چہرہ عورت کے حسن کا اصل مظہر ہے۔ اس لیے اللہ تعالی نے عورت کو یہ حکم دیا کے جب وہ گھر سے نکلے تو اسے چھپا لیا کرے تاکہ معاشرے میں فتنے کا کوئی اندیشہ باقی نہ رہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے کہ ”اے نبی اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اپنی چادروں کو لٹکا لیں، تاکہ وہ (شریف زادیاں) پہچانی جائیں اور انہیں تنگ بھی نہ کیا جائے اور اللہ بخشنے والا بڑا مہربان ہے “۔(الاحزاب:59) دور جاہلیت پر اگر ہم نظر دوڑایں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ عورتیں بلا ضرورت محض اپنے حسن و جمال کی نمائش کے لیے بن سنور کر گھر سے نکلتی تھیں۔ جس کی وجہ سے مرد اخلاقی بگاڑ میں مبتلا ہو جاتے تھے۔ اس دور میں دونوں صنفوں سے شرم و حیا کا پردہ اٹھ چکا تھا۔ ان کی تعمیری صلاحیتوں نے تخریب کا رخ اختیار کر لیا تھا اور اخلاقی بگاڑ نے انہیں تباہی کے دھانے پر لاکھڑا کیا تھا۔

اسلام کے معاشرتی نظام میں پردہ کی بڑی اہمیت ہے۔ معاشرے میں بے حیائی اور بے راہ روی جیسی خرابیوں کی ابتدااس وقت ہوتی ہے جب سر سے چادر اتر جاتی ہے اور چہرے سے پردہ اٹھ جاتا ہے۔ انسانی تاریخ میں کوئی ایسا دور نہیں گزار جس میں پردہ کا رواج اور ضرورت نہ رہی ہو لیکن موجودہ زمانے میں اس کی اہمیت اور ضرورت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ بے پردگی کی وجہ سے اخلاقی بگاڑ بڑھ رہا ہے۔ مردوں اور عورتوں کے آزادانہ اور بے حجابانہ میل جول نے مسلم معاشرہ کو اخلاقی تباہی کے دھانے پر لاکھڑا کیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ پردہ عورت کی آزادی اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے لیکن یہ حقیقت نہیں بلکہ ایک مفروضہ اور اعتراض برائے اعتراض ہے۔ معاشرے میں کتنی خواتین ایسی ہیں جو پردے کے ساتھ معاشرے کے مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہیں حتی کہ باپردہ ڈاکٹر اور پائلٹ خواتین بھی اپنے پیشہ ورانہ فرائض بخوبی سر انجام دے رہی ہیں اور ان کی کارگردگی بے حجاب خواتین سے بہتر ہے۔ اسلام دین فطرت ہے اور اس نے مردوں اور عورتوں کو کوئی ایسا حکم نہیں دیا جو ان کی فطری صلاحتیوں کو بروئے کار لانے اور ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے۔

آج ہمارا معاشرہ بھی تباہی کے اسی دھانے پر کھڑا ہے اور اس کی وجہ آج کی عورت ہے جو بے پردہ بلا ضرورت گھر سے نکلتی ہے اور اپنی اصل ذمے داری ”گھر“ کو بھول جاتی ہے۔ عورت نسلوں کی معمار ہے اور ایک صالح اور مستحکم معاشرے کی تعمیر میں اس کا سب سے اہم کردار ہے۔ کیوں کہ عورت اپنی آغوش میں ایسے افراد کی تربیت کرتی ہے جو مستقبل میں ملک کی باگ دوڑ سنبھالتے ہیں لیکن اگر عورت اپنے فرائض سے غافل ہو جائے تو پھر ملک کو نہ معیاری اور مخلص قیادت ملے گی نہ ہی فرض شناس رعایا، نہ ہی حکومت چلانے والے دیانتدار کارکن اور نہ ہی ملک چلانے والے سر فروش مجاہد میسر آئیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آج کی عورت پردے کے صحیح معنی اور مفہوم کو سمجھے اور اس بات کو سمجھے کے وہ محفوظ صرف اور صرف حجاب میں ہے اور نہ صرف عورت بلکہ معاشرے کی بقا بھی حجاب میں ہے۔

تمہاری شان چھپی ہے حجاب میں بہنو
بڑا سہل ہے گزارا نقاب میں بہنو
اسے پہن کے بڑا مرتبہ بڑھے تیرا
کہ جیسے زینت گلشن گلاب میں بہنو
قرآن پردہ نسواں کو اجاگر کر دے
لکھا ہوا ہے یہ حکم اس کتاب میں بہنو
رسول پاک نے تاکید کی، پردہ کرنا
حیا خدا نے بڑھائی حجاب میں بہنو

Facebook Comments