مشروبات سے پرہیز کرنا چاہیے۔ بازاری طور پر تیار کی ہوئی برف اور سڑک کے کنارے اسٹریٹ وغیرہ پر فروخت ہونے والی چیزیں، مشروبات وغیرہ خرید کر کھانے سے مکمل گریز کریں کیونکہ یہ زیادہ تر آلودہ پانی سے بنائی جاتی ہیں۔ کچی سبزیاں اور ایسے پھل استعمال نہ کریں جن میں چھلکا اتار کر استعمال نہیں کیا جاتاہے۔ سلاد کے پتے، کچی سبزیاں اور پھل وغیرہ صاف پانی سے دھوکر پھر استعمال کرنے چاہیے۔

ٹائیفائیڈ کی بیماری میں مرض کی ظاہری علامتیں ٹھیک ہونے کے باوجود بھی ممکن ہوتا ہے کہ مریض کے جسم میں یہ بیکٹریا موجود ہو۔ ایک تحقیق کے مطابق تقریباََ 3-5 فیصد افراد میں یہ بیکٹریا بخار کے بعد کیریئر کی صورت میں موجود ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں مرض کے دوبارہ لوٹ کر آنے کے بے حد امکانات ہوتے ہیں اور مریض باآسانی اپنی بیماری دوسروں تک منتقل کر سکتا ہے۔ لہذا اگر مریض کو ٹائیفائیڈ بخار کے سلسلے میں علاج جاری ہے تو معالج کی تجویز کردہ دوائیں اس وقت تک استعمال کرتے رہیں جب تک ڈاکٹر نے اس کے لیے تا کیدکی ہو اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ بیکٹریا مریض کے جسم میںمکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔ کئی بار فضلے (Stool) کا معائنہ کروانا چاہیے اور اس دوران باتھ روم وغیرہ کے استعمال کے بعد اپنے ہاتھوں کو پانی اور صابن سے اچھی طرح دھولینا چاہیے تاکہ جراثیم کا ایک سے دوسرے افراد میں منتقل ہونے کے امکانات کم سے کم ہو جائیں۔

Facebook Comments