احمد ندیم قاسمی ایک عظیم شاعر  اور بے حد معروف، بلند مرتبہ ادیب ۔ اُن کی غزلوں، نظموں، نعتوں، قومی و ملی نغموں، افسانوں، ناولٹ، شخصی خاکوں، فکاہی، ادبی و معاشرتی کالموں، بچوں کا ادب (نظمیں، کہانیاں، ڈرامے)، تبصروں، مختلف نوعیت کے مضامین، انٹرویوز، اداریوں، ادارتوں کو اُردو ادب میں منفرد حیثیت اور اعلی مقام حاصل ہے۔احمد ندیم قاسمی (20 نومبر 1916ء تا 10 جولائی 2006ء) ترقی پسند تحریک سے وابستہ نمایاں مصنفین میں شامل تھے اور اسی وجہ سے دو مرتبہ گرفتار کیے گئے۔ قاسمی صاحب نے طویل عمر پائی اور لگ بھگ نوّے سال کی عمر میں انھوں نے پچاس سے سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔انہوں نے’ ’فنون‘‘ کے نام سے ایک ادبی رسالہ جاری کیا جسے تاحیات پوری آب وتاب کے ساتھ نکالتے رہے۔

احمد ندیم قاسمی کے  فن پاروں کی بڑی پہچان اُن کی انسان دوستی، روشن خیالی اور نیک نیتی پر مبنی پُرخلوص، ہمدردانہ سچی تڑپ کی انفرادیت میں ہے۔ اُن کے یہاں احساس کی گہرائی اور مربوط و مستحکم فکر کی وسعت بھی ہے۔ یوں وہ نفیس احساس اور مضبوط افکار کا دلکش اور پرکشش سنگم، متاثر کن انداز میں سامنے لاتے ہیں۔ طرزِ ادا ایمائیت و اشاریت کے باوجود واضح ابلاغ کی حامل ہے۔ پُرتاثیر اندازِ بیان میں بے ساختگی، سادگی، روانی اور تازگی ہے۔ جبکہ جراتِ افکار و اظہار کی گہری معنویت نمایاں وصف ہے۔ ندیم مجموعی طور پر زندگی کی روشنی، عقل و دانش، جرات و صداقت اور اُمید و جستجو کے شاعر اور ادیب ہیں۔ اُن کی شاعری اور افسانوں میں موضوعات کا حیران کن اور بے مثال تنوع ہے۔ وہ سبھی انسانوں کے لیے خیر و خوبی کے خواہاں ہیں اور ہمیشہ مثبت امکان سے وابستہ رہتے ہیں۔

اُن کے فن میں جدت پسندی بھی ہے جب کہ مشرقیت و وطنیت کے رنگ بھی نمایاں ہیں۔ انسان اور اُس کی انسانیت سے محبت اُن کے فن پاروں کو عالمگیریت و آفاقیت دے دیتی ہے۔  ندیم کے الفاظ موقع کے مطابق ہیں اور اُن کے جرات مند، ہمدردانہ مزاج کے حامل مضبوط توانا لہجے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ انداز سچا، کھرا اور پراعتماد و پرتاثیر ہے۔ ندیم کے افسانوں میں بے حد گہرائی، سچائی، وقار اور تاثیر کو تسلیم کیا گیا ہے ۔ وہ قارئین کے لیے دلچسپی اور تجسس، کہانی کے آغاز سے اختتام تک نہایت خوبصورتی سے برقرار رکھتے ہیں۔ اور قاری کو لطف حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ سوچنے پر مائل کر لینے میں بھی کامیاب رہتے ہیں۔

میں مر بھی جاؤں تو تخلیق سے نہ باز آؤں

بنیں گے نِت نئے خاکے مِرے غبار سے بھی ندیمؔ

احمد ندیم قاسمی نے  پچاس سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ جن میں شاعری کے 11 مجموعے  اور افسانوں کے 17 مجموعے شامل ہیں۔ ایک ناولٹ بھی ہے، 2 کالموں کے مجموعے، 2 شخصی خاکوں کے مجموعے، جب کہ تنقید کی 5 کتب شائع ہوئیں۔ بچوں کے لیے 3 کتابیں، کلیات کی 3 کتابیں جب کہ 7 کتابوں کی ترتیب و تدوین کی۔ جب کہ ابھی بچوں کی نظمیں، پنجابی مجموعہء نظم و نثر، تنقیدی و تجزیاتی مضامین، مختلف کالموں اور خطوط پر مشتمل کتابیں زیرِ طبع ہیں۔افسانوی مجموعے: چوپال، بگولے، طلوع و غروب، گرداب،سیلاب،آنچل،آبلے،آس پاس،در ودیوار،سناٹا،بازار حیات،برگ حنا،گھر سے گھر تک،نیلا پتھر،کپاس کا پھول،کوہ پیما، پت جھڑ۔ شعری مجموعے: رم جھم، جلال وجمال،شعلۂ گل،دشت وفا،محیط،دوام،تہذیب وفن،دھڑکنیں،لوح خاک، ارض وسما، انور جمال۔
ندیم احمد قاسمی صاحب1973ء میں مجلسِ ترقی ادب کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے اور تا عمر عہدے پر فائز رہے۔ ندیم صاحب کا انتقال 10 جولائی 2006ء کو لاہور میں ہوا اور وہیں سپردِ خاک کیے گئے۔

Facebook Comments