اف یہ بچہ!“، کاشف کو ٹھنڈے پانی سے کھیلتے دیکھ کر بے اختیار امی جان پریشان ہو کر اس کی جانب لپکیں۔ ”ٹھنڈے پانی سے نہیں کھیلو۔ بیمار ہو جاو گے“۔ ”کچھ نہیں ہوتا امی جان“، شرارت سے مسکراتے ہوئے اس نے اپنی روشن آنکھیں مٹکائیں۔ چند ہی لمحوں میں تیز دوڑتا وہ گیلی آستینوں کے ساتھ گھر سے باہر میدان میں بچوں کے ساتھ کھیل میں شامل ہو کر امی کی پہنچ سے دور جا چکا تھا۔ ”اف یہ لڑکا! ٹھنڈے فرش پر ننگے پاوں۔ کاشف چپل پہنو“، امی متفکر سی کاشف کے پیچھے بھاگ رہی تھیں جب کہ بے فکری سے کھلکھلاتے کاشف کو امی کے آگے آگے بھاگنا ایک دلچسب کھیل لگ رہا تھا۔ ”اچھا پہنتا ہوں“۔ امی کے بگڑتے تیور دیکھ کر اس نے جلدی سے یخ ہوتے پاوں میں چپل پہنی۔ ”جرابیں بھی پہنو“، امی اسے گھورتے ہوئے واپس باورچی خانے کی طرف مڑ گئیں جہاں بہت سا کام ان کا منتظر تھا۔

امی میرے سر میں درد ہو رہا ہے، کاشف کا چہرہ اور آنکھیں سرخ ہورہی تھیں۔ کھانا بناتے ہوئے امی جان نے پلٹ کر کاشف کی جانب دیکھا۔ ”خدایا خیر“۔ کاشف کا ماتھا چھو کر انہوں نے اسے گود میں لے لیا۔ ”اسے تو بخار ہے“، پریشانی کے عالم میں انہوں نے خودکلامی کی۔ ”امی جی طیبہ خالا کا فون ہے“، کرن فون امی جان کو دینا چاہ رہی تھی۔ ”نہیں، خالا سے کہو کاشف کو بخار ہے۔ امی ابھی بات نہیں کر پائیں گی“۔ ’’کاشف کو زمزم پلایا آپ نے‘‘، بابا جانی جو ابھی دفتر سے واپس آئے تھے کاشف کو بخار میں مبتلا دیکھ کر امی جان سے پوچھ رہے تھے۔ ”جی ہاں۔ تھوڑا کھانا کھلا کر دوا بھی دی ہے۔ رات خیریت سے گزر جائے تو صبح ڈاکٹر کو دکھا لیں گے ان شاءاللہ“، امی جان بھی فکر مند تھیں۔ ”اس کو وقفے وقفے سے رات بھر تھوڑا تھوڑا پانی پلانا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ بخار دوزخ کی بھاپ ہے اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو“۔ (بخاری) ”جی ہاں آب زمزم ہو یا عام پانی۔ بہت سی تکالیف میں دونوں ہی مفید ہیں۔ موجودہ طبی سائنسی تحقیق ثابت کر رہی ہے کہ تیز بخار کو پانی سے ٹھنڈا کرنا چاہیے یا پھر مریض کو ٹھنڈی جگہ رکھنا چاہیے جبکہ اسلام سائنس سے قبل ہی ترقی یافتہ ہے“، امی جان نے تبصرہ کیا۔

واہ جی واہ پیاری سی فاطمہ گڑیا ہمیں ملنے آئی ہے، امی جان طیبہ خالا اور ان کے بچوں کو اپنے گھر دیکھ کر خوش ہوتے ہوئے بولیں۔ ”ہم تو آپ کو ملنے نہیں آئے“، ننھی فاطمہ معصومیت سے بولی۔ ”ہائیں تو پھر کیوں آئی ہیں آپ“؟ امی جان حیران ہوتے ہوئے کہنے لگیں۔ ”میری امی جان کہہ رہی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ”بیمار کی عیادت کرو“۔ (صحیح البخاری) تو ہم توکاشف بھائی کی عیادت کے لیے آئے ہیں۔ بھائی بیمار ہیں ناں“۔ ”اچھا جی تو یہ بات ہے“، امی جان بے ساختہ مسکرا دیں۔ ”کیا ہوا میرے پیارے سے بھانجے کو“؟ طیبہ خالا نے آگے بڑھ کر کاشف کے سر پر ہاتھ پھیرا جو اپنے بستر پر لیٹا تھا۔ ”خالا جانی میرے سر اور گلے میں بہت درد ہو رہا ہے“، کاشف نے خالا کی پیار بھری نگاہیں دیکھ کر فورا ہی اپنی تکلیف بیان کی۔ ”گھبرانے کی کوئی بات نہیں، اللہ تعالی نے چاہا تو یہ مرض گناہوں سے پاک کرنے والا ہو گا“۔ ( بخاری) خالا نے پیار سے کاشف کی پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے مسنون دعا دی۔

اسی اثناءمیں سائرہ ٹرالی لیے کمرے میں داخل ہوئی۔ کیلے، سیب اور امرود کی سلیقے سے کٹی ہوئی کاشوں سے بھری پلیٹیں۔ سرخ سرخ انار کے دانوں سے بھرا ہوا شیشے کا پیالہ اور خشک میوہ جات کی ڈش دیکھ کر مہمان بچوں کے منہ میں پانی بھر آیا۔ چھوٹی فاطمہ نے تو جلدی سے اناروں کی جانب ہاتھ بڑھایا۔ طیبہ خالا کی گھورتی نگاہوں کا اس نے تو کچھ خاص اثر نہ لیا جب کہ اس سے بڑا عمر سنبھل کر تھوڑا پیچھے ہوگیا۔ ”نہیں بھئی طیبہ! بچوں کو گھورو نہیں لینے دو انہیں پھل“، امی جان نے ناراضگی سے اپنی چھوٹی بہن کی جانب دیکھا۔ ”کیوں نہیں آپا۔ لیں ضرور لیکن انہیں گھر سے باہر کیا رویہ رکھنا ہے؟ یہ بھی تو انہیں معلوم ہونا چاہیے“، خالا نے مسکرا کر امی جان کو قائل کرنا چاہا۔ ”عمر بیٹے یہ سیب لو“، امی جان نے سیبوں کی پلیٹ عمر کی جانب بڑھائی۔ عمر نے شرماتے ہوئے ایک کاش اٹھائی اور کہنے لگا، ”خالہ جان مجھے پتا تھا آپ ہمیں کھانے کے لیے پھل اور میوہ جات دیں گی“۔ ”وہ کیسے بھلا“؟ امی جان نے حیرانی سے عمرکی جانب دیکھا۔

جب ہم آپ کے پاس آرہے تھے تو دادی جان نے مجھے بتایا تھا۔ جب کوئی مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کو جاتا ہے تو وہ لوٹتے وقت تک جنت کے باغات سے میوہ خوری میں رہتا ہے۔ (مسلم) عمر کی بھولی بھالی سمجھ پر امی اور خالا دونوں ہی ہنس دیں۔ ”ہماری دادی جان جھوٹ نہیں بولتیں“، ننھی فاطمہ کو ان کے ہنسنے کی وجہ سمجھ نہیں آئی تھی۔ ”جی بالکل آپ کی دادی جان یقیناً جھوٹ نہیں بولتیں۔ انہوں نے بالکل سچ کہا۔ جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان کی صبح کے وقت میں عیادت کرتا ہے، تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں اور اگر شام کو عیادت کرنے جاتا ہے تو بھی صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے حق میں دعا کرتے ہیں اور اس کے لیے جنت میں تروتازہ اور پکے ہوئے پھل ہیں“۔ ( احمد، ابن ماجہ، ترمزی) امی جان نے بچوں کو بتایا۔ ”لیکن یہ ضروری نہیں کہ جس کے گھر آپ جائیں وہ آپ کو کھانے کے لیے پھل ہی دیں۔

پھلوں کا وعدہ اللہ تعالی کا ہے۔ وہ ہمیں اس دنیا میں بھی دیں گے اور آخرت میں بھی ان شاءاللہ اور ہاں کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ بیمار کے گھر والے کھانے کے لیے کوئی ہی چیز نہ لائیں تو کیا ایسے میں پھر آپ عیادت کے لیے نہیں جائیں گے؟“، خالا جان نے بچوں کی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔ ”نہیں ہم بیمار کی عیادت کو ضرورجائیں گے“، عمر جلدی سے بولا۔ ”کیونکہ پھلوں ( اجر و ثواب) کا وعدہ اللہ تعالی کا ہے۔ بیمار کے گھر والوں کا نہیں“۔ ”شاباش“، امی جان نے شفقت سے فاطمہ کے سرپر ہاتھ پھیرا جو خوشی خوشی انار کھانے میں مصروف تھی۔

ان سب کے لیے تو پھل اور میوہ جات اور میرے لیے یہ گندا بخار، سر درد اور کڑوی کڑوی دوائیں، کاشف نے ان سب کی باتیں سن کر رونا شروع کر دیا۔ ”ارے نہیں نہیں ایسے نہیں کہتے۔ بخار کو برا بھلا نہیں کہتے۔ تمہیں پتا ہے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی سخت بخار آجایا کرتا تھا“۔ ”کیا واقعی؟“ کاشف نے حیرانی سے خالا جان کی طرف دیکھا۔ ”جی بالکل۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اس حال میں آیاکہ آپﷺ کو سخت بخار تھا۔ میں نے عرض کیا، ”یا رسول اللہﷺ! کیا وجہ ہے کہ آپ کو سخت بخار آیا کرتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا، ” ہاں تم میں سے دو شخصوں کے برابر مجھ اکیلے پر بخار کی سختی ہوتی ہے“۔میں نے عرض کیا، ”اس لیے کے آپ کو دوہرا اجر ملتا ہے“؟ آپﷺ نے فرمایا، ”ہاں اور (سنو!) جس مسلمان کو کوئی بھی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالی اس کی وجہ سے اس کے گناہ ایسے جھاڑ دیتاہے جیسے درخت اپنے پتے جھاڑ دیتا ہے“۔ (بخاری)

تو جناب! آپ نے جو جو گندے کام کیے ہوئے ہیں ناں وہ سب اس بخارکی وجہ سے معاف۔ ان شاءاللہ، خالا جان نے پیار سے کاشف کی طرف دیکھا اور میں تمہارے لیے مزیدار سوپ بھی بنا کر لائی ہوں۔ وہ پی کر دوا لینی ہے وقت پر۔ ”آو میں دعا پڑھ کر تمہیں دم کر دوں۔ خالاجانی نے سات مرتبہ دعا پڑھ کر کاشف پر دم کیا۔ ”خالا جانی آپ نے کیا کہا“۔ میں نے کہا، ”میں عرش عظیم کے مالک بزرگ و برتر اللہ سے تمہارے لیے شفا کا سوال کرتی ہوں۔ اللہ تعالی آپ کو اس بیماری سے ضرور شفا دے دیں گے۔ ان شاءاللہ“۔ ”سچ“، کاشف نے خوشی سے پلکیں جھپکائیں۔ ”لیکن آئندہ ٹھنڈے پانی سے نہیں کھیلنا اور نہ ہی ننگے پاوں چلنا ہے“۔ ”ٹھیک ہے خالا جانی۔ آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں میں بخار میں نہ کھیل سکتا ہوں نہ پڑھ سکتا ہوں، میں سمجھ گیا ہوں کہ صحت مند مومن بیمار مومن سے بہتر ہے۔ میں آئندہ اپنی صحت کا خیال رکھوں گا۔ ان شاءاللہ“۔

Facebook Comments