ہر محلے میں کوئی نہ کوئی ایسی مَرد بیزار خاتون ہوتی ہے جو محلے میں لڑائی جھگڑے کرواتی ہے۔ منہ پر ایسی عورتوں کو باجی کہا جاتا ہے اور پیٹھ پیچھے باجی 420 ۔ ایسی عورتوں کا کام یہ ہوتا ہے کہ جہاں کسی عورت کو خوش دیکھا ، آگ لگانے نکل پڑتی ہیں کہ میاں سارا دن گھر سے باہر رہتا ہے تم کیوں باورچی خانے میں سڑتی رہتی ہو، تم بھی گھومو پھرو اور یہی باجی ساتھ ہی آفر بھی کردیتی ہے کہ چلو میں تمہیں گھما لائوں اور اس گھوما گھومی میں عورت جب گھر واپس آتی ہے تو پتا چلتا ہے اس کے پیسے خوامخواہ باجی کو گفٹ دینے کے چکر میں خرچ ہوگئے اور شام کی ہانڈی بھی رہ گئی۔ کام کو ہاتھ لگایا ہی تھا کہ شوہر نامدار گھر واپس آگئے اور خوامخواہ ہی اس سے الجھ پڑتی ہیں۔ یہاں میاں بیوی میں تو تو میں میں کا دور چل رہا ہوتا ہے اور اُدھر باجی چارسو بیس کسی اور گھر میں فساد گھولنے پہنچی ہوئی ہوتی ہے۔

اگر ہم شرمین عبید کے قومی کھیل فساد و َ فتنہ کو دیکھتے ہوئے انہیں ’’قومی باجی فسادی‘‘ کا خطاب دے دیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ آپ وہ نامور ہستی ہیں جو پاکستان پر کیچڑ اُچھال کر ہنستی ہیں۔ سیونگ فیس والی عورت کو لارا دے کر کنارہ کرنے والی یہ عورت اب مزید گھروں کو برباد کرنے کے مشن پر نکل آئی ہے۔ انتہائی معذرت کے ساتھ فیس بُک لاہور کی وہ ٹبی گلی ہے جہاں آپ انتہائی سستے میں بھی اپنا مطلب نکال سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے باجی چار سو بیس نے بتایا ہے کہ خلع لینا عورت کا حق ہے۔ جتنے حقوق عورتوں کو اسلام نے دیئے ہیں، اتنا تو انگریز اور ان کی لے پالک اولاد اپنی ماں کو عزت بھی نہیں دیتے۔ خلع بھی عورت کا اسلامی حق ہے لیکن یہ تب استعمال کرنا ہوتا ہے جب گزارہ مشکل ترین ہوجائے۔ مگر باجی فسادی تو چاہتی ہیں کہ اِدھر شوہر نے گھور کر دیکھا اِدھر عورت عدالت جاکر خلع کا کیس کردے۔

مغرب کے خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ سے کون واقف نہیں، اب پڑوسی ملک بھی کچھ عرصے سے اسی مسئلے سے دوچار ہے، بھابی جو کبھی ماں سمان ہوا کرتی تھی اب وہاں فری کی جنسی پروڈکٹ بن چکی ہے، اس کے لیے لمبی چوڑی بحث کی ضرورت نہیں صرف گوگل پر بھابی لکھ کر تماشا دیکھا جاسکتا ہے۔ اب دجالی دنیا کے دیسی کارندے چند ٹکوں کی خاطر اسلامی ممالک خاص طور پر پاکستان کے خاندانی نظام کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔

باجی فسادی کی نئی ویڈیو بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ایک تو ہمارے ہاں لڑکیوں کی شادی پہلے ہی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ پھر جو لڑکیاں گھر بسا رہی ہیں تو انہیں دیکھ کر باجی فسادی جیسی عور تو ں کے تن بدن میں آگ لگی ہوئی ہے۔

اس ویڈیو میں ایک خفیہ پیغام یہ بھی دیا گیا ہے کہ شوہر سے علیحدگی کے بعد ان عورتوں کا کیا ہوگا تو بائیک والی تصویر میں واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اس میں بھی عورت ہی بائیک چلا رہی ہے اور پیچھے بیٹھی عورت نے بینر تھام رکھا ہے۔ یعنی کہ ہم جنس پرستی کی طرف اِشارہ ہے۔ بھارتی فلموں کے شائقین کو اندازہ ہوگا کہ اب وہاں ”ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا” جیسی عورتوں کی ہم جنس پرستی پر مبنی فلمیں اور اسی نوعیت کی ویب سیریس بننا کھلم کھلا شروع ہوچکی ہیں۔ چونکہ پاکستان میں فوری طور پر اس طرح کی چیزیں بنانا اتنا آسان نہیں اس لیے باجی فسادی کچھ ’’سائلنٹ سمبل‘‘ کے ساتھ خلع کا مسئلہ چھیڑ بیٹھی ہے ۔ فیس بُک پر چلنے والی ان کی اشتہاری ویڈیو دیکھ کر آپ اندازہ کرسکتے ہیں کس طرح آگاہی(ایورنس) کے نام پر زہر گھولا جارہا ہے۔

باجی فسادی کو شاید علم نہیں یا پھر وہ پڑھی لکھی جاہل ہیں کہ انہیں یہ خبر نہیں کہ مغربی دنیا میں لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اُسے کنفرم باپ کا معلوم نہیں ہوتا، جیسے تیسے بڑی ہوتی ہے تو آزاد معاشرے میں اُس کی عزت آٹھ یا نو سال میں ہی چھین لی جاتی ہے اور اَٹھارہ ، بیس سال کے ہونے تک وہ کئی حمل گرا چکی ہوتی ہے اور پھر یہ آزادی مستقل عذاب بن کر اس کے سر پر سوار رہتی ہے کیونکہ اُسے خبر نہیں ہوتی کہ اس کے جسم سے لطف اندوز ہونے والا بوائے فرینڈ اُ س سے شادی کرے گا بھی یا وہ کسی اور حرام کے بچے کو پال کر ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کے بھاشن سکھائے گی جبکہ مسلم گھرانوں میں بیٹی پیدا ہوتے ہی باپ کی آنکھوں میں حیا آجاتی ہے، وہ اس کی پیاری پیاری خواہشوں کو پورا کرنے کیلئے دگنی محنت کرنے لگتا ہے۔

اچھی تعلیم دلاتا ہے۔ اس لڑکی کے پاس دادا ، دادی، نانا ، نانی جیسے پیارے رشتے اس کی محبت سے حفاظت کو موجود ہوتے ہیں۔ جوان ہونے پر اس کیلئے اچھے رشتے کی تلاش شروع ہوجاتی ہے اور شادی کے بعد بھی اس لڑکی کو شوہر کی محبت نصیب ہوتی ہے اور باجی فسادی چاہتی ہیں کہ عورت کو آزادی ملنی چاہئے حقوق ملنے چاہئیں۔ ۔۔

لیکن اب اس سے زیادہ عورت کو کیا حقوق چاہئیں کہ وہ پیدا ہوتی ہے تو باپ کی شہزادی ہوتی ہے، جوان ہوتی ہے تو شوہر کی رانی ہوتی ہے اور بڑھاپے میں بچوں کی جنت بن جاتی ہے ۔ دنیا میں ہے کوئی ایسا نظام جو عورت کو اتنا کچھ دے سکے۔۔ ۔ آخری بات کہ یہ جو کہا جاتا ہے ناں کہ عورت کا کوئی گھر نہیں ہوتا تو یہ بھی غلط بات ہے۔ حقیقت میں تو مَرد کا کوئی گھر نہیں ہوتا، پہلے وہ ماں کے لیے گھر سے باہر کام کاج کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے۔ پھر بیوی کیلئے دن بھر محنت مزدوری میں مصروف رہتا ہے اور بڑھاپے میں بیٹی کی خاطر تپتے سورج میں جھلستا رہتا ہے۔ عورت کے حقوق پورے کرنے کے لیے اللہ کی اس سے اچھی تقیسم کوئی اور ہوہی نہیں سکتی کہ وہ مَردوں کی ذمہ داریاں بدل دیتا ہے لیکن عورت کو چار دیواری میں محفوظ رکھتا ہے۔

Facebook Comments