”کہاں کی تیاری ہے“؟ سرخ جوڑے میں ملبوس سلکی بالوں کو پھیلائے پلوشہ کو لاونج سے نکلتے دیکھا تو نہ چاہتے ہوئے بھی دادو نے پوچھ لیا۔ جب کہ انھیں معلوم تھا کہ پلوشہ کی بد زبانی سے ان کا دل کتنی بار زخمی ہوچکا ہے۔ ”اف اوہ! آپ ضرور بیچ میں سوال کریں گی اپنے کام سے کام رکھا کریں“۔شانوں پر بالوں کو گراتے ہوئے پلوشہ نے موبائل کانوں سے لگایا اور دہلیز پار کر گئی۔ پلوشہ کو معلوم تھا کہ جب تک ڈیڈ فارن ٹور پر ہیں، ممی نانو جان کی طرف ہی زیادہ پائی جائیں گی یا پھر اپنی کٹی پارٹیز انجوائے کر رہی ہوںگی۔ ریڈ مرسڈیز اس کے دروازے پر آکر رکی تو اس نے تیزی سے قدم آگے بڑھا دیے۔”ہائے! عمیر نے اس کے لیے باہر نکل کر گاڑی کا دروازہ کھولا، لکنگ کول، عمیر نے ایک اسٹائل سے کہا۔ ”اچھا!“ پلوشہ اس کی بات سن کر ہنس پڑی۔ سارے فرینڈز تو جمی کے گھر پر ہیں تم بھی آجاتیں مجھے کیوں بلوایا۔ ”کیا مطلب؟

آج کا دن ہم دونوں کے لیے ہے۔ تم آج مجھے وش نہیں کرو گے ہر سال کی طرح آفٹر آل، آئی ایم یور ویلنٹائن“، پلوشہ نے مصنوعی خفگی سے اسے دیکھا۔ ”اچھا اچھا“، عمیر نے گاڑی کی اسپیڈ بڑھا دی۔دادو کے کے لیے یہ منظر بھی نیا نہیں تھا مگر ان کا دل بدلتے حالات کے ساتھ ڈرنے لگا تھا جوان جہان لڑکی اور رات کو گھر سے باہر نکلے یہ کب گوارا تھا انھیں مگر جب ماں باپ کی طرف سے آزادی ملی ہوئی تھی تو وہ سوچتی تھیں کہ اب پلوشہ سے کچھ نہیں پوچھیں گیں مگر پھر بھی اس کے بھلے کے لیے کہہ دیتی تھیں۔ اب وہ بے چین سی ہوکر حفاظت کی دعائیں پلوشہ کے لیے پڑھنے لگیں۔

عمیر ساحل کے کنارے بنے خوبصورت سے ریسٹورانٹ میں اسے لے آیا جہاں سرخ رنگوں کی بہار تھی کئی جوڑے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے داخل ہو رہے تھے۔ پلوشہ اس وقت خود کو ہواو¿ں میں اڑتا محسوس کررہی تھی عمیر کی سنگت میں مستقبل کی سنہری باتوں میں وہ ایسی کھو گئی کہ اسے وقت گزرنے کا بھی احساس بھی نہیں ہورہا تھا۔ عمیر نے اس کے چہرے پر آتے بالوں کو چھوتے ہوئے اس کا طلسم توڑا، ”آج کیا قتل کا اردہ ہے حسینہ“؟

”کیا مطلب“؟، پلوشہ نے اپنی گھنی پلکیں اٹھائیں۔ ”ویسے میں دیکھ رہا ہوں تم آج کل زیادہ خوبصورت لگنے لگی ہو“، عمیر نے اس کے مرمریں ہاتھوں کو تھام لیا۔ ”وہ تو میں ہوں اس میں کیا شک“؟ اس کی نقرئی ہنسی نے سر بکھیرا تو عمیر جیسے بہکنے لگا تھا۔ ”پلوشہ!“، عمیر نے ایک جذب سے اسے پکارا، کیوں نہ آج اس خوبصورت رات میں ہم ایک ہوجائیں کل کس نے دیکھی ہے۔ عمیر کے شیطانی جذبات کے بند گویا ٹوٹنے والے تھے۔ پلوشہ اس کی بات سن کر حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔”بکواس مت کرو سمجھے، عمیر کھانا آڈر کرو نا اب بھوک لگی ہے، پلوشہ نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر ہلایا مگر درندگی کی بھوک پلوشہ کی بھوک سے زیادہ تیزی سے مچل رہی تھی اور جب کہ شکار اپنی مرضی سے چل کر آیا تھا۔ اس لیے وہ زیادہ پر جوش تھا عمیر کی آنکھوں میں شاطرانہ چمک جاگی اور وہ ابھی آیا کہہ کر اٹھ گیا۔

دادو نے گھڑی کی طرف دیکھا تو ان کا دل اور ہولنے لگا آج کا دن کسی کو شاید یاد نہیں تھا مگر ان کے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔ اس دن ان کے شوہر نے تکلیف میں تڑپ کہ جان دی تھی گو کہ موت تو مشیت ایزدی تھی مگر ایک خلش تھی کہ کاش بروقت امداد مل جاتی تو دل کا دورہ جان لیوا نہ ہوتا اس دن ان کے اکلوتے بیٹے کامران کی بیرون ملک روانگی تھی جسے راحیلہ نے مزید دولت کمانے کی لالچ میں اپنے بھائی کے پاس بھیجا تھا حالانکہ کسی چیز کی کمی نہیں ان کے گھر میں مگر راحیلہ اپنے میکے اور خاندان والوں کی طرح دولت کی دوڑ میں شامل ہونا چاہتی تھی۔ کامران بیمار باپ کو چھوڑ کر جانا نہیں چاہتا تھا مگر راحیلہ نے طنز کے نشتر اس طرح فاروق صاحب پر چلائے کہ انھوں خود ہی بیٹے کو مجبور کیا کہ وہ گھر والوں کے اچھے مستقبل کے لیے باہر چلا جائے۔

صبح بیٹے نے عارضی رخصت چاہی تو رات کو شوہر نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کرلیں۔ راحیلہ اب آزاد تھی اس لیے زیادہ تر وقت گھومنے اور میکے میں گزرتا۔ کچھ سالوں سے وہ دیکھ رہی تھیں کہ چودہ فروری کو پلوشہ زور وشور سے اس دن کو منانے کا اہتمام کرنے لگی تھی باپ سر پہ تھا نہیں اور ماں تو ویسے ہی اس کے ہمقدم تھی۔ غمزدہ دادی کے لیے ہمدردی کے دو بول نہیں تھے ان کے پاس اور غیروں کی بے ہودہ رسم کا اہتمام عروج پر تھا اس لیے یہ دن دادو کو اور بھی اداس کردیتا تھا۔مگر آج پلوشہ کی تیاری دیکھ کر انجانے خوف نے انھیں گھیرے میں لے لیا تھا اور وہ مستقل اس کی جان اور عزت وعصمت کی حفاظت کی دعائیں کر رہی تھیں۔ یہ عمیر کہاں رہ گیا اب تک آیا کیوں نہیں اس نے موبائل میں ٹائم دیکھا جسے وہ پہلے ہی سائلنٹ پر کر چکی تھی تاکہ کوئی اور تنگ نہ کرے۔ بھوک لگ رہی ہے اب تو زوروں کی۔

پلوشہ نے کافی دیر بعد گزرنے کے بعد ادھر ادھر نظریں دوڑائیں مگر وہ اسے کہیں نظر نہیں آیا اس کو دیکھنے کے لیے وہ اٹھ کر رسیپشن کی جانب بڑھ گئی، جہاں اس نے عمیر کو جاتے دیکھا تھا ایک جانب نسبتا سنسان جگہ پر کونے میں کھڑا عمیر اسے نظر آیا۔ وہ فون پر کسی سے بات کر رہا تھا۔ اس کی پشت پلوشہ کی جانب تھی اس کی آواز قدرے دھیمی تھی مگر وہ غصے میں بول رہا تھا۔ ”تم سے پہلے ہی کہا تھا فیروز، مجھے آج رات کے لیے کمرہ چاہیے تھا تم نے کل پھر کیوں ڈن کیا تھا“؟ عمیر کی آواز غصے سے اونچی ہوئی میں کچھ نہیں جانتا تو مینجر سے بات کر کمرہ ہر حال میں چاہیے۔ ہاں ہاں پلوشہ میرے ساتھ ہے یار وہ ہنسا تھا۔ ”ابے نہیں یار! پاگل ہوں کیا جو اس سے شادی کروں گا۔ دوست ہے بس، اتنی گھٹیا پسند تھوڑی ہے میری، جسٹ فار انجوائے منٹ سمجھا کر یار! وہ اور بھی کچھ کہہ رہا تھا عمیر کی شیطانی ہنسی نے پلوشہ کے ہوش اڑا دیے تھے۔

پھر تو جلدی سے مجھے روم کی چابی بھجوا، اوکے عمیر بات ختم کر رہا تھا۔ عمیر مجھے کیا سمجھ رہا ہے میں تو ہلا گلہ کرنے آئی تھی جیسے ہر سال ہم کرتے ہیں، پھول گفٹس باتیں چھڑ چھاڑ مگر آج یہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کرنے والا ہے؟ پلوشہ کے رونگھٹے کھڑے ہوگئے تھے۔ اس نے ایک لمحہ بھی وہاں سے نکلنے میں دیر نہیں کی اگلے پل وہ اس جگہ سے باہر نکل آئی۔ وہ آج ویلنٹائن ڈے کو صرف انجوائے کرنے عمیر کے ساتھ آئی تھی اس کا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا۔

ابھی وہ کسی ٹیکسی والے کو روکتی کہ اسے یونی ورسٹی کی دوست جویریہ نظر آگئی جو اپنے شوہر کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ رہی تھی گو کہ جویریہ نقاب میں تھی مگر وہ اس کے شوہر کو اکثر یونی ورسٹی میں جویریہ کو چھوڑنے اور لینے آتا دیکھ چکی تھی۔ جویریہ مجھے گھر تک چھوڑ دینا پلیز اس کا گھر بھی اسی علاقے میں تھا۔ پلوشہ بنا اجازت ہیلو ہائے کیے بغیر اس کی گاڑی میں بیٹھ گئی۔ اسے لگا وہ اب محفوظ ہے اگر وہ عمیر کے ساتھ ہوتی اور وہ اپنے گھٹیا ارادوں میں کامیاب ہوجاتا تو اس کی آزاد خیالی ہوا ہوچکی تھی۔ یہ دکھ اسے اور شرمندہ کر رہا تھا کہ اس نے خود عمیر کو بلایا تھا غم کے مارے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ جویریہ نے جب اسے روتے دیکھا تو کچھ سمجھ اور نا سمجھی کی حالت میں آگے کی سیٹ سے اتر کر پیچھے اس کے پاس بیٹھ گئی، ”پلوشہ آپ پریشان نہ ہوں۔ ہم آپ کو آپ کے گھر تک چھوڑیں گے یہ لیں آپ پانی پئیں“، اس نے اپنے بیگ سے پانی کی بوتل نکال کر اسے دی اور ایک دوپٹہ جو شاید اس نے اپنے بیگ سے نکالا تھا پلوشہ کے گرد لپیٹ دیا۔

گاڑی جب آگے نکل آئی تو پلوشہ کی جان میں جان آئی۔ اس کے حواس بحال ہوئے تو اس سے جویریہ کی طرف تشکر کی نظر سے دیکھا گاڑی میں گلاب کی پوری طرح پھیلی ہوئی تھی اس کا ہاتھ بائیں طرف رکھے گلاب کے پھولوں سے ٹکرایا تو اس نے دیکھا، اس جگہ پھولوں،کلیوں اور بکیز کا ڈھیر رکھا تھا۔ کچھ پھولوں پر وہ بیٹھ بھی گئی تھی شاید جلدی میں اس نے کچھ دیکھا ہی نہیں تھا۔

”یہ اتنے سارے پھول! پلوشہ نے اچنبھے سے جویریہ کی طرف دیکھا۔ ”کیا مرتضیٰ بھائی نے دیے ہیں آج کے دن“؟ پلوشہ کو اچانک لگنے لگا کہ جویریہ کتنی خوش قسمت ہے۔ پلوشہ کی بات سن کر مرتضیٰ مسکرادیا۔ ”ارے بہنا! ہماری ایسی قسمت کہاں، جب سے شادی ہوئی ہے آج کے دن ہم پھول خرید خرید کر اپنی جیب خالی کرتے ہیں مگر مسز ہم سے پھول لیں گی آج کے دن؟ نا ممکن“۔

”تو پھر یہ پھول“؟ پلوشہ نے سوالیہ نظروں سے جویریہ کی طرف دیکھا۔ ”دراصل آج کے دن ہم اپنے علاقے سے لے کر ساحل سمندر تک راستے میں کھڑے پھول بیچنے والے لڑکوں اور بچوں سے سارے پھول خرید لیتے ہیں تاکہ ان معصوموں کے ہاتھوں سے بکنے والے پھول کسی شیطان کے ہاتھ نہ جائیں۔ نجانے کس معصوم کلی کو یہ گناہ کے پھول ملیں۔ ہم سارے پھول تو نہیں خرید سکتے بس کچھ کم کردیتے ہیں“، جویریہ نے نرم لہجے میں اپنی بات اسے سمجھائی۔”آج کے دن ہم سب کو نہیں روک سکتے پلوشہ مگر پتا ہے جب میں پھول خریدتی ہوں تو انھیں یہی کہتی ہوں کہ آج کے دن پھول مت بیچا کرو ورنہ بہت سارے بھنورے پورے سال تمہارے پھولوں کو خراب کرتے رہیں گے۔ دیکھو نا ہماری نسلوں کو ہمارے ایمان کو کیڑے ہی تو لگ رہے ہیں کوئی پھولوں کو کھا جاتے ہیں تو کوئی کاٹ چھوڑتے ہیں، داغ دار کر دیتے ہیں ہمیں ہی تو بچانا ہے ان پھولوں کو“، جویریہ جذباتی ہوگئی تھی۔

پلوشہ کو لگاجیسے آج اس نے اسے آلودہ ہونے سے بچا لیا تھا۔ جس نقاب والی جویریہ کا وہ یونیورسٹی میں مذاق اڑایا کرتی تھی آج اس کی چادر میں، ہاں اس کے حصار میں وہ کتنی محفوظ تھی۔ اسے اندازہ ہوگیا تھا یہاں تک کہ ان پھولوں کی خوشبو بھی۔ مرتضیٰ نے سورہ رحمان کی تلاوت لگا دی تھی۔ ”اور تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاوگے“۔ گاڑی تیزی سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی۔ پھولوں کی خوشبو اور تلاوت کے سحر نے گھر آنے تک پلوشہ کو سر سے پیر تک شرمندہ کردیا تھا۔ گاڑی اس کے گھر پہ رکی تو وہ جویریہ کا شکریہ ادا کرتے ہی ایک بار پھر رو پڑی۔ ”تم کہو تو میں اندر چھوڑ آوں آنٹی کو بتاوں گی تم میرے ساتھ تھیں“، اس نے کہا۔ ”نہیں! اس کی ضرورت نہیں میں خود بتا دوں گی“، پلوشہ نے رسانیت سے منع کردیا اسے پتا تھا ممی کون سا اس کی فکر میں ہلکان ہوں گی۔

اندر پورے گھر میں سنّاٹا تھا دادو کا کمرا کھلا تھا اور لائٹ جل رہی تھی۔ وہ بھاگتی ہوئی اندر چلی آئی، دادو جائے نماز پر بیٹھی ہتھیلیاں پھیلائے اس کے لیے دعاگو تھیں۔ دادو!آج کئی دنوں بعد پلوشہ نے دل سے انھیں پکارا تھا جب جب اسے چوٹ لگتی تھی وہ دادو کو ہی پکارتی تھی۔ ”پلوشہ! میری جان“، دادو نے اسے اپنے سینے میں چھپا لیا۔ ”سب خیر ہے نا بچے؟ اتنی رات کو گھر سے باہر نہیں نکلتے پلوشہ لڑکیاں آبگینہ ہوتی ہیں نازک قیمتی چھپا کر رکھنے والی یہ سڑکوں پر ملنے والی محبت کو حیات سمجھتی ہیں جب کہ وہ زہر قاتل ہوتا ہے۔

جائز محبت تو وہ ہے جو اللہ نکاح کے پاکیزہ بول میں دو لوگوں کے درمیان دلوں میں ڈالتا ہے قابل فخر ہوتی ہے ایسی محبت یہ آج کے دن چوری چھپے محبت پھیلانے والے اور وصول کرنے والے سب حرام کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ تم سمجھ رہی ہو نا“؟ فکر مندی کی لہر میں ڈوبتی دادو نے امید سے پوچھا۔”جی دادو سب خیر ہے مگر آپ مجھے معاف کردیں میں نے آپ کا بہت دل دکھایا ہے“۔ ”میری بچی میں تم سے خفا تھوڑی ہوں اللہ سے معافی مانگو لو بیٹا اس ہدایت طلب کرلو پھر دیکھنا کتنا سکون ملے گا جاو¿ شاباش“، انھوں نے اسے تھپکا۔ ”جی دادو“، آنسوو¿ں کی لڑی پھر سے لگ گئی تھی۔ دادو نے جیسے سکون واطمینان کا حصار پلوشہ کے گرد باندھ تھا وہ ہلکی پھلکی ہو کر ان کے پاس سے اٹھ آئی۔

عمیر کی آواز اس کے کانوں میں گونج رہی تھی،”شادی اور پلوشہ سے، ارے تتلی تو رنگ رنگ کی اچھی لگتی ہے فیروز میری جان۔ ایک بار ان کر پروں کو چھو لو تو اس کے سارے رنگ اتر جاتے ہیں ہاتھ میں آ جاتے ہیں پھر وہ پھیکی ہو جاتی ہے بد رنگ ہو جاتی ہے کیا سمجھے“، وہ ہنس رہا تھا۔ پلوشہ نے تتلی کی حقیقت کو ایسے سمجھا تھا کہ اب وہ  شرم  و حیاء کی تتلی کو محفوظ رکھنا چاہتی تھی سب سے چھپا کر رکھنا چاہتی تھی اور سب سے چھپ کر رہنا چاہتی تھی۔ وہ آج اس دن کے بھیانک روپ کودیکھ کر گھن کھا رہی تھی محبت کے نام پر بچھے جال سے گمراہی اور بے حیائی کے بھنور سے نکل آئی تھی اس کے لیے وہ اپنے رب کا شکر ادا کرنے اٹھ گئی تھی۔

Facebook Comments