پچھلی دو تین دہائیوں سے ہمارے معاشرے میں ویلنٹائن ڈے منانے کا رواج بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کبھی کسی غیر مسلم کو دیکھا ہے انفرادی یا اجتماعی طور پر کہ وہ ہم مسلمانوں کے تہوار مناتے ہوں؟ کبھی کسی کو عید مناتے دیکھا؟ تکبیر بلند کرتے ہوئے عیدگاہ کی طرف جاتے دیکھا؟ عیدالاضحیٰ پر جانور قربان کرتے دیکھا؟ رمضان کے روزوں کا اہتمام کرتے دیکھا؟

نہیں ناں۔ تو پھر جو کچھ وہ کرتے ہیں، وہ سب ہم کیوں کررہے ہیں؟ ہم ویلنٹائن بھی منائیں، کرسمس بھی، نیو ایئر بھی، برتھ ڈے بھی اور بسنت بھی۔ کیا ضروری ہے کہ یہ تمام غیر مسلموں کے تہوار منا کر ہم اپنی روشن خیالی کا ثبوت دیں۔ سوچنے کی بات ہے جن روشن خیال قوموں کے پیچھے ہم بھاگ رہے ہیں، یہ نام نہاد روشن خیالی تو خود ان کے اپنے اندر موجود نہیں ہے۔ وہ تو کبھی ہمارے تہوار نہیں مناتے پھر ہم کیوں اندھا دھند ان کے پیچھے بھاگ رہے ہیں؟

اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں بنایا کہ لوگ ہماری پیروی کریں، قرآن میں فرمایا، ”تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے نفع کے لیے نکالے گئے ہو، تم نیکیوں کا حکم کرتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو“۔(القرآن)اللہ تعالیٰ نے انبیاءکرامؑ کے بعد اس امتِ مسلمہ کا ذمہ لگایا کہ وہ اب یہ کام کرے اور اس کا پیغام پورے عالم میں پہنچائے مگر افسوس ہم یہ کام کیا کرتے ہم تو خود اپنی ہی شناخت کھو بیٹھے۔ ہمارے تو اپنے طور طریقے، پسند نا پسند سب غیروں کے طریقے پر ہوگئی۔

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

ذرا سوچیے! ہماری زندگی کا مقصد تو اللہ کو راضی کرنا تھا اللہ کے دین کو سربلند کرنا تھا۔ ”بے شک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا، میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے“۔

میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی
میں اسی لیے مسلماں، میں اسی لیے نمازی

ہماری زندگی کی ہر ادا وہ ہونی چاہیے تھی جو ہمارے رب کو پسند ہو ہمارا تو جینا مرنا سب اللہ کے لیے تھا، پھر ہم کیسے گمراہ ہوگئے، کیوں بھٹک گئے راستے سے؟ ہم اپنے مقصد کو بھول کر کس راستے پر چل پڑے اپنی منزل کے نشان کھو دیے ہم نے وہ طریقے اپنا لیے کہ بس کسی نہ کسی طرح ہم غیروں کو پسند آجائیں۔ ہم نے راہ مستقیم کو چھوڑ دیا، صالحین کا طریقہ چھوڑ دیا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی پیروی کو چھوڑ دیا۔ ہم اللہ کی طرف جانے والا راستہ بھول گئے غیروں کی تقلید میں ہم بھی دنیا کو سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں اسی کی خوشیوں کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ ظاہر پرست ہوگئے، ساری لذتیں بس دنیا کے لیے سمجھ بیٹھے۔ ہر کوئی بس اسی دنیاوی زندگی کو آسان سے آسان اور پر تعیش بنانے میں لگا ہوا ہے۔

ہر کوئی مست مئے ذوقِ تن آسانی ہے
تم مسلمان ہو؟ یہ اندازِ مسلمانی ہے؟

عزیزانِ من! یہ تو نہیں تھا مومن کا کردار۔ مومن کے مقاصد تو بہت بلند ہوتے ہیں، وہ تو دوسروں کے لیے مرنے جینے والا ہوتا ہے وہ تو اسلام کی حرمت پہ مر مٹ جانے والا ہوتا ہے اور آج ہم کیسے مسلمان ہیں کہ اللہ کی نافرمانی کرکے خوش ہوتے ہیں اور گناہ کا احساس تک نہیں ہوتا۔ ہمارے ہی مسلمان بھائی اس دنیا میں کیسی کسمپرسی کی حالت میں ہیں، شام کو دیکھیں، برما، فلسطین اور خود ہمارے اپنے ملک میں غربت کی کس نچلی سطح پر لوگ جی رہے ہیں اور ایسے میں ہم لوگ، غیروں کے تہوار پر پیسے لٹا رہے ہیں، ان کے کلچر کو فروغ دے رہے ہیں۔ ویلنٹائن کے ہارٹ بلون اور سرخ گلابوں میں مست ہیں؟ کوئی حد بھی ہے بے حسی اور بے وفائی کی؟

اس اندھی تقلید کی کوئی انتہا بھی ہے؟ کسی کی پیروی کرنے سے پہلے اتنا بھی نہیں سوچتے کہ جن کے پیچھے ہم چلنے لگے یہ خود کہاں جا رہے ہیں؟ کیوں جا رہے ہیں؟ ان کا مقصد کیا ہے؟ ان کی منزل کیا ہے؟ اور ان کے پیچھے چلتے چلتے آخر ہم کہاں پہنچیں گے؟ قیامت کے دن انسان انہیں کے ساتھ ہوگا جن کی مشابہت اختیار کی، تو کیا ہم بھی ان کے پیچھے چلتے چلتے جہنم میں اوندھے منہ گرنا چاہتے ہیں؟ اور مشابہت تو ان لوگوں کی اختیار کی جاتی ہے جن سے دل اور روح کا تعلق ہوتا ہے۔ جن کی عظمت اور محبت دل میں ہوتی ہے۔ ہمارے دلوں میں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عظمت سب سے زیادہ ہونی چاہیے تھی۔ تو پھر کفار کی مشابہت کیوں، ان کی پیروی کیوں؟

کیا بہترین امت ہونے کے بعد بھی ہمارے دلوں میں عظمت اور محبت کفار کی ھے؟ ہم اپنے انجام سے کیوں ایسے لاپرواہ ہوگئے؟ کیوں ایسی بیکار اور فضول چیزوں میں پڑے ہیں؟ یہ تو ناجائز محبت ہے، حرام کی طرف لے کر جانے والی ہے، گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کافروں کا بنایا ہوا دنیا کا غلیظ ترین، ناجائز اور حرام رشتہ ہے۔ یہ نوجوان لڑکیوں کو پھول دینے والے، ان پھولوں کے پیچھے چھپے خطرناک بھیڑیے ہیں۔ عزتوں کے سوداگر ہیں، عزت و ناموس کی دھجیاں اڑانے والے ہیں۔ یہ نکاح کے پاکیزہ بندھن میں باندھ کر زندگی بھر کا ساتھ نبھانے والے نہیں بلکہ یہ ظالم، معصوم کلیوں کی خوشبو سونگھ کر، مسل کر پھینک جانے والے لوگ ہیں۔ محبت کا جال پھینک کر، ویلنٹائن کے سرخ پھولوں کا دانہ ڈال کے معصوم فاختاوں کا شکار کرنے والے، یہ لوگ کسی سے مخلص نہیں، انہیں کسی سے پیار نہیں۔ انہیں صرف اپنے آپ سے محبت ہے یہ صرف اپنی حیوانی خواہشات کے غلام ہیں۔

اسلام میں ایسی کسی محبت کا کوئی تصور نہیں۔ اسلام ایک پاکیزہ مذہب ہے، پاک رشتوں، پاک تعلقات اور پاک محبتوں کا درس دیتا ہے۔مسلمانوں کے لیے اللہ کا حکم یہ ہے، ”نکاح کی قید میں لانے والے بنو، نہ کہ بدکاری کرنے والے اور نہ چھپی آشنائی رکھنے والے“۔(المائدہ) ”مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہی ان کے لیے پاکیزگی ہے۔ لوگ جو کچھ کریں، اللہ تعالیٰ سب سے باخبر ہے اور مسلمان عورتوں سے بھی کہو کہ اپنی نگاہیں جھکا کر رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں“۔(سورہ النور)

ذرا سوچیے! ہمیں قرآن کے حکم پرچلنا ہے یا غیروں کے؟ قرآن مجید ساری کتابوں میں افضل، دینِ اسلام سارے ادیان میں افضل اور ہمارے نبیﷺ، سارے انبیائے کرام میں افضل اور یہ امت، ساری امتوں میں افضل اور پھر بھی ہم لوگ غیروں کے نقشِ قدم پر چلیں، آخر کیوں؟کیا ہمارا کوئی نام نہیں، پہچان نہیں، ہماری روایات نہیں، ہمارا کوئی تمدن نہیں، کوئی تہذیب نہیں؟ کیا ہمارا کوئی محبوب نہیں؟ جو اپنی محبتوں کو یوں ناجائز طریقوں پر لٹاتے پھرتے ہیں۔جانتے بھی ہو مسلمانو! ہمارا محبوب ِحقیقی اللہ ہے۔ ”اور ایمان والے تو اللہ سے بڑی شدید محبت کرتے ہیں“۔

”نبیﷺ کا حق مقدم ہے، مومنوں پر اپنی جانوں سے بھی زیادہ“۔(سورة الاحزاب) آج اسی نبیﷺ کے حکموں کو توڑتے ہیں، کوئی حد ہے بیوفائی کی؟ اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہماری نسلوں کو اس فتنے سے بچائے۔ والدین کو بھی چاہیے اس سخت فتنے کے دور میں اپنی اولاد کو آزمائش میں نہ ڈالیں، جہاں چاروں طرف سے ان کی حیا پر حملے کیے جاتے ہیں۔ ہر طرف حیا سوز ہتھیار ہیں۔ ٹی وی کا ہر ڈرامہ محبت اور عشق کی داستانیں لیے ہوتا ہے، فلموں میں جذبات کو بھڑکاتے بیہودہ مناظر، ہر ایک کے ہاتھ میں برائی کے کھلونے، آج تو برائی کو ڈھونڈنا ذرا بھی مشکل نہیں رہا۔ ہر ایک کی، بچے بچے کی پہنچ میں ہے۔ یا اللہ ہماری اس نسل پر رحم فرما، اسے کئی محاذوں کا سامنا ہے۔ ان کی مدد کر، انہیں ذلت و گمراہی کے ان گڑھوں سے نکال لے۔ انہیں حیا و پاکدامنی اور تقویٰ کا لباس پہنا دے۔ ان کی آنکھوں کو شرم سے جھکا دے۔ ان کے دلوں کو اپنی محبت سے آباد کردے۔ انہیں دورِ جدید کے گندے فتنوں سے بچالے۔

یہ دنیا بہت رنگین ہے، اس کے فتنوں سے بچ نکلنا بہت مشکل ہے۔ ہاں مگر یہ کام آسان ہو سکتا ہے جب انسان اپنی ترجیحات کو بدل لے، جب وہ آخرت کو دنیا پر ترجیح دینا سیکھ لے۔”بلکہ تم لوگ تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت تو بدرجہاں بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے“۔( سورة الاعلیٰ) دنیا کی زندگی کبھی خوشیوں کا خزانہ نہیں بن سکتی۔ دائمی خوشیاں جنت میں ہیں تو ہماری کوششیں تو اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے ہونی چاہئیں، ہماری محبتوں کے حقدار تو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اور باقی سب اہلِ ایمان، ہمارے والدین، بہن بھائی اور ہمارے تمام جائز رشتے ہیں۔

Facebook Comments