مغربی دنیا کی طرف سے جاری کردہ بے حیا دنوں کا انعقاد دراصل تہذیبوں کے موت کے مترادف ہے۔ نوجوان نسل میں بے حیائی کو فروغ دینے کی غیر محسوس طریقے سے سازش رچی جارہی ہے۔ مغربی دنیا کا تصور دراصل مذہبی منافرت پر مبنی ہے یہ لوگ جدت پسندی کے قائل ہیں جو خدا کی واحدنیت کے خلاف ہے۔ مغربی دنیا اب دھیرے دھیرے مشرقی دنیا میں سرایت کر رہی ہے۔ مختلف قسم کے دنوں کا انعقاد کر کے رشتوں کے تقدس کو پامال کیا جارہا ہے۔ صرف ایک دن کوخصوصی طور پر منایا جانے لگا ہے مدرز ڈے ہو یا فادرز ڈے، فرینڈپ ڈے ہو یا ویلنٹائن ڈے وغیرہ جن کا انعقاد کرکے سمجھا جاتا ہے کہ رشتوں کے حقوق ادا ہوجائیں گے، ایسے ہی مغربی دنیا نے بہت سے دنوں کو نام دے رکھے ہیں۔

جس کا مقصد نوجوان نسل کو اسلامی و اخلاقی اقدار و روایات سے منحرف کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ ہر سال فروری کے مہینے میں نوجوان لڑکے لڑکیاں پھولوں کے تبادلے، چاکلیٹ ڈے، ٹیڈی ڈے، ہگ ڈے، جیسے بے حیا اور حرام دن کو منانے کے لیے بے چین دکھائی دیتے ہیں۔ روز ڈے سے لیکر زنا کاری تک ان دنوں کو منایا جاتا ہے اور اسے عشق و محبت کا نام دیا جاتا ہے۔ مغربی کلچر کو فروغ دینے اور بے حیائی کو عام کرنے میں سب سے زیادہ سوشل میڈیا کا ہاتھ ہے جس کے زریعے سے مشرقی معاشرہ بری طرح متاثر ہوا ہے اور گزشتہ کچھ سالوں سے مسلمان بھی ان حرام دنوں کو منانے اور لغو رسومات میں برابر کے شریک ہیں۔

آج بنت حوا اپنی عزت و عصمت کو خود اپنے ہاتھوں سے برباد کرنے کے لیے تیار ہے۔ ہمارے نوجوان لڑکے لڑکیاں کالج یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کے نام پر عشق معاشقہ میں ملوث ہیں۔ مخلوط تعلیمی نظام نے معاشرے کو بگاڑنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ آج کل کالج یونیورسٹیوں میں دیکھا جائے تو کھلے عام ہمارے نوجوان لڑکے لڑکیاں غیر محرم کے ساتھ رنگ رلیاں مناتی پھرتی ہیں۔ اس میں صرف صنف نازک ہی قصوروار نہیں ہے بلکہ ابن آدم بھی برابر کا شریک ہے۔ مرد اور عورت جب تنہا ہو تو ان میں تیسرا شخص شیطان ہوتا ہے جو انسان کا کھلا دشمن ہے، والدین اپنی بچیوں کو بڑے اعتماد کے ساتھ کالج یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخل کراتے ہیں اور والدین کا اندھا اعتماد ان کے لیے بڑا مہنگا ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے والدین کی عزت کا خیال کیے بغیر نامحرم لڑکوں سے تعلقات قائم کر لیتی ہیں اور اپنی عزت عصمت کو تار تار کرتی ہیں۔ اسی طرح وہ لڑکے جن کے لیے ان کے والدین  نہ جانے کیا کیا خواب دیکھ رکھے ہوتے ہیں، جنہیں خوش دیکھ کر ان کی بوڑھی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں جنہیں وہ اپنے بڑھاپے کا سہارا سمجھتے ہیں وہی لڑکے کالج، یونورسٹی اور آفس میں کسی کے گھر کی عزت کو اچھال رہے ہوتے ہیں۔

اس پرفتن دور میں خواتین کو اپنی عزتوں کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہر طرف حوس پرستوں کی نگاہیں اوارہ کتوں کی طرح گھومتی رہتی ہے جو جسموں کو نوچنے کے فراق میں رہتے ہیں، فحاشی و عریانیت کو فیشن نما لباس نے بہت زیادہ فروغ دیا ہے اس لیے قرآن یہ مطالبہ کرتا ہے کہ، ”جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے“۔(سورة النور 19) اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ قرآن میں ارشاد فرمایا، ’ مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیںاور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت رکھیں یہی ان کے لیے پاکیزگی ہے ،لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالی سب سے خبردار ہے“۔) سورة النور 30 (

اس کے آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ،”مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں اور اس طرح زور زور سے پاو¿ں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم ہو جائے ، اے مسلمانوں! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاو“۔ (سورة النور 13)

اگر اللہ کے بنائے ہوئے قانون فطرت کے خلاف انسان عمل کریں تو بے حیائی اور فحاشی پھیلنا طے شدہ بات ہے۔ رشتوں کے معیار کو صرف پیسہ، بنگلہ، گاڑی، بنادیا گیا ہے۔ لڑکیوں کے رشتوں کا معیار اعلیٰ تعلیم، خوبصورتی، نوکری ہونا بنا دیا گیا، جب کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، ”اگر وہ مفلس بھی ہو تو نکاح کردو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں غنی کردے گا“۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ لڑکے لڑکیوں کے بلوغت کو پہنچتے ہی ان کے جوڑ کا رشتہ تلاش کرکے فوراً نکاح کردیں۔ کیوں کہ اگر فطری طور پر نوجوان بلوغت کو پہنچ گئے ہیں تو شہوانی خواہشات جنم ضرور لیں گی اور اگر حلال طریقے پر اس کی تکمیل نہیں کی گئی تو ظاہر سی بات ہے نوجوان بے حیائی اور حرام کاموں سے اسے پورا کرنے کی کوشش کریں گے جو آج کل ویلنٹائن ڈے جیسے بے حیا دنوں کے طور پر سامنے آرہا ہے اس لیے بے حد ضروری ہے کہ فطری قانون کا احترام کیا جائے ورنہ بنت حوا کی عزتیں عصمت پامال ہوتی رہی گی اور معاشرے میں پاک دامنوں کو چراغ لے کر ڈھونڈنا پڑے گا۔

Facebook Comments