بِن دکھوں کے ہمارا گزارا نہیں
ہاں کبھی تھا مگر اب بچارا نہیں
یوں سمجھ لو مجھے رات کا وہ دیا
جو جلا رات بھر بس سدھارا نہیں
خط لکھا ہے اسے یہ سیاہی بھرا
یوں کہو اب تجھے ہم گوارا نہیں
چاند بھی رات بھر خامشی میں رہا
چاند کو بھی یہاں اب سہارا نہیں
لا پتا ہو گیا ہے مگر وہ کہاں
کھو دیا ہے جسے اب پکارا نہیں
تم سبھی سے جدا ہو مگر ہے یہی
بس تم ہی سے لگا میں تمہارا نہیں
دکھ مرے درمیاں ہیں مگر ہیں ترے
بجھ گیا ہوں مگر اب خسارا نہیں

Facebook Comments