سعودی عرب کے ساتھ پا کستان کے عوام کی محبت لازوال ہے، پاکستانی عوام کے دلوں میں سعودی عرب کے لیے محبت واحترام ہی پاکستان حکومتوں کو سعودی عرب کے ساتھ اچھے تعلقات پر مجبور کرتا ہے۔ اسی لازوال محبت وخلوص کی بنیاد پر ہی پاک عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ موجود ہے۔ جس کے تحت سعودی عرب کی سالمیت کو خطرہ ہونے پر پاکستان دفاع کرے گا، ایسا کوئی معاہدہ پاکستان کا کسی دوسرے ملک کے ساتھ نہیں ہے۔ سعودی عرب نے بھی کسی بھی مشکل موقع پر پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑا، ہمیشہ دو قدم آگے بڑھ کر مدد کی ہے۔ آج پا کستان معاشی مشکلات کا شکار ہے، اس موقع پر سعودی عرب کا بھرپورتعاون قابل تحسین ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ایسے موقع پر پاکستان کا دورہ کررہے ہیں جب پا کستان قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہے۔ ایک قرض واپس کرنے کے لیے مزید قرض لینا پڑرہے ہیں، ملک میں معاشی ڈپریشن چھاچکا ہے، ایسے میں سعودی سرمایہ کاری تازہ ہوا کا جھونکاہو گا۔ اربوں ڈالر کی نوید پاکستانی معیشت کو مضبوط کرنے میں نمایاں کردار ادا کرے گی۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سعودی عرب کا مستقبل ہیں، ان کے ساتھ بہتر مضبوط تعلقات ہی سعودی عرب کے ساتھ مستقبل میں بہترین تعلقات کی بنیاد ہیں۔

پاکستان سعودی عرب تعلقات عموماً خوشگوار اور گرم جوشی کے حامل رہے ہیں، مسلم لیگ( ن ) کی گزشتہ حکومت کے شروع میں سعودی عرب نے ڈیڑھ ارب ڈالر گفٹ کیے تھے۔ یمن وار میں سعودی عرب کو پاکستان سے ساتھ دینے کے حوالے سے شاید کچھ توقعات ہوں، تاہم سعودی عرب نے پاکستان سے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا مگر وزیراعظم نواز شریف نے خادم حرمین شریفین سلمان بن عبد العزیز کو فون کر کے پاک افواج بھجوانے کی پیشکش کی جس کا سعودی عرب کی طرف سے بھرپور خیرمقدم کیا گیا۔ اس وقت اپوزیشن پاکستان پیپلزپارٹی اور حکومتی اتحاد ی جے یو آئی نے اس کی شدید مخالفت کے باعث اے پی سی ہوئی اور معاملہ پارلیمنٹ میں گیا، پارلیمنٹ میں سعودی عرب کی مدد کے لیے پاک فوج نہ بھجوانے کا فیصلہ ہوا۔ اس پر سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کی طرف سے منفی ردعمل کا اظہار فطری امر تھا جس سے پاک سعودی تعلقات میں سرد مہری آئی۔ اس کے اثرات عمران خان کے پہلے دورہ سعودی عرب کے دوران بھی محسوس کیے گئے۔

وزیراعظم عمران خان کے دوسرے دورہ سعودی عرب کے دوران عالمی منظر نامے میں بڑی تبدیلی رونما ہوئی جس نے پاکستان کی معاشی صورتحال کے سدھار میں کلیدی کردار ادا کیاہے۔ وزیراعظم عمران خان سعودی عرب میں سرمایہ کاری کانفرنس میں مدعو تھے۔ اس دوران ترکی میں سعودی سفارتخانے میں سعودی صحافی جمال خشوگی کا قتل ہوا، امریکہ برطانیہ اور دیگر کئی ممالک نے جمال خشوگی قتل کے تناظر میں سعودی عرب میں سرمایہ کاری کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا جب کہ پاکستان نے کسی مصلحت اور دباﺅ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ برقرار رکھا۔ سعودی عرب کو جب عالمی تنہائی کا سامنا تھا، پاکستان کی طرف سے اس کے شانہ بشانہ ہونے کے عمل نے اس کے سارے گلے شکوے دور کر دیے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ سعودی عرب نے پاکستان کا ممنون احسان ہوتے ہوئے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیے ہیں۔ پاک سعودی تعلقات کی تاریخ میں سعودی عرب کا سب سے بڑا وفد، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں پاکستان پہنچ گیاہے، اس دورہ میں 8 بڑے سمجھوتوں پر دستخط ہوں گے۔ مفاہمتی یادداشتوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تاریخ میں پہلی مرتبہ کوآرڈی نیشن کونسل بنائی جائے گی جس کی سربراہی پاکستان کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان اور سعودی عرب کی طرف سے کراﺅن پرنس شہزادہ محمد بن سلمان خود کریں گے جس میں وزارتوں کے حکام سمیت سعودی کمپنیوں کے سربراہان بھی شامل ہوں گے۔

آئندہ دو سال میں سات ارب ڈالر کی مزیدسعودی سرمایہ کاری ہوگی۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورے اور پاک سعودی عرب سرمایہ کاری و تجارت کے معاہدوں کے بروئے عمل ہونے سے پاکستان کی معیشت مضبوط ہو گی اور پاکستان معاشی طاقت بننے کی پوزیشن میں ہو گا۔ وزیر اعظم عمران خان اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ کی شب و روزکاوشوں سے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں مگر بدقسمتی سے اچھے کام کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھ کر پاکستان کو یمن جنگ میں جھونکنے کی سازش کا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے پاک عرب تعلقات کو نئی جہت دیتے ہوئے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو پاکستان میں آئل ریفائنری لگانے پر آمادہ کیاہے۔

تحریک انصاف جو بھی نیا منصوبہ شروع کرتی ہے، مسلم لیگ(ن) اس کا کریڈٹ لینا شروع کر دیتی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے ہیلتھ کارڈ کا اجراءکیا تو مسلم لیگی وزراءنے میڈیا کے سامنے شور مچایا کہ یہ منصوبہ ہمارا ہے، جب کہ مسلم لیگ(ن) اور پی ٹی آئی کے منصوبے میں زمین آسمان کا فرق ہے، حالانکہ مسلم لیگ(ن) نے پنجاب میں چودھری پرویز الٰہی کے منصوبوں کو بند کر کے ایک بدترین سیاسی غلطی کی تھی، اب میاں نواز شریف نے ایک اور دعویٰ کر دیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو دراصل انہوں نے انویسٹمنٹ پر راضی کیا تھا۔ بالفرض اگر مسلم لیگ(ن) نے راضی کیا بھی تھا تو اچھی بات ہے لیکن اب ان کے واویلے سے یہ نظر آرہا ہے کہ اگر یہ منصوبہ ان کے دور میںشروع ہوتا تو بہت اچھا تھا مگر آج یہ سی پیک کو متاثر کرنے کا سبب بنے گا۔ ایسا زہریلا پراپیگنڈا کر کے برادر اسلامی ملک اور دیرینہ دوست چین کے مابین غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، سیاسی جماعتوں کو تو ایسے پروپیگنڈے کو پھیلانے کی بجائے اس کا سدباب کرنا چاہیے۔ سازشی بریگیڈ اگر اپنے دور حکومت میں اس قدر غیر ملکی انویسٹمنٹ پاکستان نہیں لا سکی تو کم از کم پاکستان کی ترقی کے راستے میں روڑے اٹکانے سے باز آنا چاہیے۔ یہ دوست ممالک کے ساتھ تعلقات بگاڑنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ساتھ بھی دشمنی ہے۔ پاکستان کو ترقی کی منازل طے کرتے دیکھ کر کچھ عناصر جھوٹی افواہیں پھیلا رہے ہیں تا کہ وہ پاکستان کی ترقی کے سامنے بند باندھ سکیں، عوام کو ایسے پروپیگنڈے پر کان نہیں دھرنے چاہئیں۔

سعودی عرب کی پاکستان میں انویسٹمنٹ درحقیقت تحریک انصاف حکومت کی غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان لانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ دونوں ممالک کے مابین اس سرمایہ کاری سے نہ صرف تعلقات مضبوط ہوں گے بلکہ عوام بھی خوشحال ہوں گے۔ آئل ریفائنری لگنے سے جو تیل سعودی عرب سے اس خطے میں 40 دن میں آتا تھا اب 7 دن میں پہنچ سکے گا، جس سے نہ صرف اس کی لاگت میں کمی آئے گی بلکہ عوام کو بھی ریلیف ملے گا۔ دونوں ممالک کے مابین 8 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط سے جہاںدونوں ممالک کے تعلقات کو وسعت ملے گی، وہاںبرادر اسلامی ملک کے ویژن 2030ءکو بھی اس سے تقویت ملے گی۔ پاکستان نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اپنی طرف متوجہ کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ پرامن، دہشت گردی سے پاک، کاروبار کے لیے پرکشش اور سیر و سیاحت کے لیے ایک آئیڈیل ملک ہے۔

خوش قسمتی سے آج پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے ماحول بھی سازگار ہے، دہشت گردی کا خاتمہ ہو چکا، ضرورت کے مطابق بجلی اور گیس کی صورت میںتوانائی دستیاب ہے۔ حکومت کا زیادہ تر فوکس برآمدات پر ہونا چاہیے۔ سیاحتی مقامات بھی حکومت کی خصوصی توجہ کے متقاضی ہیں۔ پاکستان سیاحوں کے لیے جنت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس شعبہ پر توجہ دی جائے تو وسائل میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اب سعودی معاونت سے پاکستان کی معیشت مستحکم ہوگی تو حکومت کے لیے گوناگو مسائل میں پھنسے عوام کو ریلیف دینے کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی بے بدل ہے اور دونوں ممالک کی موجودہ قیادتیں اس بے لوث دوستی میں شہد کی مٹھاس پیدا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہیں۔ قوم سعودی ولی عہد کے استقبال میں دیدہ و دل فرش راہ کیے ہوئے ” اہلاً و سہلاً پرنس محمد بن سلمان مرحبا“ پکار رہے ہیں۔

Facebook Comments