میں روزانہ ہی اس ننھی معصوم سی بچی کو بس ا سٹاپ پر دیکھا کرتی تھی۔ اسکارف اوڑھے، بیگ کندھے پر لٹکائے،ہاتھ میں پانی کی بوتل پکڑے، ننھے ننھے قدم اٹھاتی سر جھکائے چلی آرہی ہوتی تھی۔ میں نے ایک دو بار اس کی طرف مسکرا کر دیکھا تو وہ بھی مسکرادی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے خاموش دوست بن گئے۔ مجھے نہ جانے کیوں اس کی آنکھوں میں اک گہری اداسی نظر آتی تھی۔ اسے میں نے بہت کم مسکراتے دیکھا تھا۔ شاید اس کی اسی بات نے مجھے اس کی طرف متوجہ کیا تھا۔

جب میں نے اس سے بات کرنے کا ارادہ کیا تبھی اتفاق سے ایسا ہوا کہ وہ کئی روز تک بس سٹاپ پر نہ آئی۔ میں سوچتی رہی نہ جانے ایسی کیا بات ہوئی کہ وہ نظر نہیں آرہی۔ ہم روز سٹاپ پر ملتے تھے۔ اس کے بعداپنی اپنی اگلی بسوں میں اپنی منزل کی جانب چل پڑتے تھے۔ کئی دنوں بعد جب وہ ا سٹاپ پر نظر آئی تو وہ مجھے پہلے سے بھی زیادہ کمزور اور اداس محسوس ہوئی۔ جب بسیں اسٹاپ پر آکر رکیں اور وہ اپنی بس کی جانب چلنے لگی تو نہ جانے کس احساس کے تحت میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنی بس میں اپنے ساتھ بٹھالیا۔

وہ بھی خاموشی سے میرے ساتھ چلی آئی تھی۔ایسا لگتا تھا جیسے اسے بھی کسی ساتھی، کسی دوست کی ضرورت ہے جس سے وہ اپنے دل کی کچھ بات کر سکے۔ سفر اتنا طویل ضرور تھا کہ میں اس کی پوری بات آرام سن سکتی تھی۔” تم اتنے دن آئیں کیوں نہیں “؟ میرے سوال پر وہ کچھ دیر خاموش رہی اور پھر کہنے لگی،” بھائی کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی۔ ابا ناراض ہورہے تھے کہ گھر میں پریشانی ہے اور اسے اسکول جانے کا مسئلہ پڑا ہوا ہے“۔ میں نے کہا ،” بھائی کی بیماری سے تمہارے اسکول جانے کا کیا تعلق ہے؟ کیا تمہاری تعلیم اہم نہیں ہے “ ؟ وہ خاموش رہی۔ میں نے پوچھا ، ” مجھے اپنے بارے میں بتاﺅ۔ تم اس قدر خاموش کیوں رہتی ہو“۔

اس نے میری جانب دیکھا اور کہنے لگی، ” میرا نام فاریہ ہے۔ ہم دو بہنیں اور دو بھائی ہیں۔بہن سب سے بڑی ہیں پھر بھائی ہیں اور میں سب سے چھوٹی ہوں۔میرے ابو اسکول میں پڑھاتے ہیں۔ باجی اسکول نہیں جاتیں۔ وہ گھر کے کاموں میں امی کا ہاتھ بٹاتی ہیں جب کہ دونوں بھائی اسکول جاتے ہیں۔ جب میں انہیں اسکول جاتے دیکھتی ہوں تو میرا بھی دل چاہتا ہے کہ میں اسکول جاوں۔ میں نے جب اماں سے اسکول جانے کی بات کی تو وہ خاموش ہوگئیں اور پھر کہنے لگیں ، یہ ممکن نہیں۔ تمہارے ابو کی تنخواہ اتنی نہیں کہ وہ تمہیں اسکول بھیج سکیں ۔

تمہارے دونوں بھائی بھی صرف اس لیے اسکول جاتے ہیں کیونکہ تمہارے ابو اسی اسکول میں پڑھاتے ہیں، استاد ہیں۔یہ اسکول والوں کی مہربانی ہے کہ انہوں نے فیس معاف کر رکھی ہے۔ ویسے بھی لڑکیوں کا پڑھنا اتنا ضروری بھی نہیں ہے۔ لڑکے پڑھ لکھ کر ماں باپ کاسہارا بنتے ہیں، تم جانتی ہو باجی بھی اسکول نہیں جاتیں “۔ میں خاموش ہوگئی مگر میرا ننھا سا ذہن یہ سمجھ نہیں پاتا تھا کہ جب میرے بھائی اسکول جاتے ہیں تو میں اسکول کیوں نہیں جاسکتی۔؟” میں یہ سمجھ نہیں پاتی ہوں کہ ابا اماں بیٹوں سے اس قدر پیار کیوں کرتے ہیں؟ ان کی ہر فرمائش پوری کی جاتی ہے۔ گھر میں کوئی چیز آجائے سب سے پہلے انہیں کیوں ملتی ہے“؟

ہر عید پر ان کے لیے نئے کپڑے بنتے ہیں۔وہ یہ کہتے ہیں کہ بیٹے ماں باپ کا سہارا بنتے ہیں۔ ان کا پڑھنا بہت ضروری ہے۔کیا بیٹیاںماں باپ کا سہارا نہیں بنتیں ؟ ان کے دکھ سکھ نہیں بانٹتیں ؟ ان کے لیے یہ احساس نہیں رکھتیں کہ ماں باپ کی خدمت کرنا ان کا اولین فرض ہوتاہے “۔ میری خواہش میرے دل میں ہی رہ گئی تھی۔ میری ایک پھپو ہیں۔ وہ سعودی عرب میں رہتیں ہیں۔ وہ جب بھی پاکستان آتیں تھیں تو میرے لیے بہت سی چیزیں لے کر آتیں ہیں۔ جب انہیں پتا چلا کہ مجھے اسکول جانے کا بہت شوق ہے، تو انہوں نے ابو سے کہا، ” آپ فاریہ کو اسکول ضرور بھیجیں۔ اس کی تعلیم س کے سبھی اخراجات میں اٹھاوں گی“۔ ابو بہت ناراض ہوئے مگر انہوں نے مجھے اسکول میں داخل کروادیا۔ یوں میری خواہش پوری ہوگئی او میں تعلیم حاصل کررہی ہوں۔ وہ خاموش ہوگئی۔
 

میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ آج بھی ہمارے معاشرے میں کئی گھرانے یسے ہیں جہاں بیٹوں کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ بیٹیوں کو کمتر سمجھا جاتا ہے۔ ان کی خواہشات کو دبایا جاتا ہے جب کہ ہمارے مذہب اسلام نے عورت کو عزت دی اسے جینے کا حق دیا اس کے بنیادی حقوق متعین کیے۔ ماں کے قدموں کے نیچے جنت اور بہن کی دعاوں  میں اثر دیا ہے۔کہیں کہیں ایسا لگتا ہے کہ ہم اسلام کی بنیادی تعلیمات بھی بھلا چکے ہیں یا شاید ان کی اہمیت نہیں رہی ہماری نظر میں ۔

آج بیسویں صدی میں جب دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ قدم سے قدم ملا کر ملک کی ترقی وخوشحالی میں بھرپور کردار ادا کررہی ہیں وہیں ہمارے ملک پاکستان میں اب بھی بچیوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ انہیں بچپن ہی سے درجہ دوم دیا جاتا ہے۔انہیں وہ پیار اور خلوص نہیں ملتا جس کی وہ مستحق ہیں۔

انہیں بھرپور طریقے سے پھلنے پھولنے نہیں دیا جاتا جس کا نتیجہ یہ کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا کھل کر اظہار نہیں کرسکتیں۔ان کے لیے تنگ نظری اور قدامت پسندی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ ایسی گھٹن اور بے اعتمادی کی فضا میں پروان چڑھ کر بعض اوقات یہ بچیاں یہ ہماری عزتیں غلط راہوں کی مسافر بن جاتیں ہیں۔آج ہم اپنے اسی غلط معاشرتی رویے اور سوچ کی وجہ سے اس مقام پر کھڑے ہیں کہ جہاں اقوام عالم میں ہماری کوئی پہچان نہیں ہے۔ کوئی وقار نہیں ہے۔

Facebook Comments