آج کل کے جدید دور میں جہاں تعلیم ضروری ہے وہاں تربیت بھی ضروری ہے۔تعلیم وہ ہے جو کتاب میں لکھی ہے۔استاد نے پڑھایا ، بچے نے یاد کیا ، امتحانی پرچے میں لکھا ،پاس یا فیل ٹھہرا۔ڈگری ہاتھ میں آئی جس کے ذریعے نے زندگی میں روزی کمانی ہے۔جب کہ تربیت لکھی،پڑھی ،پڑھائی یا بتائی نہیں جاتی ہے بلکہ یہ ایک عملی رویہ ہے بچوں کی زندگیاں والدین کے گرد گھومتی ہیں بچہ ہر معاملے میں ان کا محتاج نظر آتا ہے اپنی زندگی کا ہر مشورہ اور فیصلہ اپنے ماں باپ کی مرضی سے کرتے ہیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ تعلیم کے بغیر دنیا میں رہنا بہت مشکل ہے۔جونہی بچہ تین سال کا ہوتا ہے والدین کو اس کی تعلیم کی فکر ہو جاتی ہے۔بچوں کو بہترین تعلیم دینے کے لیے اچھے سے اچھے اسکول کا انتخاب کرتے ہیں۔بہترین کتابیں خرید کر دی جاتی ہیں۔پھر سالانہ امتحانات کی رپورٹ گھور گھور کر دیکھی جاتی ہے۔ اگر ایک نمبر بھی کم ہوا تو پوچھ گچھ کی جاتی ہے لیکن کیا اس کے ساتھ ہم بچوں کی تربیت میں بھی اتنی تردد کرتے ہیں۔

یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کی تربیت نہیں کر رہے بلکہ وہ صرف تعلیم دینے پر زور دے رہے ہیں کہ ان کا بچہ کسی اچھی فیلڈ میں جا کر ان کا نام روشن کرے۔ہم جیسے تعلیم کہتے ہیں وہ صرف اور صرف روزگار کے حصول کا ذریعہ بن گئی ہے جب کہ تربیت وہ شے ہے جو صرف روزگار کی جگہ ہی نہیں معاشرے میں، گھر میں، سڑک پر، بیگانوں کے ساتھ معاملات طے کرنے میں کام آتی ہے بغیر تربیت کے تعلیم تو اتنی ادھوری شے ہے کہ وہ آپ کو مکمل طور پر روزگار کے قابل نہیں بنا سکتی ہے۔فرض کیا آپ کو نوکری مل گئی ہے مگر جب آپ کام ایمانداری سے نہیں کرے گے تو آپ کی نوکری برقرار نہیں رہے گی۔

اولاد کی صحیح تربیت والدین پر فرض ہے۔بچے وہی سیکھتے ہیں جو اس کے آس پاس ہوتا ہے اگر والدین خود نیک ہو گے تو بچوں کی تربیت بھی اچھے سے کر سکیں گے۔نیک اولاد نہ صرف دنیا میں فائدہ دیتی ہے بلکہ آپ کے دنیا سے جانے کا بعد صدقہ جاریہ بھی بنتی ہے۔مشہور قول ہے ”جو باپ اپنے بچوں کو ادب سکھاتا ہے وہ اپنے دشمن کو نیست و نابود کرتا ہے“۔ کیوں کہ جب بچہ ادب سیکھ جاتا ہے تو دولت ،شہرت ،اور عزت سب حاصل کر لیتا ہے۔اگر آپ خود بچوں کے سامنے جھوٹ بولیں گے تو بچے بھی وہی سکھیں گے ایک طرف تو ہم بچو ںکو کہتے ہیں کہ ”سچ بولنا اچھی بات ہے“ اور اسی پلاگر ہمارے گھر پر کوئی دستک دیتا ہے وہ امی یا ابو کا پوچھتا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ ”جاو اور کہہ دو ابو گھر پر نہیں ہیں“۔  بچے کی اچھی تربیت کرنے کے لیے ہمارا خود کا اچھا ہونا ضروری ہے۔انسانوں سے محبت کرنا ،ان کے درد کو اپنا درد سمجھنا ان کی خوشی میں خوش ہونا بچہ حقوق العباد صرف اس وقت سیکھ سکے گا جب والدین خود سیکھیں گے۔

ایک دانشور نے کہا ہے ”یتیم وہ بچہ نہیں جن کے والدین دنیا سے چلے گئے بلکہ اصل یتیم تو وہ ہے جن کی ماوں کو تربیت اولاد میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور باپ کے پاس انہیں دینے کے لیے ٹائم نہیں ہے“۔والدین بچوں کی تربیت سکول و کالج کی ذمہ داری نہ سمجھیں بلکہ اپنی نگرانی میں اولاد کی شخصیت سازی کریں۔بچے کی تعلیم کی ذمہ داری تو کسی پر چھوڑی جا سکتی ہے مگر تربیت ہمیں خود کرنی ہوگی۔آج کل کے دور میں تعلیم اور تربیت دونوں ہی ضروری ہیں کیونکہ اچھی تعلیم و تربیت سے بچے میں خود اعتمادی پیدا ہو گی جو اس کو زندگی میں مشکلا ت سے سامنے کرنے میں آسانی ہو گی۔

Facebook Comments