دوسالوں سے وہ شدید ترین کرب میں مبتلا تھی۔ نہ اس کی راتیں بے آہ تھیں نہ اس کے دن کرب سے خالی تھے۔ آنسووں کا ایک سمندر بے کراں تھا جو تھمتا تھا نہ رکتا تھا۔ جس کا کوئی ساحل تھا نہ کنارا تھا۔ سائیکیٹرسٹ بھی اس پر اپنی محنتیں صرف کرچکے تھے۔ دوست بھی اس پر محبتیں نچھاور کررہے تھے۔ شوہر اور والدین بھی اپنی سی کوششیں کرتے تھے لیکن نتیجہ برآمد نہیں ہوتا تھا۔ اس ہفتے وہ ہماری گھر آئی۔ چہرے پر دنیا بھر کا سکون رقم تھا۔ خوش باش مطمئن اورپرسکون ! باتوں ہی باتوں میں کہنے لگی۔

”مریم، میں نے صحیح بخاری میں ایک حدیث پڑھی ہے“۔ ”کون سی حدیث؟“ میں نے پوچھا۔ بولی، نبیﷺ نے فرمایا، ”جو شخص رات کو بیدار ہو اور (بیدار ہوتے ہی ) یہ کلمات ادا کرے، اے اللہ مجھے معاف کردے یا وہ کوئی دعا کرے، تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے۔ پھر اگر وہ وضو کرلے اور نماز پڑھ لے تو اس سے قبول کیا جاتا ہے“۔ (صحیح البخاری، کتاب التہجد)

”میں نے اس حدیث پر عمل کا ارادہ کیا۔ میں رات کو سوئی تواٹھتے ساتھ ہی بیدار ہوتے ہی یہ کلمات ادا کیے۔ پھر اپنی تمام تر مشکلات اس کے سامنے رکھ دیں، مجھے لگا مجھے سن لیا گیا ہے۔ پھر میں نے وضو کیا اور نماز پڑھی مجھے محسوس ہوا ہر چیز قبول ہوتی جارہی ہے۔ مریم کیا تم یقین کرو گی کہ ایک دعا تو میری اسی روز ہی قبول ہوگئی“۔

”سبحان اللہ! کیا تھی وہ دعا“، بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔ ”میرے شوہر فجر کی نماز کے لیے مسجد نہیں جاتے تھے، گھر میں ہی ادا کرتے تھے۔ سسر بھی نو بجے اٹھ کر نماز پڑھتے تھے اور مجھے اپنے رسول اللہﷺ کی حدیث یاد آتی تھی۔ انہوں نے فرمایا تھا، ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے کئی مرتبہ ارادہ کیا کہ لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں اور ساتھ ہی نماز کے لیے اذان کہنے کا حکم دوں پھر کسی آدمی کو نماز کے لیے لوگوں کا امام مقرر کردوں اور خود ان لوگوں کے گھروں کو جاکر آگ لگادوں جو جماعت میں شریک نہیں ہوتے“۔ (بخاری)

مریم میرے دماغ میں گونجتا رہتا تھا۔ ”ان گھروں کو آگ لگادوں اور میں سوچتی تھی کیا یہ وعید اس گھر کے لیے بھی ہے جہاں میرے شب و روز بسر ہوتے ہیں۔ چنانچہ میں نے اس رات یہ دعا بھی کی کہ اللہ اس گھر کے مردوں کو مسجد میں نماز کی توفیق عطا کردے۔ کیا تم یقین کرو گی کہ اس صبح میرے کہے بغیر میرے شوہر خود اٹھے، نچلے پورشن سے میرے سسر خود اٹھے اور جاکر مسجد میں نماز ادا کرکے آئے۔ اس روز کے بعد سے آج تک یہی معمول ہے۔ فجر کی نماز نہ قضا ہوتی ہے نہ گھر میں ہوتی ہے۔ وہ وقت پر باجماعت مسجد میں ادا کی جاتی ہے“۔ بغیر تمہارے کہے؟ ہاں میں انہیں کہتی رہتی تھی لیکن وہ ہوں ہاں کرکے فارغ ہوجاتے تھے۔ اس رات نہ جگایا تھا نہ کہا تھا۔ خود ہی چلے گئے۔ سسر بھی بغیر کہے؟ میں حیرت سے تقریبا چلائی۔

ہاں بغیر کہے اور بغیر کسی ظاہری و بیرونی محرک کے۔ اللہ اللہ! فرط جذبات سے میرے جسم کے رونگٹے کھڑے ہونے لگے۔ میں اب بھی ہر رات کو اٹھتی ہوں اور ان کلمات کو ادا کرتی ہوں اور دنیا وآخرت کا ہر غم اس کے آگے پیش کردیتی ہوں۔ قسم اللہ کی، اس رات سے سکون میں ہوں۔ کوئی غم ہے نہ پریشانی۔ فکر ہے نہ فاقہ۔ یقین ہے کہ رحم کرنے والا رب ہر دعا کو شرف قبولیت سے نواز دے گا۔ ہر تمنا کی لاج رکھ لے گا اور اپنے فضل سے بے حد نواز دے گا۔ میری آنکھیں نم ہونے لگیں اور جانے کیوں۔ بے اختیار مجھے اس پر رشک آنے لگا۔

Facebook Comments