نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صحابہ کرامؓ کو نصیحت فرمایا کرتے تو ابتداءایک خطبے سے کرتے تھے، جس خطبة الحاجہ کہا جاتا ہے۔ مذکورہ خطبہ عیدین، نکاح و جمعہ کے موقع پر پڑھا جاتا ہے۔ جس میں پہلے اللہ کی حمد و ثناءہے، پھر اللہ سے مطالبہ کیا جاتا ہے اور وہ ہر انسان کی ضرورت بھی ہے کہ اے اللہ! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ہمیں ہمارے نفس کے شر سے بچا۔ ہمیں ہمارے ہی نفس کے فساد اور بد اعمالیوں سے محفوظ فرما۔ اس کا معنیٰ یہ ہوا کہ میرا، آپ کا اور ہم سب کا سب سے بڑا دشمن ہمارا نفس ہی ہے۔

اللہ رب العزت نے قرآن حکیم میں نفس کی تین اقسام بیان فرمائی ہیں، جن میں سے ایک نفس امارہ بالسوءہے۔ کچھ لوگوں کے نفوس صرف گناہ کا حکم دیتے ہیں، اللہ کی برائی، نافرمانی، بغاوت، شر و فساد پر ابھارتے ہیں۔ سورة یوسف میں ہے کہ، ”میں اپنے نفس کو بری الذمہ پاک صاف قرار نہیں دیتا، کیوں کہ نفس بعض اوقات گناہ پر ابھارتا ہے“۔ دوسرا نفس، نفس لوامہ ہے جس کا مطلب ہے جھنجھوڑنے والا، ملامت کرنے والا۔ جس شخص کے دل میں نفس لوامہ ہو اس میں خیر پائی جاتی ہے۔ انسان گناہ گار ہے، غلطی کا پتلا ہے، نفس ہی بندے کو گنا ہ پر ابھارتا ہے اور نفس لوامہ پھر اس بندے کو ملامت کرتا ہے، جھنجھوڑتا ہے، سرزنش کرتا ہے۔ نفس لوامہ کو آپ اپنی زبان میں ضمیر کہتے ہے کہ فلاں کا تو ضمیر ہی مردہ ہے۔ قرآن میں بھی نفس لوامہ کی قسم کھائی گئی ہے۔

تیسرا نفس مطمئنہ ہے، یہ ہر لحاظ سے مطمئن اور پرسکون رہتا ہے۔ جس شخص کے اندر نفس مطمئنہ پایا گیا وہ کامیاب اور کامران ہے۔ اسے رب کی طرف سے یہ بشارت سنائی جائے گی کہ اپنے رب کی طرف سے راضی اور خوش و خرم ہو کر پلٹ جا اور میرے بندے کے اندر داخل ہو اور جنت میں چلی جا۔ اگر نفس لوامہ جاگ رہا ہے تو اس بندے کی خیر ہے، کامیابی و کامرانی کی امید کی جا سکتی ہے لیکن اگر نفس مطمئنہ اور نفس لوامہ سے آدمی کا سینہ خالی ہو جائے تو وہ ناکام و نامراد ہے۔ اس وقت امت مسلمہ کا المیہ ہے کہ مسلمانوں کی غیرت و حمیت کا تقریباً جنازہ نکل چکا ہے۔ افسوس ناک طور پر اس میں ہمارے میڈیا کا بھی بڑا کردار ہے۔

قرآن پاک میں حضرت آدم و حوا علیہم السلام کو کہا گیا کہ جہاں سے مرضی کھاﺅ کوئی پابندی نہیں مگر ایک پودے کے قریب نہ جاﺅ۔ لیکن ابلیس نے کہا کہ یہی اس ایک پودے سے کھاﺅ، قسمیں کھا کھا کر دونوں کو قائل کرتا رہا، اپنی ہمددری جتلاتا رہا۔ جونہی وہ پودا کھایا تو سب سے پہلے دونوں سے جنت کا لباس اتر گیا۔ بے لباس ہونا رب کی پابندی توڑنے کا پہلا نتیجہ تھا۔ افسوس ناک طور پر ان دنوں فحاشی کے مواقع بہت زیادہ میسر کر دیے گئے ہیں۔ اس وقت ہمارے علمائے کرام، اہل دانش پریشان ہیں۔ اپنی طرف سے بہت کوشش کرتے ہیں کہ عریانی و فحاشی کو ختم کردیا جائے۔ اختیار رکھنے والے اور اختیار نہ رکھنے والے سبھی پریشان ہیں۔ بے حیائی و عریانی کا اتنا بڑا سیلاب ہے کہ حکومتیں بھی بند نہیں باندھ سکتیں۔

حیاءغیرت و حمیت کا نام ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ایک آدمی اپنے بھائی کو نصیحت و سرزنش کر رہا تھا کہ تو بہت شرمیلا ہے، شرم و حیا والا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پاس سے گزرے اور فرمایا کہ تو رہنے دے، اگر یہ شرم و حیاءوالا ہے، شریف النفس ہے تو رہنے دے، کیوں کہ شرم و حیاءایمان کا حصہ ہے۔ آج ہمارے معاشرتی ماحول نے اور مرد و زن کے اختلاط نے غیرت وحمیت کا جنازہ نکال دیا۔ نفس لوامہ نے توبہ سے روکنا تھا لیکن وہ ہم میں نہ رہی۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایمان اور حیاءکا ایک دوسرے کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے، یہ ایک دوسرے کے ساتھ نتھی ہیں۔ حیاءختم تو ایمان بھی گیا۔ حیاءاور غیرت گناہوں میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ دوسری اہم چیز نماز ہے، جو گناہوں سے روکتی ہے، بندے اور گناہ کے درمیان رکاوٹ کھڑی کر دیتی ہے۔ مگر آج ہم نماز کی پابندی نہیں کرتے۔

سورة نساءمیں اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ، ”شراب، جوا، بت پرستی اور علم نجوم (ستاروں کے ذریعے، ہاتھوں کی لکیروں کے ذریعے قسمت معلوم کرنا) ان چاروں چیزوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ پلید ہیں، نجس ہیں۔ ان سے بچو ان سے دور رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاﺅ۔ شیطان چاہتا ہے کہ معاشرے میں، باپ بیٹے میں، ماں بیٹی میں، بھائی بھائی میں بغض ڈال دے، دشمنی ڈال دے۔ شراب اور جوئے کے ذریعے شیطان نماز سے بھی روکنا چاہتا ہے اور بغض، حسد و کینہ پیدا کرتا ہے۔ اس وقت ہمارے معاشرے میں یہ دو چیزیں بہت زیادہ ہو چکی ہیں۔ میرا مشاہدہ ہے کہ پانچ وقت کے نمازی بھی جوا اور سٹہ کھیلتے ہیں۔ دراصل یہ جوئے کے ذریعے آسانی سے رقم حاصل کرنا چاہتے ہیں، بغیر کسی محنت کے۔ اس وقت جوئے کی بیسوں نہیں سیکڑوں شکلیں نکل آئی ہیں، اللہ ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔

ہمیں اپنے اعمال کی حفاظت کے لیے دو چیزوں سر اور پیٹ کی نگرانی کرنی ہوگی۔ اپنے دماغ کی حفاظت کریں، جو کچھ اس میں ہے اس کی نگرانی کریں۔ دوسری چیز پیٹ ہے، اس کی نگرانی کریں، حرام کا لقمہ اس پیٹ میں نہ جائے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موت کو کثرت سے یاد کیا کرو، اگر کثرت سے یاد رکھا جائے تو پیٹ کی بھی حفاظت ہو جائے گی اور سر کی بھی۔ نفس کی جانب جانے کے لیے اللہ نے دو راستے بنائے ہیں، وہ آنکھ اور کان ہیں۔ جب کہ نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے زبان۔ یہ زبان دل کی ترجمان ہے، اسی لیے اللہ کے رسولﷺ اس کی بہت زیادہ حفاظت کیا کرتے تھے۔ آج حال یہ ہے کہ اکثریت بے حیائی و عریانی کی دلدادہ ہو چکی ہے۔ ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ حیاءو غیرت بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کے شر سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

Facebook Comments