پاکستان اور پاکستانیوں کی بات کی جائے تو کسی زمانے میں روپے پیسے کے بجائے اخلاق، اقدار،استاد، بزرگ اور زمین سے ناتہ قیمتی ترین اثاثہ اور عزت کی دلیل ہوا کرتا تھا۔ یہ وہی زمانہ تھا جب ایک پاکستانی کسی بھی دوسرے ملک میں جاتا تو اس کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے سبز پاسپورٹ کی بھی عزت ہوا کرتی تھی۔ خصوصا عرب ممالک میں پاکستانی بڑی قدر اور عزت والے ٹھہرتے، انہیں بھائیوں جیسا سمجھا جاتا اور ان سے خصوصی مصافحہ کیا جاتا۔ زمانے نے کروٹ لی، پاکستان میں ترقی کا آغاز ہوا، لوگوں کو پیسے اور باہر کی ہوا لگی اور پھر جیسے ایک دوڑ ہی لگ گئی۔ ہر کوئی ترقی کا خواہش مند تو تھا لیکن اس کے لیے کسی بھی راستے پر چلنے کو تیار بھی۔ انگریزوں کے کتے نہلانے کا کام تو قیام پاکستان سے پہلے بھی یہاں کے لوگ کرتے رہے لیکن اب ان کے واش رومز دھونے میں بھی کوئی قباحت نظر نہ آتی کیونکہ اس کے بدلے اچھی خاصی قیمت وصول ہوتی۔ وہ سبھی جو یہاں کاٹن کی استری بھی خراب نہیں ہونے دیتے تھے انہوں نے صرف اور صرف پیسے کمانے کے لیے باہر کا رخ کیا اور جو کام ملا، کیا۔ اکثریت ان پڑھ اور بے ہنر لوگوں کی تھی جن کو صرف یہ پتہ تھا کہ باہر جانے سے پیسہ اندر آنے لگ جاتا ہے۔

کمال بات یہ ہے کہ گذشتہ تین سے چار دہائیوں کا ڈیٹا نکالا جائے تو پاکستان سے باہر جانے والوں میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ اب بھی ان پڑھ اور بے ہنر پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد باہر ہے اور جو پاکستان میں ہیں وہ باہر جانے کے لیے کوشاں۔ شاید پڑھ لکھ کر اور کسی ہنر کو سیکھ کر باہر کا رخ کرنا ہمارے ہاں ایک عیب سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے اس عیب کو دوسرے ممالک نے اپنی ترقی کا راستہ بنایا، اسی لیے پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد آج بھی باہر واش رومز ہی دھو رہی ہے یا مزدوری کر رہی ہے جب کہ بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک کے لوگ بھی دفاتر میں کام کرتے ہیں، یا کم سے کم بھی ہوں تو ان پاکستانیوں کے باس ہوتے ہیں جن کے نزدیک صرف پیسہ ہی سب کچھ ہے اور ان کے گاوں میں بننے والا بڑا سا مکان ان کی عزت کا باعث ہو گا۔ کیا کسی پاکستانی نے یہ سوچا ان کی وجہ سے پاکستانی پاسپورٹ دنیا میں کس قدر بے وقت اور بے عزت ہو رہا ہے۔

آج کسی پاکستانی سے پوچھا جائے کہ سبز پاسپورٹ کی دنیا میں کیا عزت ہے تووہ حیرت سے آپ کو دیکھے گا کہ پاسپورٹ کی بھی کوئی عزت ہوتی ہے بھلا یا پھر تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے ایسی کوئی دلیل دے گا جس میں وہ خود بے قصور اور ساری دنیا قصور وار ٹھہرے گی۔ اسی لاکھ سے زائد پاکستانی بیرون ملک موجود ہیں اور بائیس کروڑ سے زائد پاکستان میں ۔۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سبز پاسپورٹ کی عزت کے لیے کسی نے کیا کوشش کی ہے؟ دنیامیں طاقت ور ترین پاسپورٹوں کی نئی فہرست جاری کی گئی ہے جس کے مطابق متحدہ عرب امارات کا پاسپورٹ دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ ہے، اب متحدہ عرب امارات کے شہری دنیا کے 167ممالک میں بنا ویزے کے داخل ہو سکتے ہیں۔ سنگاپور جو بہت عرصے سے اس فہرت میں پہلے نمبر پر تھا اب دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ جرمنی تیسرے نمبر پر ہے اور اس کے شہری دنیا کے 166ممالک میں بنا ویزے کے داخل ہو سکتے ہیں۔ چوتھے نمبر پر ڈنمارک اور پانچویں نمبر پر سویڈن ہے۔

کیا ہمارے پڑھنے والے کسی شخص کو پاکستانی پاسپورٹ کا درجہ پتا ہے؟ چلیں اس سوال کو چھوڑیں صرف یہ بتا دیں کہ دنیا کے کتنے ممالک میں آپ ویزا لے کے قابل عزت طریقے سے داخل ہو سکتے ہیں؟ شاید گنے چکے وہ چند ممالک جہاں پاکستانیوں کا آنا جانا زیادہ نہیں ہے، اسی لیے ان ممالک میں کسی نہ کسی حد تک پاکستانیوں کی عزت قائم ہے ورنہ تو یہ حال ہے کہ عرب ممالک میں کبھی منشیات کی اسمگلنگ میں پاکستان اس قدر بدنام تھا کہ کسی اور ملک کا باشندہ بھی پاکستان سے گزر کر جاتا تھا تو اس کا سارا سامان کئی مرتبہ چیک کیا جاتا۔ پاکستانیوں نے منشیات کی اسمگلنگ میں وہ شہرت کمائی کہ سبز پاسپورٹ والوں کا سامان علیحدہ کر کے کتے چھوڑ دیے جاتے تھے ۔ کبھی جس امریکہ بہادر میں ہمارے صدر صاحب کے استقبال کے لیے لوگ سڑک کے دونوں طرف کھڑے ہو تے تھے اسی امریکہ میں داخلے کے لیے ہمارے وزیر اعظم کے کپڑے تک اتروائے جاتے ہیں اور وہ اسے بے عزتی نہیں سمجھتا کیونکہ ہم پاکستانیوں کے نزدیک عزت کا مطلب پیسہ ہے اور وہ ہمارے پاس بہت ہے۔ پاکستان سے ثقافتی طائفے جاتے ہیں اور لوگ بیرون ملک جا کر غائب ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے اب کئی ممالک میں ہم پر پابندی لگی ہوئی ہے۔

طالب علم پڑھنے جاتے ہیں تو واپس آنے کے بجائے وہیں کے ہو کر رہ جاتے ہیں کیونکہ انہیں اس سرزمین سے ہزاروں شکایتیں ہیں اور یہی ساری شکایات کسی نہ کسی طرح ان کے وہاں کے دوستوں تک بھی پہنچتی ہیں اور پاکستان کی وہ تصویر ان کے ذہنوں میں بنتی ہے جو بڑی ہی سچی ہوتی ہے۔ سعودی عرب میں چوری چکاری میں سب سے زیادہ ملوث لوگوں میں پاکستان پہلی تین پوزیشن میں ہوتا ہے۔ پاکستانی حرم پاک میں دوران طواف لوگوں کو لوٹتے ہیں۔ حج کے ایام میں پاکستان سے لوگ بھیک مانگنے جاتے ہیں اور سیزن لگاتے ہیں۔ جدہ سمیت کئی سفارت خانوں میں خود پاکستانیوں نے جانا چھوڑ دیا ہے کہ وہاں جیبیں کٹنا سلام کرنے سے بھی زیادہ معمول کا حصہ ہے۔ بہت سے ایسے پاکستانی ہیں جو برسوں سے سعودیہ میں قیام پذیر ہیںلیکن حج عمرے کی ان کو توفیق نہیں ہو سکی کیونکہ وہ پیسہ کمانے میں اس قدر مصروف ہیں کہ ان کاموں کا ان کے پاس وقت ہی نہیں ۔ ان تمام کاموں اور باتوں میں صرف ایک چیز مشترک ہے کہ کوئی بھی صورت ہو پیسہ کمایا جائے کہ بس پیسہ ہی دنیا میں سب کچھ ہے۔

آج حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے سے ہاتھوں ہاتھی ہوئی پڑی ہے۔ عوام اس صورت حال سے محظوظ ہوتے ہوئے جگتوں جگتی ہوئی رہتی ہے۔ نہ کسی کوآنے والے کل کی فکر ہے اور نہ عزت کا مطلب پتا ہے۔ آج پاکستان کے اندر بھی کوئی کسی دوسرے کو عزت دینے کا روادار نہیں، کسی سے سیاسی اختلاف ہے تو کسی سے مذہبی و فکری اختلاف اور ہمارے یہی اختلافات ہیں جن کی وجہ سے نہ ہمیں اپنے ملک کی عزت اور اس کے بیرون ملک بنتے بگڑتے امیج کا خیال ہے نہ ہی ہمیں اپنے پرچم اور پاسپورٹ کی توقیر مقصود ہے۔ ابھی تو ہم ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور پیسہ کمانے میں مصروف ہیں لیکن کبھی تو وہ دن بھی آئے گا جب ہمیں احساس ہو گا کہ ہمیں سدا ایک ہجوم نہیں رہنا بلکہ ایک قوم بھی بننا ہے اور پاسپورٹ بھی عزت کی دلیل ہوتا ہے۔

Facebook Comments