انسان ترقی کی منازل طے کرتا ہوا ستاروں اور سیاروں تک جا پہنچا ہے۔ فاصلے سمٹ گئے ہیں اور ناممکنات ممکنات میں بدل گئے ہیں۔ زندگی کے ہر شعبہ میں انقلاب نے انسان کو سہولیات اور جدت دی ہے۔ اس کے باوجود انسان ایک مشینی زندگی گزار رہا ہے۔ ماضی کا انسان قدرت کے قریب تھا جب کہ آج کا انسان کوسوں دور ہے۔ تاریخ کے جھروکوں میں دیکھا جائے تو انسانی ترقی کی اصل ابتدا تب ہوئی جب اس نے قلم کا استعمال سیکھ لیا یعنی لکھنا پڑھنا سیکھ لیا۔ علم کی لازوال اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآنِ پاک کی پہلی آیت جو نازل ہوئی وہ پڑھنے سے متعلق تھی اور اس میں پہلا لفظ ”پڑھو“ تھا۔ ’’پڑھو! اپنے پروردگار کے نام سے جس نے تمھیں پیدا کیا‘‘۔ (سورة العلق :آیت1)

انسان نے قلم کے ذریعے ابتداءمیں پودوں کے پتوں، جانوروں کی کھالوں، پتھروں اور کپڑے پر لکھنا اور اس کو محفوظ کرنا شروع کیا۔ کاغذ کی ایجاد اگلا قدم تھا جب کہ پرنٹنگ سے اس شعبہ میں انقلاب آگیا۔ ترقی کرتے ہوئے آج انسان اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ اسے لکھنے اور محفوظ کرنے کے لیے کاغذ اور قلم کی بھی ضرورت نہیں رہی۔ انٹرنیٹ اور کمپیوٹر نے دنیا کو حقیقی معنوں میں ایک گلوبل ولیج بنا دیا ہے اور اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس کی بدولت پوری دنیا آپ کی مٹھی میں رہتی ہے لیکن اس کے باوجود کتاب اور قلم کی اہمیت سے انکار بے وقوفی کے سوا کچھ نہیں۔ کاغذ اور قلم کی ایجاد نے ادب کو فروغ دیا اور ادب کی مختلف اقسام نے دنیا کو اپنے سحر میں جکڑ لیا۔ کمپیوٹر اور ٹیلی وژن سے پہلے کا دور بلا شبہ کتاب کا دور تھا۔ دنیا بھر میں ادب، سائنس، فکشن اور آرٹس کی کتابیں لاکھوں کی تعداد میں پرنٹ ہوتی اور پڑھی جاتی تھیں۔ ادب کی مختلف اصناف، شاعری، نثر، ڈرامہ، افسانہ کی تاثیر انٹرنیٹ اور ٹیلی وژن نہ ہونے کے باوجود سرحدوں اور سمندروں پار پہنچ جاتی اور ادبا، شعرا، مصنفین اور کاتبین کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

آج صورتِ حال یہ ہے کہ یہ لوگ تنگدستی اور زبوں حالی کا شکاری ہیں۔ افراتفری، جدیدیت اور مادیت پرستی کے دور میں لکھاریوں کے لیے روزی روٹی کا حصول ناممکن ہو گیا ہے۔ ایک لکھاری کو اپنے فن سے محبت ہوتی ہے وہ تنگدستی میں بھی اپنے فن سے دستبردار نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے ناپائیدار دور میں بھی ہزاروں، لاکھوں کی تعداد میں ادبی کتب شائع ہوتی ہیں۔ ادباءکی تعداد میں اضافہ ہی ہوا ہے اور ادبی معیار میں بھی تنوع آیا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کتاب سے عدم دوستی اور پڑھنے کی عادت کے فقدان کی وجہ سے دورِحاضر کا انسان علم کے بیش بہا خزانے تک رسائی سے محروم ہے۔ تسلیم کہ انٹرنیٹ معلومات کا بہت بڑا ذخیرہ ہے لیکن جو روحانی آسودگی اور تسکین کسی ادبی کتاب کو پڑھ کر محسوس ہوتی ہے آج ہم اس سے قاصر ہیں۔ لائبریریوں کا رجحان تقریباً ختم ہوتا جا رہا ہے۔ مغرب میں اب بھی لوگ لائبریریوں سے استفادہ حاصل کرتے ہیں، ہمارے ملک میں ایک تو لائبریریاں نہ ہونے کے برابر ہیں اور اگر ہیں بھی تو عوامی دلچسپی ختم ہو چکی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے سے کتاب پڑھنے کا رجحان ختم ہوتا جا رہا ہے؟ ایک وجہ ملک کے اندر بڑھتی ہوئی افراتفری اور غیر یقینی حالات ہیں۔ تعلیم کی شرح اور معیار کا کم ہونا بھی ایک اہم وجہ ہے۔ تیسری سب سے اہم وجہ انٹرنیٹ کی مقبولیت ہے۔

کتابی کیڑا کی کہاوت تو سنی تھی لیکن انٹرنیٹ نے انسان کو انٹرنیٹ کا کیڑا بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر غیرضروری وقت گزاری نئی نسل کی عادت بن گئی ہے اگرچہ انٹرنیٹ پر بھی ادبی و تفریحی مواد موجود ہے لیکن غیراخلاقی مواد کی بھی کمی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اساتذہ اور والدین بچوں کو کتاب بینی کی اہمیت سے آگاہ کریں اور کتابیں پڑھنا ان کی عادت بنائیں۔ سوشل میڈیا پر فضول وقت گزاری اور انٹرنیٹ پر گیمز نہ تو صحت افزاءمشاغل ہیں اور نہ ہی ان کا شخصیت پر کوئی اچھا اثر پڑتا ہے جب کہ کتاب بینی سے بچوں کی ذہنی تعمیر ہوتی ہے۔ ادب اور اخلاقیات کا شعور آتا ہے۔ منفی سرگرمیوں اور غیرضروری مشاغل سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔ ضروری نہیں کہ والدین طلباءو طالبات کو نئی کتابیں ہی خرید کر دیں۔ بازاروں میں استعمال شدہ اور پرانی کتابیں کوڑیوں کے داموں دستیاب ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ مختلف موضوعات کا انتخاب کریں اور سستے کتاب میلوں سے کتب خرید کر اپنے بچوں کو دیں اور انہیں کتاب بینی کی طرف راغب کریں۔ طلباءو طالبات اور دیگر افراد بھی ان سستے کتاب میلوں اور اسٹالز سے کتب خرید کر کتاب بینی کو اپنا مشغلہ بنائیں۔ والدین اپنے بچوں کو لائبریری لے کر جائیں اور انہیں لائبریری کی رکنیت لے کر دیں۔

علم کی پیاس بجھا نی ہے اور کتابیں بھی سستے نرخ مل جائیں تو ایسے میں آپ رخ کرلیں اتوار کے روز ریگل چوک کراچی کا جہاں پرانی کتابوں کے اسٹالز لگائے جاتے ہیں۔ ریگل چوک کہ جہاں عام دنوں میں تو کافی رش ہوتا ہے لیکن اتوار کے روز یہاں کاروباری طبقہ نہیں بلکہ کتاب دوست انسانوں کا رش لگا رہتا ہے۔ پرانی کتابوں کے اس بازار کا رخ کرنے والے زیادہ تر نوجوان ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہاں ہر موضوع پر سستی کتب مل جاتی ہیں۔ اس بازار میں سائنس، فکشن، شاعری، انسائیکلوپیڈیا، عربی، بزنس، بینکنگ، انگریزی زبان اور بچوں کی نظمیں اور مختلف عنوانات کی کتابیں دستیاب ہیں۔ بسا اوقات انتہائی نایاب کتابیں بھی نہایت ارزان قیمت پر مل جاتی ہیں جو ڈھونڈنے سے بھی نہ مل سکیں۔ اس بازار میں گذشتہ 10 سالوں سے اسٹال لگانے والے محمد یونس کا کہنا ہے کہ، ”ہم گھروں سے کتابیں اکٹھی کرتے ہیں اور یہاں لاکر بیچ دیتے ہیں جس سے گذر بسر ہوجاتی ہے“۔

اسی طرح لاہور میں انار کلی بازار اور پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس کے سامنے ہزاروں کی تعداد پرانی، نادر اور نایاب کتب فٹ پاتھوں پر انتہائی سستے داموں دستیاب ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ان کا قدر دان کوئی نہیں۔ علم و حکمت کا خزانہ فٹ پاتھوں پر پڑا ہے جب کہ نئی نسل اسے انٹرنیٹ پر تلاش کرکے اپنا وقت ضائع کر رہی ہے۔ انہی کتابوں کو پڑھ کر بڑے بڑے دانشور، مفکر، ادیب، سائنس دان، ڈاکٹر اور انجینئر بنے ہیں۔ خدارا نئی نسل اس خزانہ کو اپنے اندر سمیٹ لے بصورتِ دیگر معاشرے کی اقدار و روایات تباہ ہو جائیں گی اور قوم کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔

Facebook Comments