چودہ سو سال پہلے آقا نامدارﷺ نے علم ِالہی کی روشنی میں آنے والے ایام کے متعلق جو پیشنگوئیاں فرمائی تھیں وقتا فوقتاً ان کا ظہور ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ کے حکم سے قیامت برپا ہوجائے گی۔ موجودہ دور میں امتِ مسلمہ میں جو فتنے پیدا ہو رہے ہیں اور جو مستقبل قریب اور بعید میں جنم لیں گے ان کے متعلق آقائے نامدار ا ﷺ نے اپنے اصحاب رضوان اللہ علیہم کو آگاہ فرمادیا تھا۔

ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ میری امت کے گروہ اللہ کے دشمنوں (یہود و نصاری) کی پیروی کرتے ہوئے ان کے مذہبی تہواروں اور ان کے رسوم ورواج کو اپنا لیں گے۔آج اگر ہم اپنے ارد گرد مسلم معاشرے پر اک نظر ڈالیں تو بے شمار فتنے ہمیں امت مسلمہ میں نظر آئیں گے، جن کی نشاندہی پیارے آقاﷺ نے اپنی احادیث مبارکہ میں فرمائی انہی فتنوں میں دورِ حاضر کا ایک تیزی سے پھیلنے والا فتنہ ”ویلنٹائن ڈے“ سرِفہرست ہے۔ جس نے مسلمان نوجوان نسل کو اپنے شیطانی جال میں بری طرح جکڑ لیا ہے۔

دینِ اسلام ایثار، امن و سلامتی، بھائی چارہ اور محبت و اخلاص کا سبق دیتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ اس نے اخلاقی قواعد وضوابط بھی وضع کر دیے ہیں۔ جن کی حدود میں رہتے ہوئے زندگی گزارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کفار کی مشابہت اختیار کرنے اور ان کے رنگ میں اپنے آپ کو رنگنے سے روکا گیا ہے۔ غیر محرم مرد و عورت کے باہمی اختلاط اور آزادانہ میل ملاپ کی ممانعت کی گئی ہے کہ یہ بد ترین فتنے کو جنم دینے والا عمل ہے۔ مسلمانوں کو اللہ نے دو مبارک تہوار عطا فرمائے ہیں ایک عید الفطر اور دوسری عید الا ضحی اور ان تہواروں کی بابت بھی یہ حکم ہے کہ شرعی حدود میں رہتے ہوئے، فسق وفجور سے اجتناب کرتے ہوئے، اللہ کی رضا اور خوشنودی کے حصول کو مدنظر رکھتے ہوئے ان تہواروں کو صحیح اسلامی روح کے ساتھ منایا جائے۔

یہود و نصاری کے تہواروں کی بنیاد شرک اور بدعات پر مبنی ہوتی ہے اس لیے مسلمانوں کو غیر مسلموں کی رسومات، تہوار اوران کی روایات اپنانے سے منع کیا گیا ہے۔ ویلنٹائن ڈے کو محبت کا دن قرار دے کرنوجوان نسل کویہ غیر اخلاقی پیغام دیا گیا ہے کہ اس دن محبت بانٹو اور خوب بانٹو اور محبت کی تقسیم کے اس عمل میں ہر رکاوٹ کو عبور کر جاو¿، پھر سال کے بقیہ دنوں میں چاہے ایک دوسرے کا خون پیتے رہو، ظلم و بربریت کی تمام حدوں کو پامال کرو مگر اس ایک دن کو صرف محبت کے بٹوارے کے لیے مختص کردو۔ جب کہ ہمارا پیارا دین مسلمانوں کو آپس میں شرعی قیود و حدود میں رہتے ہوئے سارا سال پیار و محبت، امن و آشتی اور مذہبی ہم آہنگی کے ساتھ رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔

جنسی بے راہ روی کا شکار مسلم لڑکے اور لڑکیاں، مرد و خواتین اس تہوار کو مناتے ہوئے اپنے اسلامی تشخص کو یکسر فراموش کردیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ کلمہ گو مسلمان ہیں اور بحیثیت مسلمان ان کے لیے یہ قطعا جائز نہیں ہے کہ وہ کفار کی اندھی تقلید میں ان کی ایسی رسوم ورواج کواپنا لیں جن کی دین اور شریعت کسی طور بھی اجازت نہیں دیتے۔

مسلم معاشرے میں اس غیر اسلامی تہوار کی پذیرائی اور قبولیت کی ذمہ داری جہاں ٹی وی چینلز، انٹرنیٹ اور ان مسلم ممالک کے میڈیا پر عائد ہوتی ہے اس سے کہیں بڑھ کر والدین اور اساتذہ بھی اس شر کے فروغ میں برابر کے ذمہ دار ہیں۔ اگر والدین اپنی اولاد کی صحیح اسلامی نہج پر تربیت کریں اور انہیں دشمنانِ اسلام کے ان حملوں سے آگاہ کرتے رہیں اور اسی طرح اساتذہ بھی اپنے شاگردوں میں دینی تشخص بیدار کریں اور ان میں دین کا صحیح شعور پیدا کریں تو پھر یہ ممکن ہی نہیں رہے گا کہ اسلام کے دشمن ان چور دروازوں سے مسلمانوں کی صفوں میں شبِ خون مار سکیں۔

میری مسلمان بہن بھائیوں سے گزارش ہے کہ خدارا کفار کی پیروی کرکے اپنے آپ کو تباہی کے گڑھے میں مت دھکیلو، ان کو خوش کرکے اللہ کے غضب کو آواز مت دو کیوں کہ جو اللہ کے دشمنوں کو خوش کرتا ہے وہ اللہ کو ناراض کرتا ہے اور اللہ کی ناراضگی درحقیقت اخروی بربادی ہے۔ وقتی خوشی کی خاطر دائمی رنج و الم سمیٹنا یقینا شدید خسارے کا سودا ہوگا۔اگر محبت ہی کرنی ہے تو خود کو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت میں فنا کرلو، محبت کا حقیقی مفہوم پالوگے، محبت کی معراج حاصل ہوجائے گی۔ شیطان کے ناپاک چنگل سے نکل جاو¿ گے اور اللہ رب العزت تمہیں دنیا اور آخرت کی حقیقی اور دائمی خوشیوں سے سرفراز فرمائیں گے۔

غافلو! جان لو کہ جوانی اللہ رب العزت کی ایک بے بہا نعمت ہے اسے ضائع نہ کرو۔ اس کی صبح، اس کی شام اور اس کی شب اللہ کی یاد، اس کے ذکر اور اس کے محبوب حضرت محمد مصطفےﷺ کی سنت کی اتباع میں بسر کرو۔ اس جوانی اور وقت کی قدر کرو کہ یہ دونوں چیزیں ایک بار رخصت ہوجائیں تولوٹ کر نہیں آتیں۔ اسے قیمتی بناو¿ تاکہ کل جب اپنے ماضی کو دیکھو تو شرمندگی نہ ہو، جب اپنی جوانی کا سوچو تو ندامت نہ ہو بلکہ رشک آئے کہ اپنی جوانی کو ہم نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت میں گزارا ہے۔ تعلیمات اسلام پہ عمل کیا ہے پھر یہ زندگی ہمارے لیے نعمت بن جائے گی۔

Facebook Comments