اپنے کام پر جاتے وقت میرا ایک گلی کے پاس سے گزر ہوا تو مجھے شور سنائی دیا ،میں آگے بڑھا اور دیکھا کہ ایک خوش لباس شخص ایک سر جھکائے غریب اور لاچار شخص کو گالیاں دینے اور مارنے میں مصروف ہے۔ وہاں پر کچھ اور لوگ بھی موجود تھے جو یہ سارا تماشہ دیکھ رہے تھے۔ میرے دریافت کرنے پر کسی نے کہا کہ یہ خوش لباس شخص اس سرجھکائے ہوئے شخص کا مالک ہے اور یہ لاچار شخص اسکا نوکر ہے ۔جس سے شائد کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہے۔ یہ سب دیکھ کر مجھے اس لاچار شخص کے ساتھ ساتھ گالیاں دینے والے اس خوش لباس شخض پر رحم آیا اور ساتھ ہی وہاں کھڑے ان تماشائیوں پر افسوس ہوا۔

جو ایک انسان کے ہاتھوں دوسرے انسان کی توہین ہوتے خاموشی سے دیکھ رہے تھے ،جو خود اپنے آپ میں انسانیت کی توہین ہے ۔ وہ شخص خود تو خوش لباس تھا مگر انسانیت کو برہنہ کر رہا تھا۔ اس کے اندر انسانیت کا احساس نہ ہونے کے برابر اور اپنے مالک ہونے کا احساس کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور ایک انسان کو ہی انسان کی توہین کرتے دیکھا گیا ہے۔اگر ہم صرف ایک چیز انسانیت کو سمجھ لیں، انسانیت کو اپنا لیں اور خود کو انسانیت کی توہین سے بچا لیں تو شائد کبھی بھی کسی تعلق اور رشتے کی توہین نہ ہو کیونکہ ابتداء انسانیت  ہے اس کے بعد رشتے  اور تعلقات آتے ہیں۔

کسی انسان کو گالی دینا، لعنت کرنا، اس کی غیبت، چغلی یا اس پر بہتان لگانا، اس پر آوازیں کسنا، راہ چلتے اس کی عزت اچھالنا، اس کا مذاق اڑانا یا بغیر تحقیق کہ کسی کو کافر، بدعتی و مشرک کہنا، یہ سب توہین ہی کہلائیں گے۔ اس سب کلچر، تہذیب، ثقافت کے ذمہ دار ہم سب مسلمان ہیں۔

والدین کی توہین:اپنے ماں باپ کی کوئی مسلمان بے ادبی یا توہین نہیں کرتا لیکن جب والدین ہی اولاد کی تربیت شرعی پیمانوں پر نہیں کریں گے تو پھراولاد بھی اپنے والدین کا ادب نہیں بلکہ توہین ہی کرے گی۔

توہینِ رسالت:سرکارﷺ کی شان میں گستاخی ”توہین رسالت“ ہے مگرکیا نبی کریم ﷺ کا حکم نہ ماننا توہین رسالت میں نہیں آتا؟نبی کریمﷺ نے ہمیشہ انسانیت کا درس دیا ۔آپﷺ کو رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا گیا۔آپﷺ جب تشریف لائے تو اندھیرے ختم ہوگئے ۔عورت کو حقوق ملے بیٹی اور بہن کو حقوق ملے ،ماں کو اس کے ماں ہونے کا حق ملا۔ انسان کو انسان کے حقوق سمجھ آئے، باپ کو بیٹے ،بیٹے کو باپ، ہمسائے کو ہمسائے کے حق بارے میں علم ہوا۔ بھائی کو بھائی کے حقوق بارے میں علم ہوا۔ آپ ﷺ کی تشریف آوری ہوئی تو دنیا جو انسانیت سے بے خبر تھی اس دنیا میں انسانیت کا بول بالا ہو۔

اب جو اہل علم ہیں یہ ان کے ذمے ہے کہ وہ انسانیت کا درس دیں اور انسان کے انسان پر جو حقوق ہیں ان کادرس دیں۔ لوگوں میں آگاہی پیدا کریں،نفرتیں ختم کرنے کی بات کریں۔ اس دور میں جہاں ہر طرف نفرتوں کے بیج بونے والے انسانیت کے دشمن ہیں اہل علم ان کے ہر وار سے آگاہی دیں۔

Facebook Comments