اردو ادب کے حوالے سے جب بات کی جاتی ہے تو پاکستان کے نامور ادیب اشفاق احمد کے ذکر کے بنا ادب کی تاریخ نامکمل اور ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ اشفاق احمد اردو ادب کا وہ درخشاں ستارہ ہیں جن کی تصانیف سے آج بھی آسمانِ ادب جگمگارہا ہے۔ اشفاق احمد ایک افسانہ نگار، ڈرامہ نگار، فلسفی، ادیب اور دانشور ہونے کے ساتھ ساتھ عمدہ براڈ کاسٹر بھی تھے۔ ان کا ڈراما سیریل ایک محبت سو افسانے پاکستان ٹیلی وژن کا لازوال ڈراما سیریل ہے۔اشفاق احمدفنونِ لطیفہ کے ساتھ اصلاحی تحاریر اور اذاکار سے خصوصی لگاؤ رکھتے تھے۔

جناب اشفاق احمد خان ہندوستان کے شہر ہوشیار پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں خان پور میں ڈاکٹر محمد خان کے گھر 22 اگست، 1925ء کو بروز پیر پیدا ہوئےاشفاق احمد ایک کھاتے پیتے پٹھان گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے کیا، اٹلی کی روم یونیورسٹی اور گرے نوبلے یونیورسٹی فرانس سے اطالوی اور فرانسیسی زبان میں ڈپلومے کیے اور نیویارک یونیورسٹی سے براڈکاسٹنگ کی خصوصی تربیت حاصل کی۔

وہ انیس سو سڑسٹھ میں مرکزی اردو بورڈ کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے جو بعد میں اردو سائنس بورڈ میں تبدیل ہوگیا۔ وہ انیس سو نواسی تک اس ادارے سے وابستہ رہے۔ وہ صدر جنرل ضیاءالحق کےدور میں وفاقی وزارت تعلیم کے مشیر بھی مقرر کیے گئے۔اشفاق احمد ان نامور ادیبوں میں شامل ہیں جو قیام پاکستان کے فورا ًبعد ادبی افق پر نمایاں ہوئے،  1953 میں ان کا افسانہ گڈریا ان کی شہرت کا باعث بنا۔ اشفاق احمد کی تصانیف میں ایک محبت سو افسانے، اجلے پھول، سفر در سفر، کھیل کہانی، ایک محبت سو ڈرامے، توتا کہانی اور زاویہ جیسے بہترین شاہکار شامل ہیں اور ان کا ریڈیو پاکستان لاہور سے نشر ہونے والا پروگرام ’’تلقین شاہ‘‘ آج بھی نئے لکھنے والوں کے لیے مشعل راہ ہے جو اپنی ذومعنی گفتگو اور طرز مزاح کے باعث مقبول عام ہوا اور30 سال سے زیادہ چلتا رہا۔

حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ، ستارہ امتیاز اور ہلال امتیاز کے اعزازات عطا کیے تھے۔ صوفی مزاج کے حامل اشفاق احمد 7ستمبر 2004ءکو لاہور میں وفات پاگئے اور ماڈل ٹاؤن کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

Facebook Comments