دن بھر پیٹ کی آگ بجھاتا رہا
شب بھر تیرے ہجر میں جلتا رہا
مصرع تیرے حسن پہ ادھورا رہا
کالی رات میں جاگتا شعر لکھتا رہا
لکھ کر ساحل سمندر پہ تیرا نام
سمندر کی موجوں سے ٹکراتا رہا
دھوئیں سے تصویر تیری بناتا رہا
کوئی دیوانہ تجھے اتنا چاہتا رہا
تیرے دیدار کو کوئی اتنا ترستا رہا
ساھل بن کر شہر در شہر بھکٹا رہا
دسمبر کے لوٹنے کا انتظار کرتا رہا
تیرے قدموں کے نشاں ڈھونڈتا رہا
شب روز دعاوں میں تجھے مانگتا رہا
خدا سے صرف ایک تجھے مانگتا رہا

Facebook Comments