ہمارے چیف جسٹس صاحب کا فرمان ہے کہ، ”انتقامی نتائج کی زد میں آنے کے اندیشے اور خدشے کے تحت ہماری عدالتوں میں گواہان صحیح گواہی دینے اور اصل حقائق اور کوائف بیان کرنے سے گریز کرتے ہیں“۔ یہ اس نظام کی ناکامی کا حال ہے جس کے بارے میں فوکویاما نے فخریہ کہا تھا کہ، ”اب دنیا کو جمہوریت کے علاوہ کسی دوسرے نظام کی ضرورت نہیں“۔ خود ہمارے ہاں صرف سیاستدان ہی نہیں بلکہ معاشرے کا ہر طبقہ اس کا گرویدہ اور قصیدہ خواں ہے۔ گویا کہ علامہ اقبال نے اپنی نظم ”ابلیس کی مجلس شوریٰ“ میںشیطان کے ایک چیلے کا قول ان الفاظ میں ادا کیا ہے کہ

کیا امامان سیاست کیا کلیسا کے شیوخ
سب کو دیوانہ بنا دیتی ہے میری ایک ھو“

دنیا اس کی مصداق بنی ہوئی ہے اور اس نظام کے عدالتی گوشے کی بے بسی کا یہ حال ہے کہ چیف جسٹس یہ کہنے پر مجبور ہے جو اوپر بیان ہوا ہے۔ گویا اس نظام کی خباثت اس سطح پر پہنچی ہوئی ہے کہ عدالتیں لوگوں کو عدل فراہم کرنے سے قاصر ہیں اوربڑے بڑے مجرم عدالت سے اس لیے بری کردیے جاتے ہیں کہ ان کے خلاف گواہان دستیاب نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ حکومتیں عدالتوں پر یہ الزام عائد کرتی ہیں کہ ہم تو مجرموں کو پکڑتے ہیں اور ہماری عدالتیں انہیں بری کردیتی ہیں۔ آپ کہیں گے کہ ایسا تو ہمارے ملک میں ہورہا ہے، ان مغربی ممالک میں جنہوں نے یہ نظام ترتیب دیا ہے، وہاں تو ایسا نہیں ہوتا۔ وہاں تو ملک کی بڑی سے بڑی شخصیات قانون کی گرفت سے نہیں بچتی۔ ہاں ایسا ہوتا ہے لیکن ان کے اپنے ملک کی حد تک۔ ممالک غیر کے لیے ان کا قانون مختلف ہوتا ہے۔ دور کیوں جائیں۔ عراق پر جنگ تھوپنے کا اعتراف برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے اعلانیہ کیا لیکن اب تک امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں کے سربراہوں کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ قائم نہیں ہوا اور نہ اس کا کوئی امکان نظر آتا ہے کیونکہ دنیا جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مقولے پر عمل پیرا ہے۔

خود ہمارے ملک کی سیاست میں بیرونی قوتیں اثر انداز ہوتی ہیں۔ جمہوریت کا راگ الاپنے ان قوتوں کے اس سے کوئی غرض نہیں کہ ہمارے جمہوریت ہویا آمریت ۔ یہ قوتیں اپنے ملکی مفاد میں جب چاہیں جمہوری حکومت کا تختہ الٹوا کر آمریت کی راہ ہموار کردیں اورجب چاہیں مضبوط آمریت کے خلاف سازشیں کرکے جمہوری حکومت قائم کردیں۔ اس کے برعکس ہم ان قوتوں کے مفادات کے لیے ان کی ایک دھمکی پر ڈھیر ہوجاتے ہیں اور ملک کو تباہی کی راہ پر گامز ن کردیتے ہیں۔ ہمارے ملک کی 68 سالہ تاریخ اس کی شاہد ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ نہ یہاں جمہوریت قدم جماسکی ہے۔ آج بھی جمہوریت کا سنگھاسن ڈولتا نظر آرہا ہے۔ دوسری جانب آمریت اپنی قوت اور سیاستدانوں کی ابن الوقتی پر مبنی حمایت کے زور پر اقتدار پر قابض تو ہوجاتی ہے لیکن اپنے اقتدار کے دوام کے حصول میں وہ بھی ناکام رہتی ہے۔

اس کے برعکس، ہمارا دور نظام راشدہ رہا ہو جو ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا کا بہترین نظام تھا یا دور ملوکیت، ہر دور میں عدل کے معاملے میں مسلم یا غیر مسلم کی کوئی تخصیص نہیں برتی گئی جس کے نتیجے میں نہ صرف غیرمسلم رعایا نے اسلامی ریاستوں میں قائم عدل کو سراہا بلکہ اس سے متاثر ہوکر دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔ دور نبوی میں ایک مسلمان کے مقابلے میں ایک یہودی کے حق میں حقائق کی بنیاد پر فیصلہ دیا گیا اور اس فیصلے کے نتیجے میں اس مسلمان کی منافقت اس طرح ظاہر ہوئی کہ وہ مذکورہ فیصلے پر غیر مطمئن ہوکر حضرت عمر فاروقؓ کے پاس انصاف طلب کرنے کے لیے پہنچ گیا۔ جب حضرت عمر فاروق ؓ کو معلوم ہوا کہ دربار نبویﷺ سے فیصلہ صادر ہونے کے باوجود وہ ان سے انصاف طلب کرنے آیا ہے تو انہوں نے اس کی گردن اڑا دی۔

دوسرا واقعہ حضرت علی کرم اللہ وجھہ کے دور خلافت میں پیش آیا جب آپؓ نے اپنے زرہ کی یہودی سے بازیابی کے لیے قاضی کا دروازہ کھٹکھٹا یا اور اپنے دعویٰ کے لیے اپنے صاحبزادے اور غلام کو پیش فرمایا تو قاضی نے دونوں کی گواہی کو رد کردی اور یہودی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ قاضی کے اس فیصلے سے متاثر ہوکر یہودی جو حضرت علی کرم اللہ وجھہ کی زرہ پر قابض تھا، دائرہ اسلام میں داخل ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبیوں کی بعثت کا مقصد ہی قیام عدل کو بتایا ہے۔ اس نے مسلمانوں کو نظام عدل عطا فرمایا اور وہ اللہ کے نظام عدل پر مبنی فیصلے کرتے رہے ہیں کسی انسان کے پیش کردہ نظام کی بنیاد پر نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارا خالق ہے اور اس نے سورہ الملک میں فرمایا ہے کہ، ”کیا وہی نہیں جانے گا اسے جس کو اس نے پیدا کیا ہے“۔ اللہ کو اپنے بندوں کی جملہ ضروریات کا علم ہے۔ انسان تو اتنا لاچار ہے کہ وہ اپنے بارے میں اتنا نہیں جانتا جتنا اس کے بارے میں اس کا خالق جانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانوں کے بنائے ہوئے تمام نظام حیات ناکامی سے ہمکنار ہوئے ہیں خواہ وہ بادشاہی نظام ہو، سیکولرزم اور کمیونزم ہو یا آج کے دور کا سرمایہ دارانہ جمہوری نظام ہو۔ لیکن ہمارے عام سیاستداں ہی نہیں بلکہ مذہبی سیاسی قائدین بھی اس جمہوریت پر فدا ہیں۔

حال ہی میں ایک معروف عالم دین جو ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائد بھی ہیں فرمایا ہے کہ، ”ہم جہاد والا اسلام نہیں چاہتے بلکہ جمہوریت والا اسلام چاہتے ہیں“۔ ہمارے ہا ںایک روشن خیال جنرل نے اپنے اقتدار کے دوام کے لیے ملک کا سافٹ امیج دنیا کے سامنے پیش کرنے کے کیا کچھ نہیں کیا لیکن افسوس کہ ایک عالم دین اقتدار کے حصول کے لیے دنیا کے سامنے دین کا سافٹ امیج پیش کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ پہلے انہوں نے امریکی سفیر سے گزارش کی کہ ہمیں بھی آزمایا جائے ۔پھر ان ہی کی جماعت کے ایک عالم دین نے اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کا عندیہ دیا اس کے باوجود کہ علماءسمیت تمام مذہبی سیاسی جماعتوں کے قائدین اس پر متفق ہیں کہ توہین رسالت کے قانون میں کسی قسم کی ترمیم کی کوئی گنجائش نہیں۔ وہی بات جو علامہ اقبال نے کہی کہ،

کیا امامان سیاست کیا کلیسا کے شیوخ
سب کو دیوانہ بنادیتی ہے میر ی ایک ھو

اس جمہوریت کی ھو پر ہم مرغ بسمل کی تڑپ رہے ہیں۔ ہم اسے نیلم پری سمجھتے ہیں جبکہ اقبال اسے جمہوری قبا میں پائے کوب دیو استبداد قرار دے چکے ہیں۔ چیف جسٹس صاحب نے جس صورتحال کا ذکر فرمایا ہے اس کی صرف ایک وجہ ہے کہ ہم نے اسلام کے نظام عدل اجتماعی کو ملک میں نافذ کرنے کی بجائے جمہوریت کے اسی ظالمانہ اور استحصالانہ نظام کوسینے سے لگایا ہوا ہے جس نے دنیا کو تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ اسلام کے نظام عدل اجتماعی کی غیر موجودگی کے نتیجے میں معاشرے میں فساد برپا ہے اور اسی کی ایک صورت یہ ہے کہ بابر ولی کے قتل کی شہادت دینے والے 6گواہوں کو قتل کردیا گیا۔ مقدموں میں پیش ہونے والے پروسیکیوٹرز کو بھی قتل کرنے سے دریغ نہیں کیا گیا۔ عدالت ایسی صورت میں بے بسی کے اظہار کے سوا اور کیا کرسکتی ہے۔

ضرورت اس کی ہے کہ یہاں اسلام کا عدل اجتماعی کاقیام عمل میں لایا جائے۔ موجودہ حکومت پاکستان کو مدینہ طرز کی اسلامی ریاست بنانے کا عزم تو ظاہر کرتی ہے لیکن اس کے نظام کے قیام اور شریعت کے نفاذ کے بارے میں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے حالانکہ اس حکومت کے عزم کے نتیجے میں اس پر یہ فرض بدرجہ اولیٰ عائد ہوتا ہے کہ وہ اس سلسلے میں اقدامات کا آغاز کرے۔

Facebook Comments