سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن تیم بن مرہ بن کعب ہے۔ مرہ بن کعب تک آپ کے سلسلہ نسب میں کل چھ واسطے ہیں۔ مرہ بن کعب پر جاکر آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نسب سے جاملتا ہے آپ رضی اللہ عنہ کا اسلام لانے سے پہلے کا نام عبدالکعبہ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوبکر ہے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسلام لانے سے پہلے ایک عورت سے نکاح کیا تھا۔ اس عورت کا نام اُم بکر تھا اور بکر وہ بچہ تھا جو اس لڑکی کے پہلے خاوند سے تھا۔ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس عورت سے نکاح کیا تو وہ بچہ بھی ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر آیا۔ توصدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس بچے کے سوتیلے باپ بن کر ابو بکر کہلائے۔ (ماخوذ اَز± خطبات فاروقی جلد اول صفحہ 253)

آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ کا نام سلمٰی بنت صخر بن عامر بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ ہے۔ کنیت ”اُم الخیر“ ہے۔ آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد کے چچا کی بیٹی ہیں۔ ابتدائے اسلام میں ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرکے مشرف بہ اسلام ہوگئیں تھیں۔ مدینہ منورہ میں جمادی الثانی 13ہجری میں وفات پائی ۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ازواج کی تعداد چار ہے.آپ نے دو نکاح مکہ مکرمہ میں کئے اور دو مدینہ منورہ میں,ان ازواج سے آپ کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہوئیں, جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا پہلا نکاح قریش کے مشہور شخص عبدالعزیٰ کی بیٹی اُم قتیلہ سے ہوا, اس سے آپ رضی اللہ عنہ کے ایک بڑے بیٹے حضرت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اور ایک بیٹی حضرت سیدہ اسماءرضی اللہ عنہ پیدا ہوئیں, آپ رضی اللہ عنہ کا دوسرا نکاح اُم رومان (زینب) بنت عامر بن عویمر سے ہوا۔ ان سے ایک بیٹے حضرت سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ اور ایک بیٹی اُم المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں۔

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے تیسرا نکاح حبیبہ بنت خارجہ بن زید سے کیا۔ ان سے آپ رضی اللہ عنہ کی سب سے چھوٹی بیٹی حضرت سیدہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں, آپ رضی اللہ عنہ نے چوتھا نکاح سیدہ اسماءبنت عمیس سے کیا۔ یہ حضرت سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں. جنگ موتہ کے دوران شام میں حضرت سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کرلیا.

حجة الوداع کے موقع پر ان سے آپ رضی اللہ عنہ کے بیٹے محمد بن ابی بکر پیدا ہوئے۔ جب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دنیا سے پردہ فرمایا تو حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کرلیا, اس طرح آپ کے بیٹے محمد بن ابی بکر کی پرورش حضرت سیدنا علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے فرمائی۔(ماخوذاز خطبات فاروقی جلد اول صفحہ 254/255)

آپ رضی اللہ عنہ کے دو لقب زیادہ مشہور ہیں۔ عتیق اور صدیق۔ عتیق پہلا لقب ہے، اسلام میں سب سے پہلے آپ کو اسی لقب سے ہی ملقب کیا گیا۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نام ”عبداللہ“ تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا، ”تم جہنم سے آزاد ہو“۔ تب سے آپ رضی اللہ عنہ کا نام عتیق ہوگیا۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں ایک دن اپنے گھر میں تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام علیہم الرضوان صحن میں تشریف فرما تھے۔ اچانک میرے والد گرامی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف دیکھ کر اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا، ”جو دوزخ سے آزاد شخص کو دیکھنا چاہے، وہ ابوبکرکو دیکھ لے۔

آپ رضی اللہ عنہ کے لقب ”صدیق“ کے حوالے سے حضرت سیدہ حبشیہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، ”اے ابوبکر! بے شک اللہ رب العزت نے تمہارا نام صدیق رکھا“۔

اُم المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی سیر کرائی گئی (واقعہ معراج)تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری صبح لوگوں کے سامنے اس مکمل واقعہ کو بیان فرمایا مشرکین دوڑتے ہوئے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے، ”کیا آپ اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں جو آپ کے دوست نے کہی ہے کہ انہوں نے راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی سیر کی؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واقعی یہ بیان فرمایا ہے؟“ انہوں نے کہاجی ہاں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے تویقینا سچ فرمایا ہے اور میں ان کی اس بات کی بلا جھجک تصدیق کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا، ”کیا آپ اس حیران کن بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ آج رات بیت المقدس گئے اور صبح ہونے سے پہلے واپس بھی آگئے؟

آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”جی ہاں! میں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آسمانی خبروں کی بھی صبح و شام تصدیق کرتا ہوں اور یقینا وہ تو اس بات سے بھی زیادہ حیران کن اور تعجب والی بات ہے“۔
پس اس واقعے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ صدیق مشہور ہوگئے۔

صدیق اکبرؓ کاقبول اسلام

حضرت ربیعہ بن کعبؓ فرماتے ہیں کہ، ”حضرت ابوبکر صدیقؓ کا اسلام آسمانی وحی کی مانند تھا وہ اس طرح کہ آپ ملک شام تجارت کے لیے گئے ہوئے تھے، وہاں آپ نے ایک خواب دیکھا جو ”بحیرا“ نامی راہب کو سنایا۔ اس نے آپ سے پوچھا، ”تم کہاں سے آئے ہو؟“ فرمایا، ”مکہ سے“۔ اس نے پھر پوچھا، ”کون سے قبیلے سے تعلق رکھتے ہو؟“ فرمایا، ”قریش سے“۔ پوچھا، ”کیا کرتے ہو؟“ فرمایا، ”تاجر ہوں“۔ وہ راہب کہنے لگا، ”اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے خواب کو سچافرمادیا تو وہ تمہاری قوم میں ہی ایک نبی مبعوث فرمائے گا۔ اس کی حیات میں تم اس کے وزیر ہوگے اور وصال کے بعد اس کے جانشین“۔

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس واقعے کو پوشیدہ رکھا، کسی کو نہ بتایا اور جب رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبوت کا اعلان فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی واقعہ بطور دلیل آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا۔ یہ سنتے ہی آپ رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گلے لگالیا اور پیشانی چومتے ہوئے کہا، ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں“۔

مورخ اسلام علامہ ضیاءالرحمٰن فاروقی رحمہ اللہ کی کتاب خطبات فاروقی میں آپ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ یوں نقل کیا ہے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فاران کی چوٹی پر اعلان توحید کیا تو اس جگہ پر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر پتھر مارے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس توحید کی دعوت پر کوئی بھی مسلمان نہیں ہوا۔ اس موقعے پر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ موجود نہ تھے بلکہ کپڑے کی تجارت کے سلسلے میں ملک شام گئے ہوئے تھے۔ جس دن یہ واقعہ پیش آیا اسی دن کی رات کو ابوبکر رضی اللہ عنہ گھر تشریف لائے۔ اگلے دن اس کپڑے کو لے کر منڈی میں فروخت کرنے گئے چنانچہ بڑے بڑے بیوپاری دوردورسے کپڑالینے آئے ہوئے تھے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فروخت کرنے لگے تو ان کے پاس حکیم بن حزام جو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہ کے بھانجے ہیں وہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا اے ابوبکرؓ یہاں تو ایک بات ہوگئی ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا ہوا؟

اس نے کہا میری پھوپھی خدیجہ رضی اللہ عنہا کے شوہر محمد کہتے ہیں کہ میں نبی بن گیا ابو بکررضی اللہ عنہ نے جب یہ سنا تو اسی جگہ پر کپڑا چھوڑا اور سیدھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آئے اور آکر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ”اے محمدﷺ میں نے حکیم بن حزام کی زبان سے سنا ہے کہ آپ نبی ہوگئے ہیں“۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ، ”ہاں میں نبی ہوگیا ہوں۔ تو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر ہاتھ بڑھادیجیے میں کلمہ پڑھتا ہوں“۔ (ماخوذ از خطبات فاروقی جلد اوّل صفحہ 259)
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھرانے کو ایک ایسا شرف حاصل ہے جو اس گھرانے کے علاوہ کسی اور مسلمان گھرانے کو حاصل نہیں ہوا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خود بھی صحابی، ان کے والد حضرت ابو قحافہ رضی اللہ عنہ بھی صحابی، آپ کے تینوں بیٹے (حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ، حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ اور حضرت محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ) بھی صحابی، آپ رضی اللہ عنہ کے پوتے بھی صحابی، آپ کی بیٹیاں (حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، حضرت سیدہ اسماءرضی اللہ عنہا اور حضرت سیدہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا بنت ابی بکر) بھی صحابیات اور آپ کے نواسے بھی صحابی ہوئے۔

آپ رضی اللہ عنہ صاحب غار اور نبی اکرم ﷺ کے بہترین رفیق تھے۔ پیغمبر صلی اللہ وعلیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کے بارے میں فرمایا، ”میں نے اس دنیا میں سب کے احسانات کا بدلہ چکا دیا، ہاں صدیق اکبرؓ کا بدلہ رب پر چھوڑ دیا وہ یومِ قیامت اللہ تعالیٰ انہیں عطافرمائیں گے۔

Facebook Comments