مستنصر حسین تارڑادبی دنیا کا ایسا نام جنہوں نے قارئین کو دلچسپ، پر مزاح اور سلیس انداز تحریر سے اپنا گرویدہ بنایا۔مستنصر حسین تارڑ 1 مارچ 1939ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ بیڈن روڈ پر واقع لکشمی مینشن میں اُن کا بچپن گزرا جہاں سعادت حسن منٹو پڑوس میں رہتے تھے۔ اُنھوں نے مشن ہائی اسکول، رنگ محل اور مسلم ماڈل ہائی اسکول میں تعلیم حاصل ک۔ میٹرک کے بعد گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔ ایف اے کے بعد برطانیہ اور یورپ کے دوسرے ممالک کا رخ کیا، جہاں فلم، تھیٹر اور ادب کو نئے زاویے سے سمجھنے، پرکھنے اور برتنے کا موقع ملا۔ پانچ برس وہاں گزارے اور ٹیکسٹائل انجنئیرنگ کی تعلیم حاصل کرکے وطن واپس لوٹے۔

پاکستان واپس آئے تو اداکاری کا شوق پیدا ہوا، پی ٹی وی جا  پہنچے، شکیل تو تھے ہی، زیادہ تردد نہ کرنا پڑا ’’پرانی باتیں‘‘ میں پہلی بار کام ملا، ایکٹنگ کی، غالباً مطمئن نہ ہوئے، جی میں آئی ڈراما خود لکھا جائے تو ’’آدھی رات کا سورج‘‘ طلوع کیا۔  1974 میں یہ ڈرامہ نشر ہوا۔ برسوں ٹی وی سے وابستہ رہے اور کئی یادگار ڈرامے لکھے، جی بھرکے  اداکاری کی۔پاکستان میں صبح کی نشریات کو مقبولیت کے آسمانوں تک پہنچانے کا سہرا آپ کے سر جاتا ہے۔50 سے زائد کتابیں،کئی سفر نامے اور متعدد کالم لکھے۔ناول نگاری میں بھی مستنصر حسین تارڑ نمایا ںمقام رکھتے ہیں۔  1957 میں شوق سفر سے مجبور ہوکر ماسکو  اور روس میں ہونے والے یوتھ فیسٹول چلے گئے۔ اس سفر کی روداد پر ناولٹ فاختہ لکھا۔

مستنصر حسین تارڑ کی ادبی خدمات کے بدلے صدارتی تمغا حسن کارکردگی اوران کے ناول ’’راکھ‘‘ کو 1999 میں بہترین ناول کے زمرے میں وزیر اعظم ادبی ایوارڈ کا مستحق گردانا گیا اور آپ کو 2002ء میں دوحہ قطر میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔  تارڑ صاحب کہتے ہیں، ’’تخلیقی واردات کو قلم بند کرنے کے لیے ماحول بنانے کی ضرورت نہیں، میں نے اپنی دکان میں پڑی بیچوں کی بوریوں پر بیٹھ کر بھی لکھا، اگر آپ میں لکھنے کی تڑپ ہے تو کوئی مشکل نہیں ورنہ آپ نتھیا گلی میں بھی نہیں لکھ سکتے۔ اب میں 75 برس کا ہو چلا ہوں، اب جا کر میں تھوڑا سا ماحول بنا کر لکھنے کا تکلف کرلیتا ہوں، موبائل فون نہیں سنتا، کمرے میں چائے، سگریٹ رکھ لیتا ہوں، موسم، غذا، رنگ، ماحول میرے لکھنے پڑھنے پر اثرنداز نہیں ہوتے، کبھی موسیقی مدد دے لیتی تھی لیکن اب وہ بھی بے اثرہوگئی‘‘۔

اداکاری ہو یا ناول نگاری، ٹی وی شو کی میزبانی ہو یا سفر نامے، الغرض اردو ادب مستنصر حسین تارڑ کے نام کے بغیر ادھورا اور نامکمل ہے۔

Facebook Comments