عورت کے بے وجہ باہر نکلنے پہ اگر اسلام نے پابندی لگائی ہے تو یقین کریں معاشرے کی بہتری کیلیے لگائی ہے۔ کچھ نقلی مُفسر و جاہل مُفکر کہتے ہیں کہ عورت کا بھی حق ہے کہ وہ ہر طرح کی آزادی سے باہر گُھومے پِھرے۔ عورت باہر آئے، کام کاج کرے،اپنی ذمہ داریاں نبھائے مگر حدودوقیود کے اندر رہ کر کے۔ معاشرے کو سُدھارنے کیلیے نِکلے، بگاڑنے کیلیے نہیں۔
نوجوان نسل اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہے،معاشرے میں بگاڑ پڑ چکا ہے، حلال و حرام کی تمیز مِٹ گئی ہے، دراڑیں پڑ چکی ہیں روح میں، ایمان برائے نام باقی ہے، بازار اوقات سے زیادہ بھر چُکے ہیں، مسجدیں ویران ہوتی جا رہی ہیں،بھائی کو بہن کی غیرت نہیں رہی، بہن کو بھائی کی شرم و حیا نہیں رہی،پہناوے دن بدن چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں، جسم کی نمائش کے چرچے ہیں،بچہ بچہ جنسی حوس کی بھوک لیے پھِرتا ہے۔
خُدارا بچا لیجیے نوجوان نسل ورنہ پاکستان اور اسلام دونوں خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ عُلماءِ حق سے ہاتھ جوڑ کے گزارش ہے کہ اللّٰہ کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں، نسل بچائیں۔ عُلماء کا کام خواتین اینکرپرسنز کے ساتھ بیٹھ کے اسلام سکھانا نہیں ہے۔ علماء کا کام صرف مدرسوں کے بچوں کو تعلیم و تربیت دینا نہیں ہے۔ اسکول والے بھی آپ کے بچے ہیں۔ اَن پڑھ بھی آپ کے بچے ہیں پڑھے لکھے نوجوان بھی آپ کی ذمہ داری ہیں۔ سکول و کالجز کے اساتذہ بھی محض ڈگری کے حصول کے لیے نہ پڑھائیں بلکہ دینی و اخلاقی تربیت بھی کریں۔والدین اپنے بچوں پہ توجہ دیں۔ بالخصوص بچیوں کے لباس پہ غور کریں۔ یہ دنیا اور دنیا کے پہناوے عارضی ہیں۔اِن کے جال میں پھنس کے اپنی آخرت نہ خراب کریں۔ یہ بات تلخ ضرور ہے مگر سچی ہے کہ مرد میں بُرائی کی خواہش بے پردہ و فحش لباس میں ملبوس عورت کو دیکھنے سے پیدا ہوتی ہے۔ اللّٰہ پاک ہمیں صحیح معانی میں اسلام پہ عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

Facebook Comments