قرۃ العین حیدر 20 جنوری، 1927ء میں اتر پردیش کے شہر علی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد سجاد حیدر یلدرم اردو کے پہلے افسانہ نگار شمار کیے جاتے ہیں جبکہ والدہ نذر سجاد بھی ناول نگار تھیں۔ تقسیم ہند کے بعد قرت العین حیدر کا خاندان پاکستان چلا گیا۔ لیکن بعد میں انہوں نے بھارت  آ کر رہنے کا فیصلہ کیا۔

قرۃ العین حیدر نے کونونٹ اسکول، پھر ’’ازابلاتھو برن کالج‘ ‘اور ’’لکھنؤ یونیورسٹی‘‘ سے تعلیمی سفر مکمل کیا۔ انگریزی میں ماسٹرز کرنے کے علاوہ’ ’گورنمنٹ اسکول آف آرٹس، لکھنو‘‘  اور ’’ہیڈمیز اسکول آف آرٹس، لندن‘‘ سے مصوری کی تعلیم بھی حاصل کی۔ مختلف امریکی جامعات سمیت علی گڑھ یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے بطورِ مہمان پروفیسر وابستہ رہیں۔11  سال کی عمر سے ہی کہانیاں لکھنے والی قرۃالعین حیدر کو اردو ادب کی ورجینا وولف کہا جاتا ہے۔ 

قرۃ العین حیدر کے تخلیقی کام میں سب سے زیادہ شہرت، انہیں ناول نگاری میں ہی ملی، ویسے وہ ادب تخلیق کرنے کے علاوہ صحافت، فلم اور مصوری کے شعبے سے بھی وابستہ رہیں۔ پاکستانی جریدے ’’پاکستان کوارٹرلی‘‘ کی قائم مقام مُدیر رہنے کے علاوہ ہندوستان میں معروف ہفتہ وار انگریزی جریدے ’’السٹریٹیڈ ویکلی آف انڈیا‘‘کی معاون مدیر ہوئیں، جبکہ اِس سے پہلے وہ ایک انگریزی جریدے ’’امپرنٹ‘‘ کی مُدیر اعلیٰ بھی تھیں۔

قرۃ العین حیدر نے اپنی زندگی کی پہلی کہانی 6 برس کی عمر میں لکھی، جو شائع نہ ہوسکی۔ بچوں کے اخبار ’’پھول‘‘ میں پہلی بار کہانی اشاعت پذیر ہوئی، اُس وقت اُن کی عمر صرف 13 برس تھی۔ اُنہوں نے کل آٹھ ناول لکھے،جن میں’ ’میرے بھی صنم خانے‘‘ ، ’’سفینہ غم دل‘‘،  ’’آگ کا دریا‘‘، ’’آخر شب کے ہمسفر‘‘، ’’کار جہاں دراز ہے‘‘، ’’گردش رنگ چمن‘‘، ’’چاندنی بیگم‘‘، ’’ شاہراہِ حریر‘‘ شامل ہیں۔ ان کا ناول کار جہاں دراز ، تین حصوں پر مشتمل اور سوانحی ناول ہے جس میں انہوں نے اپنی زندگی کے کئی ذاتی گوشوں پر بھی تفصیل سے بات کی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے چارناولٹ، اور کئی افسانے لکھے، کچھ مغربی کتابوں کے تراجم بھی کیے اور رپورتاژ بھی لکھیں۔

قرۃ العین حیدر کے ناول ہوں، ناولٹ ہوں یا افسانے پڑھنے والے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں ، اردو زبان کے 10 بڑے ناولوں میں سے ایک ناول’ ’آگ کا دریا‘‘ کو مانا جاتا ہے، انہوں نے یہ ناول پاکستان میں قیام کے دوران لکھا تھا۔ اِس ناول کو دنیائے ادب میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی، اور بعد میں انہوں نے خود اِس ناول کا انگریزی ترجمہ بھی کیا۔ یہ ناول اپنی موضوعاتی وسعت، پھیلاﺅ اور برتاﺅ کے اعتبار سے خاصا پیچیدہ اور متنوع ہے۔ اس ناول میں اُسلوب کی ہمہ گیر صفات اور زمان و مکاں کے تاریخی،ثقافتی اور تہذیبی مظاہر ناول نگاری کے نئے جہانوں کا بلیغ اشاریہ پیش کرتے ہیں۔ قرة العین حیدر کا یہ ناول ہندوستان کی ڈھائی ہزار سالہ سماجی تاریخ کو اس کے ممکنہ مثبت اور منفی پہلوﺅں کے ساتھ اس طرح پیش کرتا ہے کہ اُس کے تمام محرکات اور مضمرات مجسم ہو کر ہمارے سامنے آ جاتے ہیں۔”آگ کا دریا“ ناول کی روایتی حد بندیوں کو توڑ کر اس صنف کی تخلیقی اور تکنیکی وسعتوں کو بھی سامنے لاتا ہے۔

  قرۃ العین حیدر 21 اگست، 2007ء کو دہلی میں طویل علالت کے بعد خالق حقیقی سے جاملیں۔ قرة العین حیدر ہمارے عہد کی وہ جدید فکشن نگار تھیں جن پر اردو ادب ہمیشہ ناز کرتا رہے گا۔ قرة العین حیدر اور ان جیسی تخلیقی صفات و کمالات رکھنے والی شخصیت کسی بھی زبان اور کسی بھی عہد میں صدیوں میں جنم لیتی ہیں۔

Facebook Comments