بلال! بلال! اٹھ جاو میرے بچے! دیکھو دن کتنا چڑھ آیا ہے۔’’ امی! بس کچھ دیر اور سونے دیں نا، کون سا اسکول جانا ہے چھٹیاں ہی تو ہیں۔ پلیز پانچ منٹ اور‘‘،بلال نے کسمسا کر کہا اور کروٹ لے کر پھر سے سونے کی کوشش کرنے لگا۔ ’’نہیں!‘‘، امی نے ڈانٹا۔ آج تم نے فجر کی نماز بھی قضا کر دی ہے اور اب دیکھو نو بج رہے ہیں اور تمہاری آنکھ ہی نہیں کھل رہی۔ بس بہت ہو گیا! اب اٹھ جاو۔ بلال نہ چاہتے ہوئے بستر سے نکلا اور پیر پٹختا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔ امی کو اس کے اس طرح برے طریقے سے چلنے پر غصہ آگیا وہ کمبل تہہ کر کے اس کے پیچھے آئیں۔ انہوں نے دیکھا کہ بلال پھر سے دادی جان کی گود میں سر رکھے سونے کی اداکاری کر رہا تھا۔ امی نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ دادی جان نے اشارے سے منع کر دیا۔ امی کچن کی جانب مڑ گئیں تاکہ لیٹ جاگنے والے لاڈلے کے لیے ناشتہ تیار کر سکیں۔

دادی جان نے تسبیح مکمل کر کے بلال کے چہرے پر پھونک ماری تو بلال نے مسکرا کر آنکھیں کھول دیں۔ دادی جان نے محبت سے کہا، ”کیوں میرے بچے! یہ میں نے کیا سنا کہ تم نے فجر کی نماز قضا کر دی۔ یہ تو اچھے آثار نہیں ہیں“۔ کس چیز کے آثار دادی جان؟ بلال نے لا پرواہی سے کہا۔ میں دیکھ رہی ہوں کہ تم ایک خطرناک بیماری میں مبتلا ہو رہے ہو۔ جی! بلال نے حیرت سے کہا، ”کیا مطلب دادی جان! میں سمجھا نہیں“۔ دیکھو بیٹا! یوں دیر تک سونا، نماز کی پابندی نہ کرنا، پڑھائی سے جی چرانا اور تو اور کھیل کود میں بھی دلچسپی نہ لینا یہ سب ایک خطرناک بیماری کی ابتدا ہے۔ کون سی بیماری دادی جان! بلال نے مردنی سے کہا، اس کی آنکھوں میں خوف اتر آیا تھا۔ اس بیماری کا نام ہے سستی اور کاہلی۔ اس کا علاج بھی نہایت مشکل ہے۔ ”سچ! دادی جان“، بلال نے کہا۔

ہاں بیٹا! سستی صرف یہی نہیں کہ تم اپنی روز مرہ کی ذمہ داریوں سے جی چراو،کھیل کود سے دور بھاگو یا نالائق طالب علم کی طرح تھک ہار کر تعلیم کو خیر باد کہہ دو۔ نہیں بیٹا! یہ بیماری تمہارے تصور سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔بلال کی آنکھیں اس بیماری کے تصور سے ہی پھیل گئی تھیں۔ اس بیماری سے اور کیا ہوتا ہے دادی جان؟ بلال نے خوف زدہ لہجے میں پوچھا۔ بیٹا! سب سے پہلے تو تمہاری جسمانی صحت خراب ہو گی۔ تعلیم سے بھی ہاتھ دھو بیٹھوگے تو جاہل رہ جاوگے اور اگر یہ تمہارے اندر سرائیت کر گئی تو تم کبھی کامیاب نہ ہوسکو گے اور یہ تو تم نے سنا ہی ہو گا کہ، ”خالی دماغ شیطان کا کارخانہ ہوتا ہے“۔ تو بیٹا! جب تم خالی الذہن ہوگے تو شیطان تمہارے دماغ میں الٹے سیدھے خیالات بھر دے گا اور تمہیں ناکامی کے راستے پر چلائے گا۔ سست اور نکما انسان اس دنیا میں نہ صرف ناکام ہوتا ہے بلکہ رسوا بھی ہوتا ہے اور کوئی بھی ایسے انسان کو پسند نہیں کرتا۔ اس کا کوئی دوست نہیں ہوتا۔ تو کیا تم شیطان کا آلہءکار بننا چاہو گے؟ نن نہیں! دادی جان کبھی نہیں۔

دادی جان مسکرائیں! میں جانتی تھی تم ایسا کبھی نہیں چاہو گے مگر اس سے بھی زیادہ خوفناک بات تو میں نے تمہیں ابھی بتائی ہی نہیں۔ وہ کیا ہے؟ دادی جان! بلال نے کپکپاتے ہوئے لہجے میں کہا۔میرے بچے! جیسا کہ اس بیماری کا ابھی آغاز ہی ہے اور تم نے آج فجر کی نماز قضا کی ہے۔ آہستہ آہستہ یہ تمہاری عادت بن جائے گی اور تم اکثر نماز قضا کرنے لگو گے اور شیطان کا آلہءکار بننے کے ساتھ ساتھ تم اللہ کو بھی ناراض کر لوگے کیونکہ تم اس کا حکم نہیں مان رہے ہوگے۔ نہیں نہیں! دادی جان میں ایسا کبھی نہیں چاہوں گا۔ پلیز دادی جان مجھے نہیں پتا تھا کہ یہ ذرا سی سستی اتنی خطرناک بلکہ خوفناک ہو سکتی ہے۔ میں آئندہ کبھی سستی کا مظاہرہ نہیں کروں گا۔ میرے پیارے اللہ جی! پلیز مجھے معاف کر دیجیے۔ مجھے اس خطرناک بیماری سے بچا لیجیے۔ مجھے شیطان کے شر سے محفوظ رکھیے، مجھے اپنی پناہ میں رکھیے۔ میرے پیارے اللہ جی! میری مدد کیجیے کہ میں آپ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہوں اور ایک بھر پور زندگی گزاروں۔بلال پورے خشوع وخضوع سے دعائیں مانگ رہا تھا ،دادی جان اس کی ہر دعا پر پورے دل سے آمین کہہ رہی تھیں جبکہ امی ناشتے کی ٹرے لیے مسکرا رہی تھیں۔

Facebook Comments