بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مزید دس ہزار فوجی داخل کردیے ہیں،کشمیر میں طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کی پروازیں کی جارہی ہیں، پوری وادی میں جنگ کا ماحول بنادیاگیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے اب تک صرف بیانات کے ذریعے عزائم کا اظہار کیا گیا ہے لیکن مقبوضہ وادی میں فوج اتارنے یا مجاہدین کی عملی مدد والا کوئی کام نہیں کیا گیا بلکہ الٹاجماعت الدعوة اور فلاح انسانیت پر پابندی لگا کر بھارت کو خوش کیا گیا اور پلوامہ حملے کی تحقیقات کی یکطرفہ پیشکش کرکے پاکستان کی پوزیشن کو متنازع بنایا جارہاہے۔ بھارت کا حال یہ ہے کہ کشمیریوں پر مظالم کو بے نقاب کرنے پر بھارتی حکومت نے ایمنسٹی اور گرین پیس نامی تنظیموں پر پابندی لگادی ہے۔ بھارت کے اقدامات اور رویوں کے تضاد کو دو رخی اور دوغلا پن کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ مودی کا کہناہے کہ ہماری لڑائی کشمیریوں سے نہیں کشمیر کے لیے ہے لیکن پلوامہ حملے کا سفارتی اور تجارتی جواب مزید دس ہزار فوج اتار کر دیا جارہاہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے بھارتی حکومت کو نپے تلے انداز میں بھر پور جواب دیتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ امن ترجیح جنگ نہیں لیکن جنگ مسلط کرنے پرآخری گولی تک بھر پور جواب دیا جائے گا۔ بھارت جارحیت پر آمادہ ہے تواس کی جارحیت خود اسی کے لیے عذاب بنادی جائے گی۔

بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے، ووٹروں کی تعداد کے لحاظ سے یہ بات ٹھیک ہو سکتی ہے مگر بی جے پی جیسی جماعت کا برسر اقتدار آنا ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کے سیاسی نظام میں ایسے گروہ اور نظریات طاقت پکڑ چکے ہیں جو فکری اعتبار سے جمہوری نہیں بلکہ فاشسٹ سوچ رکھتے ہیں۔ نریندر مودی نے اپنی شعلہ بیانی اور غیر ذمہ دارانہ طرز عمل سے خطے کو جنگ کے کنارے پہنچا دیا ہے، جب کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت مسلسل یہ پیغامات دیتی رہی ہے کہ نئے عالمی حالات میں تنازعات کا حل جنگ سے نہیں بلکہ پرامن ذرائع سے برآمد کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی ریاستیں ہیں، ایٹمی ہتھیار رکھنا اور پھر جنگ کے دوران ان کا استعمال ایک بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔ ہتھیاروں اور عددی اعتبار سے بھارتی فوج کا حجم پاکستانی فوج سے کہیں بڑا ہے۔

پاکستان نے حجم کے اس فرق کو صلاحیت کے موازنے میں تول کر اپنا میزائل اور ایٹمی پروگرام ترتیب دیا ہے۔ جنگ کی صورت میں دونوں ملک ایک دوسرے کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں۔ ایسا ہوا تو ڈیڑھ ارب کی آبادی ملیا میٹ ہو سکتی ہے جب کہ دوسرا راستہ امن کا ہے۔ بھارت میں کروڑوں افراد بے گھری اور غربت کی زندگی گزار رہے ہیں، پاکستان میں بھی کروڑوں افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، دونوں ملکوں کی قیادت اگر فیصلہ کر لے کہ انہوں نے جنگ کے بجائے وسائل اپنے عوام کی بہبود اور معیار زندگی کو بلند کرنے پر خرچ کرنا ہیں تو پورا خطہ ترقی، امن اور خوشحالی سے آسودہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے پلوامہ حملے کے بعد بھی بھارت کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور ساتھ ہی واضح کیا کہ بھارت کو بلا ثبوت ایسے واقعات کی ذمے داری پاکستان پر عائد نہیں کرنا چاہیے۔

عالمی برادری اس امر سے واقف ہے کہ بھارت کشمیری عوام پر جس طرح ظلم کر رہا ہے اس کا ردعمل بھی ضرور آئے گا۔ نریندر مودی اگر دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مقبوضہ کشمیر میں جاری ریاستی دہشت گردی کے خاتمے پر بھی بات کرنا ہو گی۔ بات چیت کے لیے یکطرفہ ایجنڈا کبھی کارآمد ثابت نہیں ہوتا لہٰذا نریندر مودی کو کشمیریوں پر حملے بند کرانے اور مذاکرات کا ٹائم فریم دے کر ماحول کو تناﺅ سے نکالنے پر توجہ دینا ہوگی۔ سنجیدہ رویوں سے ہی خطے میں امن کے ساتھ خوشحالی لائی جاسکتی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ جنگیں تباہی لاتی ہیں اور ان سے بچنا چاہیے، لیکن جس قسم کے بیانات دیے جارہے ہیں اقدامات اس سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ایسا لگتا ہے کہ دونوں جانب کی قیادت کشمیر یا کشمیریوں کے بارے میں سنجیدہ نہیں، کشیدہ حالات پیدا کرنے کے بعد مذاکرات، دوستی اور تعلقات معمول پر لانے کے بیانات بھی معمول بن گئے ہیں۔ پاک بھارت حکمرانوں کا طرز عمل جاننے والا کوئی بھی شخص پیش گوئی کرسکتا ہے کہ معاملہ کیا ہے اور کیا ہونے جارہاہے۔ بھارت کشمیرکے حوالے سے اپنے دعوے پراٹل ہے، وہ کبھی کشمیر نہیں چھوڑنا چاہے گا۔ پاکستان حکمران ضرور ڈیل و ڈھیل کی کوشش کرتے رہیں گے۔ دنیا دو ایٹمی قوت کے حامل ممالک کے غیرسنجیدہ رویے پر پریشان ہے، سفارتی سطح پردونوں ملک اپنی حکمت عملی میں کا میاب، مگر دونوں ممالک کا غریب آدمی ناکام ہے، اس خطے کا اصل دشمن تو جہالت، غربت اور شدت پسندی ہے مگر کسی کو ان دشمنوں سے جنگ کرنے کی فرصت نہیں ہے۔ ایٹمی ممالک ایک دوسرے کو تباہ کرسکتے ہیں، ان کے درمیان جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے صرف امن ہونا چاہیے، اسی میں دونوں ممالک کے ساتھ خطے کی بقا ہے۔

Facebook Comments