سنا ہے ویلنٹائن ڈے پھر آرہا ہے۔ یہ منحوس ہر سال آجاتا ہے۔ لگتا ہے پچھلی محبت سے سبق نہیں سیکھتا۔ مَلک سے پوچھا، محبت کا دن کیوں مناتے ہیں؟ جواب ملا، انگریزوں کے تو کام ہی اُلٹے ہیں، کیوں کہ محبت کی تو رات ہوتی ہے۔ دن محنت مزدوری کے لیے ہوتا ہے۔ میں نے بھی محبت کی ہے اور محبت کی شادی بھی کرلی۔ محبت کے بعد جس ماں نے مجھے پالا تھا وہ جلاد نظر آنے لگی اور باپ تو مجھے کیدو دکھائی دینے لگا۔ اُدھر لڑکی کے گھر والے بھی مصطفی قریشی بن کر یہ شادی نہیں ہوسکتی کا ڈائیلاگ مار رَہے تھے۔ اب ظاہر ہے ، محبت کی تے نخرہ کی۔۔ میرا مطلب محبت میں زمانہ دشمن بن جائے تو پروا نہیں، بس اسے اختتام تک لازمی پہنچانا ہے۔

سو بھاگ کر شادی کا منصوبہ بنالیا لیکن وہ نہیں مانی بولی میں بھاگ نہیں سکتی، تم ٹیکسی پکڑ لو لیکن میں نے اپنی جیب دیکھی اور شاہانہ انداز سے رکشے کو روک لیا۔ کورٹ میرج کی ، وہیں سٹی کورٹ کے باہر سنا تھا، مرغ چھولے بڑے اچھے ملتے ہیں ۔ بچے کھچے پیسوں سے ہم دونوں میاں بیوی نے پہلا لنچ ساتھ کرلیا۔وہ پھر بس میں بیٹھ کر اپنے گھر چلی گئی۔ میں بھی D-11 میں لٹک کر گھر پہنچ گیا۔ اماں نے اوپر سے نیچے تک جائزہ لیا اور پوچھا’’کہاں سے آرہے ہو؟‘‘ میں نے صاف صاف بتا دیا کہ میں مرغ چھولے کھا کر آرہا ہوں۔

کئی دن گزر گئے لیکن لو میرج کا مزا نہیں آرہا تھا کیوں کہ بیگم کو اس کی امی بلاوجہ باہر نہیں نکلنے دے رہی تھیں۔ پھر ایک مسئلہ یہ بھی ہوگیا میری بیگم کی سہیلی نے اس کے گھر بھانڈا پھوڑ دیا تھا لیکن نکاح نامے کی کاپی ابھی ملی نہیں تھی اس لیے ثبوت نہ ہونے پر بیگم صاف مُکر گئی ۔ سہیلی پر مجھے بڑا غصہ آیا اور دل سے بددعا نکلی ’’جا محبت کی دشمن، تیری ارینج میرج ہوجائے اور تجھے لگ پتا جائے‘‘۔

چند ماہ بعد ظلم و ستم حد سے بڑھ گئے تو ہم دونوں نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ سب سے بڑا مسئلہ جو پیش آیا وہ گھر لینے کا تھا، نوکری پیشہ تھا تنخواہ سے اتنی جلدی گھر خریدنا ممکن نہیں تھا۔ سوچا کرائے کا گھر لے کر گزارہ کرلیتے ہیں۔ بڑی مشکلوں سے گھر کرائے پر ملااور ہم دونوں چپکے سے وہاں شفٹ ہو گئے۔ ہمیں محبت کی منزل مل چکی تھی۔ ایک چھت تلے ہم دونوں موجود تھے۔ صبح نیند میں تھا، بیگم کی آواز آئی ’’ناشتہ کرنا ہے کیا کریں؟‘‘

نیند رفو چکر۔۔ یہ تو سوچا بھی نہیں تھا۔ جیسے تیسے اُٹھا، باتھ روم میں گیا تو لوٹا بھی نہیں تھا۔ بھاگم بھاگ ناشتہ خریدا اور ایک عدد لوٹا بھی۔ ارینج میرج تو تھی نہیں جو سسرال سے ناشتہ آجاتا۔لوٹا تھامے گھر لوٹا تو بیگم اتنی دیر میں رو رو کر آنکھیں لال کرچکی تھی۔ اسے اماں ابا یاد آرہے تھے اور مجھے پہلے ہی دن ناشتہ پانی کا خرچہ برداشت کرکے نانی یاد آچکی تھی۔

شادی کی خوشی میں کام سے چھٹی لے رکھی تھی اس لیے بیگم کو دیکھتے دیکھتے بیزار ہوگیا تو موبائل فون پر گیم کھیلنے لگا۔ ابھی مشکل سے بڑی بلا کو مارا ہی تھا ، بیگم کی آواز’’دوپہر کے کھانے کا کیا کرنا ہے؟‘‘ لو جی! گیم سے بھی بڑی بلا میرے سامنے آن کھڑی ہوئی۔ کسی نے جو کہا تھا:

یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجیے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

اس کی حقیقت آج کھل کر سمجھ آرہی تھی۔ مارکیٹ پہنچا، پہلے سوچا ہوٹل سے کچھ لے لیتا ہوں مگر وہاں مرغ چھولے دیکھ کر مجھے سٹی کورٹ والے مرغ چھولے یاد آگئے۔ دل ہی خراب ہوگیا۔پھر خیال آیا کیوں نہ کھانے پکانے کا سامان خرید لوں، بیوی کا کام آخر کچن سنبھالنا بھی ہوتا ہے۔ خوشی خوشی آلو، ٹماٹر چھانٹے، دھنیا پیاز اور گوبھی لے کر گھر پہنچا تو بیوی نے سامان دیکھ کر گھورا‘‘ یہ سب پکائوں گی کس پر؟ چولہا کہاں ہے؟اور کھائیں گے کس سے؟ آٹا بھی نہیں لائے؟‘‘

’’محبت درد دیتی ہے اور بے حد دیتی ہے‘‘

یہ کسی شاعر کا فرمان نہیں، میرے اپنے دل کی آواز تھی۔ سر پکڑ کر بیٹھ گیا ، وہ مجھے گھورے جارہی تھی اور اس گھورا گھوری میں مجھے میاں بیوی کے لطائف یاد آنے لگے، سمجھ نہیں آرہی تھی۔ ان پر ہنسوں یا اپنی حالت پرروئوں۔ ارینج میرج کی ہوتی تو آج نہ چولہے کی ٹینشن ہوتی، نہ نئی نویلی دلہن کو کھانے پکانے کے مسئلے ہوتے۔

دو تین مہینے بعد میرا گھر سیٹ ہوچکا تھا کیونکہ محبت انسان سے بڑے سے بڑا کام کرالیتی ہے اور اسی کام کا نتیجہ تھا جو بیگم نے بتایا انہیں چکر آرہے ہیں اور الٹیاں بھی۔ میرے کان کھڑے ہوگئے، حساب کتاب میں تو اس کا خرچہ شامل ہی نہیں کیا تھا۔ محلے دار سے اُدھار لے کر بیگم کو ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا۔ وہاں منحوس بیگم کی وہی سہیلی بھی آگئی جس کے ساتھ اس کی ساس اور نند بھی تھیں۔ میں سمجھ گیا کہ میری بد دعا سے اس کی ارینج میرج ہوچکی ہے۔ دونوں سہیلیوں کو ڈاکٹر نے ماں بننے کی خوشخبری سنا دی۔ لیکن میری بیگم خوش ہونے کے بجائے گھر تک روتی ہوئی آئی، کاش اس نے لو میرج کی غلطی نہ کی ہوتی تو آج اتنی بڑی خوشی کے موقع پر اس کی سہیلی کی طرح اس کے سسرال والے بھی قدم قدم پر ساتھ ہوتے۔

میرا تو غصے سے خون کھول گیااس کی خاطر میں نے سب کو چھوڑا، اوور ٹائم لگا کر اس کے گھر کو آباد کیا اور یہ پچھتا رہی ہے۔ آپس کی بات ہے، دل تو میرا بھی اندر سے رو رہا تھا، اس لڑکی کو سنبھالنا مشکل ہورہا ہے بچے کا خرچہ کیسے پورا ہوگا۔ لیکن مولوی صاحب کی بات یاد آگئی ، خدا ہر انسان کا رزق اُس سے پہلے بھیج دیتا ہے۔ یہ بات درست نکلی، مجھے ایک پارٹ ٹائم جاب مل گئی تھی۔

بچہ ہوا تو وہ ہمیں دیکھ کر روتا تھا، بیگم مجھے دیکھ کر روتی تھی۔ بہر حال اگلے دو تین مہینے میں سب سیٹ ہوچکا تھا۔ ابھی میں نوکری پر جانے کے لیے ناشتے کے برتن دھو کر فارغ ہی ہوا تھا، بیگم نے کہا’’سنیں! پہلے مُنے کے لیے پیمپر لادیں، پھر کام پر جانا‘‘۔

میں نے گھڑی دیکھی، ٹائم نکلا جارہا تھا، لیٹ پہنچتا تو سپر وائزر خوب سناتا ۔ میں نے شام کو واپسی پر لانے کا کہا تھا تو بیگم کا پارہ چڑھ گیا۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی، سپروائزر کے پاس گالیوں کی زیادہ جمع پونجی ہے یا میری بیگم۔۔ خیر میں دکان پر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں میری ماں مجھے مل گئی۔ دل تو چاہا کہ پھوٹ پھوٹ کر روئوں اور سارے پیمپرز اپنے آنسوئوں سے بھگو دوں۔۔ مگر ماں نے مسکراتے ہوئے کہا’’بیٹا، شام کو جلدی آجانا، لڑکی والے دیکھنے آرہے ہیں‘‘۔

یہ سن کر مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی۔ ماں نے دوبارہ مجھے کاندھوں سے پکڑ کر ہلایا اور بتایا تو میری آنکھ کھل گئی۔ پت چلا یہ سب خواب تھا، میں تو بھاگم بھاگ وضو کرکے شکرانے کے دو نفل پڑھنے مصلے پر جا کھڑا ہوا ۔ ٹھیک کہتے ہیں لوگ ’’ ماواں۔۔ ٹھنڈیاں چھاواں‘‘۔

Facebook Comments