امی یہ دادو کب جائیں گی واپس گاوں؟ فاریہ نے دودھ کا گلاس نفیسہ بیگم سے پکڑتے ہوئے آہستہ سے پوچھا۔ ”کیوں تم کیوں پوچھ رہی ہو“؟ انہوں نے بیٹی کو گھورا۔ تمہارے ابو کا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ وہ واپس جائیں اور میری بھی یہی رائے ہے۔ انہوں نے فاریہ کو تفصیل بتائی ”اور ہاں تم ان سے بات بے بات نہ الجھا کرو۔ بزرگ ہیں وہ، ادب و احترام لازم ہے ہم پر ان کا“۔ ”ادب و احترام تو میں کرتی ہوں۔ اچھی بھی بہت لگتی ہیں وہ مجھے پر ٹوکتی بہت ہیں۔ ہر بات میں اللہ رسول کی دہائی“۔ نفیسہ بیگم نے بیٹی کو گھورا تو اس نے کچن سے کھسکنے ہی میں عافیت جانی۔

فاریہ چائے کا کپ پکڑانا، صبح ناشتے پر دادی جان نے پیار سے فاریہ کو پکارا۔ اس نے بھی جلدی سے ادب کے ساتھ کپ پکڑانا چاہا لیکن دادی جان نے ناراضگی سے منہ پھیر لیا۔ ”اے ہے بائیں ہاتھ سے پکڑا رہی ہو پیالی، میں نے نہیں پکڑنی“۔ فاریہ حیرانی سے انہیں دیکھنے لگی۔ وہ تو ادب سے پیش آرہی تھی۔ پھر ان کو کیا ہوا؟”کیا کیا ہے میں نے“؟ اس نے حیرت سے پوچھا۔ ”بائیں ہاتھ سے پکڑاتے ہیں چیزیں یا دائیں سے“؟ وہ ابھی تک خفا تھیں۔ ”آپ نے چائے پکڑنی ہے میرے دائیں بائیں سے آپ کوکیا فرق پڑتا ہے“، وہ جھنجھلائی۔ ”ارے سنت طریقے سیکھو۔ ہم مسلمان ہیں، ہماری اپنی تہذیب، اپنا تشخص ہے۔ رات دیر تک کمپیوٹر کتابوں میں سر دیے بیٹھی رہیں۔ فجر کی نماز بھی نہیں پڑھی“۔ وہ مزید خفا ہوئیں۔

عشاءکی پڑھ کرسوئی تھی۔ صبح آنکھ دیر سے کھلی، کچھ شرمندگی سے اس نے اپنی صفائی پیش کی۔ ”نفیسہ کیا سکھا رہی ہو بیٹی کو۔ سسرال جا کر کیا کرے گی۔ نہ زردہ پکانا آتا ہے نہ نہاری“، انہوں نے تنقید کا ایک نیا باب کھولتے ہوئے بہو کو مخاطب کیا۔ سسرال والوں نے ایشین کھانوں کا ہوٹل چلاوانا ہے مجھ سے، وہ سوچ کر رہ گئی۔

نہ کھانا پکانا آتا ہے نہ سینا پرونا تم یونیورسٹی کرنے کیا جاتی ہو۔ ”آئی ٹی میں ماسٹرز کر رہی ہوں، ہوم اکنامکس میں نہیں‘‘۔ دادی جان کی مسلسل نکتہ چینی نے اسے زچ کر دیا تھا۔ نفیسہ بیگم نے بے بسی سے دادی پوتی کو دیکھا۔ وہ خود جس قدر خاموش طبیعت کی مالک تھیں یہ دونوں اتنا ہی بولتی تھیں۔ اگر اپنا موقف ان کو درست معلوم ہوتا تو دنیا کی کوئی طاقت ان کو خاموش نہیں کروا سکتی تھی۔

ہوں آٹی وایٹی انگریزوں کی نقالی، شیطانی چالیں، ابلیسی ہتھکنڈے“، دادی جان اب کہاں رکنے والی تھیں۔ جی نہیں، فریضہ حصول علم ، جس کے بدلے فلاح و کامیابی کے وعدے ہیں۔ اجر و ثواب کی امید ہے۔ اس نے مذہبی حوالے سے انہیں زیر کرنا چاہا۔ ”واہ بھئی واہ! میری بچی وہ علم دین کا علم ہے۔ قرآن وحدیث کا علم ہے، وہ جو لڑکے لڑکیاں اکھٹے آزادانہ ماحول میں انگریزی بول بول کر حاصل کرتے ہیں ناں ”علم“ اس پر ثواب تو کیا مجھے تو عذاب کا اندیشہ ہے، کیوں نفیسہ بیگم کیا تمہیں بھی نہیں معلوم کہ جہاں نامحرم لڑکے لڑکیاں آزادانہ ماحول میں ملیں گے وہاں لازمی شیطان موجود ہوگا۔ لعنت برسے گی“۔ وہ تنقید تو پہلے بھی کر رہی تھیں مگر اب انداز جارحانہ ہو چلا تھا۔

مخلوط نظام تعلیم کا حوالہ، اسے لگا دادی جان نے اس کے کردار پر انگلی اٹھائی ہے۔ اس پر عذاب کا موضوع اور لعنت جیسے الفاظ فاریہ جو اب تک اپنی غلطی جاننے کی کوشش میں تھی۔ بری طرح مشتعل ہو چکی تھی اور اب وہ کوئی ادھار رکھنے کے لیے تیار نہ تھی، ”قرآن پاک کی جو صبح شام تلاوت کرتی ہیں ناں آپ، ساری کی ساری مجہول۔ معانی و مطالب سراسر بدل جاتے ہیں اور یہ جو نمازیں پڑھتی ہیں، پہلی رکعت میں چولہے پہ رکھی ہنڈیا دل و دماغ میں بسی ہوتی ہے۔ دوسری میں گھر کی سیٹنگ تبدیل کرنے کے منصوبے، تیسری تک آتے آتے یاد نہیں رہتا فرض نیت کیے تھے یا سنتیں۔ میں اکیلی نہیں آنے والی عذاب کی زد میں آپ بھی کہیں ساتھ ہی ہوں گی میرے“۔ چائے کی پیالی سے بات کہاں سے کہاں جا پہنچی تھی۔ ”نہ ادب نہ تمیز“، دادی جان غم و غصے سے کانپ رہی تھیں۔

نفیسہ بیگم کو اور تو کچھ سمجھ نہ آیا، فاریہ کا بازو پکڑ کر اسے گھسیٹتی باہر لے آئیں۔ ”کس طرح پیش آرہی ہو تم؟“ انہوں نے اسے سختی سے گھورا۔ ”دیر ہو رہی ہے تمہیں، یونیورسٹی جاو اب“۔ وہ اسے منظر سے ہٹانا چاہتی تھیں۔ اگر یہ یونیورسٹی جانا شیطانی جال میں جکڑے جانا ہے تو میں نہیں جاتی یونیورسٹی۔ دادی جان کے جملوں نے اسے دلی تکلیف پہنچائی تھی۔ خاموشی سے یونیورسٹی جاو¿، اس کے سوال کا جواب ان کے پاس نہیں تھا۔ فاریہ نے بوجھل دل کے ساتھ بیگ اٹھایا اور دروازے سے قدم باہر رکھ دیا۔ وہ سڑک سے بالکل ایک طرف کنارے کنارے چل رہی تھی۔

لڑکے لڑکیوں کا اکھٹے آزادانہ ماحول میں انگریزی بولنا، شیطان کا ساتھ۔ اللہ کی لعنت دادی جان کے جملے اس کے کانوں سے ٹکرائے۔ مجھے تو پراجیکٹس اور اسائنمنٹس سے ہی فرصت نہیں ہوتی ان لڑکوں سے میرا کیا لینا دینا۔ اس نے ناپسندیدگی سے سر جھٹکا۔ آٹی وایٹی شیطانی چالیں، ابلیسی ہتھکنڈے۔ دادی جان کے الفاظ ہتھوڑے کی مانند اس کے دل و دماغ پر پڑ رہے تھے۔

ابھی کل ہی تو وہ غیر مسلم سکالر ٹموتھی فیرس کی تصنیف کمنگ آف ایج ان دی ملکی وے میں سے یہ حقائق پڑھ کر بہت پرجوش ہو رہی تھی اور خواہش کر رہی تھی کہ اپنے اسلاف کی مانند وہ بھی سائنس کے میدان میں کچھ خاص کرسکے۔ ٹموتھی فیرس لکھتی ہیں، ”سائنس کی ترقی اسلام کے دامن میں ممکن ہوئی۔ قرآن ”تفکر“ کی مشق یعنی فطرت کا مطالعہ اور ”تسخیر“ یعنی فطرت پر عبور حاصل کرنے کی بہت حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں مسلمان اسکالروں نے گراں قدر مطالعات کیے اور یونانی سائنس اور فلاسفی کی درجہ بندی کر کے مغرب میں متعارف کرایا۔ مسلمان فلکیاتی محققین نے ستاروں کے نام رکھے۔ اسی طرح ”الجبرا“ کا نام الجبران نامی مسلم سائنس دان نے تجویز کیا“۔

وہ سوچنے لگی یہ ہمارا دین اسلام ہی ہے جو تحقیق و جستجو اور علم کی نئی سے نئی راہوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے وگرنہ کون نہیں جانتا کہ اسلام سے پہلے یہود و نصاری کی تاریخ سائنس کا نام لینے والوں اور تحقیق و جستجو کرنے والوں کے خون سے رنگی ہوئی ہے۔ لیکن پھر ہم بھی تو علم و آگہی کے دروازے خود پر بند کر کے ظلم عظیم کے مرتکب ہوئے۔ اس کی ذہنی رو شیخ محمد اکرام کی کتاب ”موج کوثر“ میں تحریر کردہ اس امر واقع کی طرف مڑ گئی تھی۔ وہ لکھتے ہیں، ”اٹھارویں صدی کے آخر میں جب نپولین نے مصر پر حملہ کیا تو مراد بک نے جامعہ الازہرکے علماءکو جمع کر کے ان سے مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہیے۔ علماءالازہر نے متفقہ طور پر یہ رائے دی کہ جامعہ الازہر میں صحیح بخاری کا ختم شروع کر دینا چاہیے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا لیکن ابھی ختم پورا نہیں ہوا تھا کہ نپولین کی فوج نے مصری حکومت کا خاتمہ کر دیا“۔
یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا

اس نے تلخی سے سوچا۔ دادی جان آئی ٹی نہیں سیکھتے ہم ہندوستان اور اسرائیل کو اس میدان کا بے تاج بادشاہ بنے رہنے دیتے ہیں۔ بس جائے نمازوں پر کھڑے شام و فلسطین اور کشمیری مسلمانوں کا تماشہ دیکھتے ہیں۔ علم کا حصول باعث اجر وثواب ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی تو ہماری میراث ہے۔ لڑکے لڑکیاں اکھٹے آئی ٹی انگریزی، شیطانی چالیں۔۔ علم، عمل، عذاب، ثواب اس کی سوچیں بے نتیجہ چہار جانب بکھر گئیں۔ اسے لگا خوفناک چہروں والے عذاب کے فرشتے بڑے بڑے ہنٹر لیے اسے ڈھونڈ رہے ہیں اور دادی جان انہیں اس کا پتہ بتا رہی ہیں۔ اضطراب و بے قراری میں اس کے دل سے دعا نکلی اور لبوں پر مچلنے لگی۔ ”یا رب العالمین مجھے سیدھی راہ دکھا ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا، ان لوگوں کی نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کی“، آنسو ڈھلک کرپلکوں کا بند توڑ رہے تھے۔ اسے خبر بھی نہ ہوئی کہ کس طرح تمام راستہ طے کر کے وہ یو نیورسٹی کے گیٹ تک آن پہنچی تھی۔ اس نے ہتھیلیوں سے رگڑ کر آنکھیں صاف کیں اور یونیورسٹی کے احاطے میں قدم رکھ دیا۔ حدت بکھیرتے سورج کے سامنے کہیں سے ایک بدلی آن نمودار ہوئی اور جس تپش کا سامنا اسے راستے بھر رہا تھا وہ اسے اپنی اوٹ میں لے چکی تھی۔

نفیسہ بیگم نے میز سے برتن اٹھاتے ہوئے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔ دادی پوتی کے بحث نما جھگڑے نے گھر کی فضا کو مکدر کر دیا تھا اور ایسے مباحثوں سے تو وہ سخت گھبراتی تھیں۔ جذبات کی شدت میں انسان جانے کیا سے کیا بول جاتا ہے۔ وہ سب بھی جو دنیا اور آخرت میں خسارے کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے جھر جھری لی، برتن دھونے اور گھر کی صفائی کے دوران بھی ان کی سوچیں اسی جھگڑے کے گرد گھومتی رہیں۔ فاریہ کے دل میں دادی جان کے لیے ادب و احترام کے جذبات ہیں۔ دادی بھی اس سے محبت کرتی ہیں۔ پھر یہ دونوں لڑنے کیوں لگتی ہیں۔ جنریشن گیپ یا پھر کیا؟ اس الجھن کو سلجھانے میں ان کا اپنا ذہن بری طرح الجھ رہا تھا۔ کام ختم کر کے وہ نڈھال سی صوفے پر ڈھے گئیں۔ جب ان کی سوچیں کوئی حل نہ نکال سکیں تو وہ بے بسی کے عالم میں دعا مانگنے لگیں، ”یا اللہ ہمارے دلوں میں الفت ڈال دے اور ہماری باہم اصلاح فرما۔ ہمیں سلامتی کے راستے دکھا۔ ہمیں اندھیروں سے روشنیوں کی طرف نجات عطا کر، آمین یا رب العالمین“۔ خلوص دل سے دعا مانگتے ہوئے ان کی نظرقریب ہی میز پر پڑے ہوئے لفافے پر پڑی۔ یہ کسی درس میں شمولیت کا دعوت نامہ تھا۔ انہوں نے گھڑی پر نگاہ ڈالی۔ درس شروع ہونے میں ابھی کچھ وقت تھا۔ گھر کی بوجھل فضا میں ان کا دل نہیں لگ رہا تھا۔ انہوں نے درس میں جانے کا فیصلہ کیا۔ باہر چمن میں ہولے سے ہوا چلی اور گلاب کی خوشبو سے فضا کو معطر کر گئی۔

یہ دادی جان کے چاشت کے نوافل ادا کرنے کا وقت تھا۔ وضو کر کے وہ جیسے ہی جائے نماز پر کھڑی ہوئیں۔ فاریہ کے جملے دل و دماغ پر تازیانہ بن کر برسنے لگے۔ یہ جو مجہول تلاوت کرتی ہیں ناں آپ۔ پہلی رکعت میں دھیان۔ میں اکیلی نہیں آنے والی عذاب کی زد میں۔ انہیں لگا دو کرخت چہروں والے فرشتے ہاتھ میں بڑے بڑے ہنٹر لیے انہیں گھور رہے ہیں اور فاریہ ان کی غلطیوں کی لسٹ ان کے ہاتھ میں تھما رہی ہے۔ انہوں نے عجیب گھبراہٹ میں سلام پھیر دیا اور جائے نماز سے اٹھ کر باہر چمن میں آگئیں۔ ایک کیاری کے کنارے بیٹھ کرمٹی کریدنے لگیں۔ طبیعت بہت مضطرب اور بے چین تھی۔ ”یا الہی میں نے تو ہمیشہ تیری رضا کے لیے قرآن پڑھا۔ تیری خوشنودی کے لیے جائے نماز پر کھڑی ہوئی۔ سنت طریقوں پر عمل کیا۔ اب جب کہ مجھے لگتا ہے کہ میں نے میدان مار لیا ہے۔ جنت میں اپنی سیٹ مخصوص کروا لی ہے۔ تو یہ فاریہ نے کون سا آئینہ میرے سامنے رکھ دیا ہے؟ وہ امتحان میں فیل ہو جانے والے کسی محنتی بچے کی مانند بلک بلک کر رونے لگیں اور ایک ہی دعا تھی جو وہ بلکتے ہوئے مانگ رہی تھیں، یا رب العالمین مجھے سیدھی راہ دکھا۔ ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا۔ ان لوگوں کی نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کی“، آنسو ان کی آنکھوں سے گر کر مٹی میں جذب ہونے لگے تھے۔ عرصہ پہلے جو بیج اس مٹی میں بوئے گئے تھے۔ ان میں سے ایک کونپل مٹی کو چیرتی ہوئی باہر آ کھڑی ہوئی تھی اور پلکیں جھپکائے بنا اس کائنات کو دیکھنے لگی تھی۔

نفیسہ بیگم جب درس میں شامل ہوئیں تو کوئی خاتون معلمہ کے سامنے اپنا مسئلہ بیان کر رہی تھیں۔ ”میرے بیٹے نے میٹرک کا امتحان اعلی نمبروں سے پاس کیا ہے۔ میں چاہتی ہوں وہ قرآن و حدیث کا علم حاصل کر کے دین کی خدمت کرے لیکن وہ بضد ہے مجھے سائنس دان بننا ہے فزکس پڑھنی ہے۔ ہم کئی نسلوں سے قرآن پڑھنے والے، مساجد میں امامت کے فرائض سرانجام دینے والے ہم فزکس کیوں پڑھیں؟ ہم سائنس دان کیوں بنیں؟“ وہ رو دینے کو تھیں کہ جیسے کل متاع حیات بس اب لٹنے کو تھی۔

معلمہ نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔ لمحہ بھر کا سکوت اختیار کیا۔ پھر ٹھہرے ہوئے لہجے میں دھیرے سے اپنی بات کا آغاز کیا۔ ”میری پیاری بہنو! اسلام کیا ہے؟ بتانے والی بات یا کرنے والا کام؟ میری عزیز بہنو! قرآن پاک میں علوم طبعی کی مدد سے اللہ رب العزت کی امانت حاصل کرنے کے لیے750 آیتیں موجود ہیں۔ ان آیات کو اللہ رب الرحیم نے اپنی نشانی قرار دیا ہے اور بندوں کو ان پر غوروفکر کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مختلف شعبوں میں تحقیق و جستجو کے ذریعے جو نتائج سامنے آئے ہیں۔ جن ایجادات نے روئے زمین کو ورطہ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ کیا یہ انسان کی اپنی ایجاد یا اس کی ذاتی تخلیق ہیں؟ یا کائنات میں اس غور و فکر کا نتیجہ ہیں۔ جس کی دعوت قرآن مجید دیتا ہے۔

آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش، زبانوں کا فرق، رنگتوں کا فرق اللہ تعالی کی آیات میں سے ہے۔ ”بے شک یہ آیات علم رکھنے والوں کے لیے(غور و فکر کا سامان) ہیں“۔ (سورہ روم، آیت 22)”اے سیدہ عائشہ (رضی اللہ عنھا) کی بیٹیوں! کیا جب آسمانوں اور زمین کی پیدائش پر غور و فکر کیا جائے گاتو علم کائنات cosmology  علم ارضیات geology اور طبعی علوم physical sciences جنم نہ لیں گے۔ جب زبانوں اور رنگتوں کے فرق کو سمجھنے کی کاوشیں کی جائیں گی تو Social sciences کا علم وجود میں نہ آئے گا“۔ اے سیدہ عائشہ (رضی اللہ عنھا ) کی بیٹیوں! اپنے بچوں کو جسمانی عبادات سکھانے کے ساتھ ساتھ ان عبادات کی روح اور حکمت پر بھی توجہ دو۔ مسلمان بچوں کو دنیا کے امور اور معاملات میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے پروان چڑھاو۔

مسلم قوم آج غیر مسلم اقوام کی دست نگر اور محتاج ہو گئی ہے اس محتاجی سے نکلنے کے لیے اپنے بچوں کو جدید علوم میں آگے بڑھاو۔ اپنے بچوں کو رات اور دن کے بدلنے پر، زمین و آسمان کی پیدائش پر، مردہ زمین کو زندگی بخشنے والے آسمان سے اترنے والے پانی پر، قسم قسم کے جانوروں پر، ہواوں کی گردش اور بادلوں پر تفکر پر اکساو۔ تحقیق پر آمادہ کرو۔ غور کرو کہ اس قوم کی تقدیر تمہارے ہاتھ میں ہے۔ انہیں سائنس دان بننے دو، انہیں فزکس پڑھنے دو، انہیں آئی ٹی سیکھنے دو“۔

نفیسہ بیگم نے بے چینی سے پہلو بدلا۔ کہاں تھیں فاریہ کی دادی جان۔ وہ گھر جا کر یہ سب انہیں کیسے سمجھا پائیں گی؟ ”لیکن باجی“، وہ خاتون جھجھکتے ہوئے کچھ کہنا چاہ رہی تھیں۔ جی کہیے معلمہ نے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ ”وہ جو بچے بچیاں یہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں ناں تو ایسے نڈر اور بے باک بچے اور ایسی شوخ اور بے حجاب بچیاں۔ باجی اس تعیلم کے ساتھ جو یہ کردار بچوں کا پروان چڑھ رہا ہے ناں تو ہم تو دنیا و آخرت میں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں گے“۔ بات کے اختتام تک آتے آتے خاتون کی آواز بھرا چکی تھی۔ شاید وہ چشم تصور میں اپنے بیٹے کوکسی غلط راستے پر چلتا دیکھ رہی تھیں۔یہ دوسرا سوال پہلے سوال سے زیادہ اہم اور جواب طلب تھا۔

لمحہ بھر کو معلمہ نے اپنے حاضرین کا جائزہ لیا پھر آہستگی سے گویا ہوئیں۔ ”میری کلمہ گو بہنو! اپنے بچوں کے لیے، اپنی بچیوں کے لیے کچھ اصول اپنے سامنے واضح کر لو اور یہ اصول میں اور آپ وضع نہیں کریں گی یہ اصول ضوابط 14 سو برس قبل ہمارے خالق و مالک نے ہمیں صاف صاف بتا دیے۔ نبی برحق صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم تک پہنچا دیے۔ روز محشر جوانی کے بارے میں سوال ہوگا۔ جوانی فضول سوچوں، فضول کاموں میں ضائع ہونے کے لیے نہیں ہے۔ ہمارے بچے علم ضرور حاصل کریں کہ یہ ان پر فرض قرار دیا گیا ہے لیکن مقصد اور ویژن کے ساتھ، اپنے نظریات کو بھولے بغیر، ترقی کے نام پر دھوکہ کھائے بغیر۔ اس ادراک کے ساتھ کے ان کا رول ماڈل فلموں اور کر کٹ کی دنیا میں نہیں ہے۔ ان کے رول ماڈل پیارے نبی محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ حضرت عمر فاروق ہیں، عبداللہ بن مسعود، معاذ بن جبل اور حزیفہ الیمان رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر نوجوان صحابی ہیں۔ ہمارے بچوں کا وقت بہت قیمتی ہے۔ ان کی جوانی بہت قیمتی ہے کہ اس جوانی کے لیے ہم روز محشر عرش کے سائے کے آرزو مند ہیں۔ ہماری بچیاں بھی بہت قیمتی ہیں۔ انہیں بتائیے کہ وہ اس احساس کے ساتھ فخر سے جئیں۔

زرا ٹھہر کر درس میں موجود خواتین پر نگاہ دوڑائی جو ان کے انداز و آواز اور پیغام سے بے حد متاثر لگ رہی تھیں اور پھر سے سلسلہ کلام جاری کیا۔ میری بہنو! اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتاو کیا انگلش سیکھنے اور بولنے کے لیے بے حجاب ہونا ضروری ہے۔ کیا آئی ٹی سیکھنے کے لیے لڑکے اور لڑکیوں کا آپس میں بے تکلف ہونا ضروری ہے؟ کیا فزکس پڑھنے والوں کے راستے میں داڑھی رکاوٹ بن جاتی ہے؟ کیا کیمسٹری پڑھنے کے لیے فجر اور عشاءکی نمازیں چھوڑنا ضروری ہے؟ کیا جب تک ہم والدین سے بدتمیزی نہ کریں۔ اپنے سے کمزوروں کے لیے فرعون نہ بن جائیں ہم بائیو ٹکنالوجی نہیں سیکھ سکتے؟

اے سیدہ فاطمہ (رضی اللہ عنھا) کی بہنو! اپنے دل پر ہاتھ رکھو اور بتاو کون سا علم تمہیں آخرت پسندی کی نفسیات سے نکالتا ہے؟ کون سا علم تم سے شرم و حیا کازیور چھینتا ہے؟ اور کون سا علم تم سے حفظ مراتب کی تہذیب چھینتا ہے؟با خدا یہ سب کچھ تم سے علم نہیں چھینتا۔ مغرب سے مرعوبیت کی نفسیات چھینتی ہے۔ اہل ہنود و یہود کی اندھی تقلید چھینتی ہے۔ پیاری بہنو! اب آپ سب کو ایک آسان مثال سے سمجھاتی ہوں جب آپ اپنے بچوں کو بازار سبزی یا پھل خریدنے بھیجتی ہیں۔ تو کیا ہدایت کرتی ہیں ”دیکھ بھال کر، چن کر صاف ستھری چیز لانا۔ خبردار گندی اور گلی سڑی خریداری نہیں کرنی“۔ بس یہی ہدایت اس میدان میں بھی آپ کو دینی ہے۔ صاف شفاف علم گھر لے آو۔۔۔ گلی سڑی مغربی تہذیب سے اپنا دامن بچا کر۔

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیﷺ

تہذیب و ثقافت ہماری اپنی اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے ہتھیار سے ہم آراستہ دنیا بھی ہماری ، آخرت بھی ہماری“، معلمہ سہولت سے مسکرا دیں کہ اس راستے پر چلنا اگر مشکل تھا بھی تو نا ممکن ہرگز نہ تھا۔”فاریہ میری بچی تمہیں حکمت سے یہ باتیں سمجھائی جائیں تو تمہارا ذہن یہ سب قبول کرے گا ان شاءاللہ“، نفیسہ بیگم نے محبت سے بیٹی کے بارے میں سوچا۔ درس کے اختتام پر وہ واپسی کے لیے مڑیں تو معلمہ نے مسکراتے ہوئے مدرسے کا تعارفی کارڈ ان کے ہاتھ میں تھمایا۔ انہوں نے سرسری نظر دوڑائی، حصول علم اور خواتین، رسول اللہﷺ سے میرا تعلق، قرآن مجید کیسے پڑھیں، کیسے سمجھیں۔ میری نمازیں۔ نفیسہ بیگم اطمینان سے مسکرا دیں۔

رو رو کر فاریہ کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ صبح اسے اپنی سہیلی کی منگنی پر جانا تھا۔ سب سہیلیوں نے ایک جیسے کپڑے بنوائے تھے اور شومئی قسمت کے درزی کے سلے سوٹ میں اسے کئی خامیاں نظر آرہی تھیں اور تو اور دوپٹہ بھی پیکو نہیں تھا۔ مارکیٹ میں کسی وجہ سے ہڑتال ہو گئی تھی۔ درزی اور پیکو سنٹردونوں دکانوں پر تالا پڑا تھا۔ ”کوئی اور لباس پہن جاو“، نفیسہ بیگم نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔ ”میری اپنی سب سہیلیوں کے ساتھ اسی ڈریس کی کمٹمنٹ ہے۔ مجھے بہت شرمندگی محسوس ہو رہی ہے“، وہ پھر بچوں کی طرح منہ بسورنے لگی تھی۔

دادی جان کمرے میں آئیں تو ان کے دل پر تو جیسے سخت چوٹ پڑی۔ ہر وقت مسکراتی آنکھوں میں آنسو۔ کیا ہوا انہوں نے دہائی دی۔ وجہ جاننے پر بگڑ کر بولیں اتنی سی بات پر اتنا رونا دھونا۔ جھٹ سلائی مشین نکال کر لائیں۔ غور سے قمیض کو دیکھاکچھ قینچی سے تراشا کچھ سلائی کی اور جو اب فاریہ نے پہن کر دیکھا تو خوشی سے ہنسنے لگی پھر اچانک منہ بنا کر بولی دوپٹے کا کیا ہوگا؟ دوپٹے کا بھی کیے دیتی ہوں۔ دادی جان اپنا چھوٹا سا ڈبہ نکال لائیں۔ ڈھکن اتارا تو فاریہ نے دیکھا کئی طرح کے دھاگے سوئیاں اور چند ایک اور چیزیں بڑی ترتیب سے ڈبے میں بند تھیں۔ انہوں نے کروشیے کی مدد سے تھوڑی سی دیر میں نہایت نفیس اور نازک بیل بنا دی تھی۔ جسے دیکھ کر فاریہ دنگ سی رہ گئی۔ میری پیاری دادی جان دوپٹہ لہراتے ہوئے وہ دادی سے لپٹ گئی۔

فاریہ میری بچی یہ بچیوں کے سیکھنے کے کام ہیں مجھ سے سیکھ۔ انہوں نے پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ دادی یہ بھی اور نہاری پکانا بھی سکھا دیں۔ آپ کے ہاتھ کی نہاری بہت مزے دار ہوتی ہے۔ وہ ابھی تک ان سے لپٹی ہوئی تھی۔ کیوں نہیں ایک منٹ میں سکھا دوں گی۔ انہوں نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا۔ایک بات کہوں فارو کسی سے کہنا نہیں۔ دادی جان نے فاریہ کو خود سے الگ کیا۔ کیا بات دادو؟ فاریہ حیران ہوئی۔ وہ مجھے کمپیوٹر استعمال کرنا سکھا دو؟ ہائیں فاریہ کی تو آنکھیں مارے حیرت کے پھٹ سی گئیں۔ وہ اس دن میں گھر میں اکیلی تھی۔ سورت الرحمن کی تلاوت سننے کو دل چاہ رہا تھا۔ کوئی گھر میں تھا نہیں کہ لگا کر دیتا۔ میں کتنی دیر بے بسی سے کمپیوٹر کے پاس کھڑی رہی۔ وہ جھجھکتے ہوئے شرمندگی سے مدھم آواز میں بولیں۔ کیوں نہیں ایک منٹ میں سکھا دوں گی۔ وہ انہی کے انداز میں چٹکی بجاتے ہوئے ہنسی تو وہ بھی ہنس پڑیں۔

واہ جی لڑائیوں میں تو مجھے گھسیٹتے ہو اور دوستی میرے بغیر۔ یہ تو بے ایمانی ہے“، نفیسہ بیگم چائے کی ٹرے تھامے اندر آرہی تھیں۔ دونوں کو ہنستے دیکھ کر بشاشت سے بولیں۔ آپ تو اس تکون کا لازمی حصہ ہیں۔ آپ کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ فاریہ نے لاڈ سے ماں کے ہاتھ سے ٹرے پکڑی تو دادی جان کی محبت بھری نگاہوں نے بھی اس کے جملوں کی تصدیق کر دی۔ ”اب سیکھنے سکھانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے تو میری بات بھی آپ کو ماننا پڑے گی“، وہ قطعیت سے بولیں۔ ”وہ کیا؟“ دونوں نے یک زبان ہو کر پوچھا۔ اب ہم تینوں فہم القرآن کا کورس کریں گی۔ تجوید سے قرآن پاک پڑھنے کے لیے، قرآن پاک کو سمجھنے اس پر غور وفکر کے لیے اور سب سے بڑھ کر قرآن و حدیث پر عمل کرنے کے لیے آئیں دعا کریں۔ انہوں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے، اے اللہ! مجھے فائدہ دے اس کے ساتھ جو تو نے مجھے سکھایا ہے اور مجھے سکھا جو میرے لیے فائدہ مند ہے اور میرے علم میں اضافہ فرما۔ آمین

آج کل نفیسہ بیگم بہت خوش ہیں کہ ان کے گھر کا ماحول بہت پرسکون ہو چکا ہے۔ دادی جان بہت خوش ہیں کہ فاریہ کو ایجوکیشن یونیورسٹی کو خیر آباد کہہ کر خواتین یونیورسٹی میں داخلہ لے چکی ہے۔ فاریہ بہت خوش ہے کہ دادی جان کمپیوٹر کو نہایت سہولت سے استعمال کرنے لگی ہیں اور جب وہ تینوں تجوید، ترجمے اور تفسیر کے ساتھ قرآن پاک کو پڑھنے کے لیے مدرسے جاتی ہیں تو گویا جنت کی راہ پر چلتی ہیں اور فرشتے اپنے پر ان کی خوشنودی کے لیے بچھا دیتے ہیں۔

Facebook Comments