گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد آج بچوں کے سکول کا پہلا دن تھا۔ بچوں کی سکول روانگی کے بعد ناشتے کا میز جو منظر پیش کر رہا تھا،،،اس پر امی جان تو بس رو دینے کو تھیں۔ مسترد کردہ ڈبل روٹی کے کنارے اور بچے ہوئے آملیٹ پلیٹوں سے ڈسٹ بن میں جانے کو تیار تھے۔ خستہ اور کرکرے پراٹھوں کے ذرات نیچے بکھرے ہوئے تھے۔ سونے پر سہاگہ تیزی میں دودھ کا جو گلاس اٹھانے کی کوشش کی گئی تھی وہ پھسل کر نیچے گرگیا تھا۔ گلاس تو ٹوٹنے سے بچ گیا لیکن سارا دودھ میز پر پھیلنے کے بعد اب نیچے گر رہا تھا۔ میز صاف کرتے اور فرش سے روٹی کے ذرات چنتے ہوئے امی جان کے چہرے پر پریشانی عیاں تھی۔ رزق کی ایسی ناقدری ،، یا اللہ ہمیں معاف کر دینا۔ انہوں نے دل ہی دل میں دعا مانگی۔ ابا جان جو ناشتے کے دوران امی اور بچوں کے رویے کو غور سے دیکھ رہے تھے ۔ پر خیال انداز میں سر ہلاتے آفس کے لئے روانہ ہوگئے۔ آپ کو یاد ہے ناں آج ہم سب نے ملکر کارٹون مووی دیکھنی ہے۔ کاشف نے بابا جانی کا بازو ہلایا۔ انہیں ہر روز کارٹون دیکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ ہفتے میں ایک دن امی ابو کے ساتھ مل کر وہ کوئی نہ کوئی کارٹون مووی دیکھتے اور خوب لطف اٹھاتے۔ جی، لیکن آج میں آپکو کارٹون مووی نہیں بلکہ ایک ڈوکومینٹری دکھاوں گا۔ ابو نے کاشف کو بتایا۔ ڈاکو۔۔۔ مینٹری تو نہیں ہوتا ،، ڈاکو سپاہی ہوتا ہے ۔ کاشف نے منہ بنایا تو سب بےساختہ قہقہ لگا کر ہنس پڑے۔ اچھا تو میرا بیٹا کیا بنے گا ڈاکو یا سپاہی؟ ابو نے سب کی ہنسی نظر انداز کرتے ہوئے کاشف سے پوچھا۔ میں ۔۔ میں بابا جانی،، سپاہی بنوں گا سپاہی ،، امی کہتی ہیں میں دین اسلام کا سپاہی بنوں گا۔ کاشف نے اپنے پنجوں پر بلند ہوتے ہوئے ہاتھ ماتھے پر رکھ کر ابا جان کو سلوٹ کیا۔ ان شاء اللہ ۔۔ ان شاء اللہ انہوں نے خوش ہو کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

یہ ایک وسیع میدان تھا جس کے ایک کنارے کھڑے کسان نے پہلے مٹی اور پھر نیلگوں آسماں کی بے کراں وسعتوں پر نگاہ ڈالی۔ وہ سب ٹی وی لاونج میں اکھٹے بیٹھے ڈوکومینٹری دیکھنے میں مصروف تھے۔ ’’اس کسان کو گندم کی فصل بونا ہے تاکہ آپ کو روٹی ملتی رہے۔ لیکن کسان یہ کام ازخود تنہا نہیں کرسکتا۔ اسے اس کائنات کا تعاون درکار ہے۔ مناظر کے پس منظر سے آتی ہوئی آواز بہت متاثر کن تھی۔ ٹھاٹھیں مارتا ہوا نیلا سمندر، سنہری چمکتا دمکتا ہوا سورج، یہ مدھم اور تیز چلتی ہوائیں سب کو کسان کی مدد کرنے کا حکم ہے۔ اس حکم ربی کی تعمیل میں سورج سمندر کے پانی کو آبی بخارات میں تبدیل کر رہا ہے۔ ہوائیں انہیں اٹھائے بلندیوں کی جانب گامزن ہیں۔ یہ بخارات اب ملکر بادل بن چکے ہیں۔ بادل ہواوں کے دوش پر یہاں سے وہاں محو سفر ہیں۔ میدانی علاقوں میں بارشیں ہو رہی ہیں۔ پہاڑوں پر برف پڑ رہی ہے۔ دریا، ندی، نالے اور جھیلیں سب پانی کی اس امانت کو کسان تک پہنچانے کی ذمہ دار ٹھہرائی گئی ہیں۔ نیلا ٹھاٹھیں مارتا سمندر، سنہری چمکتا دمکتا سورج، آسمان، ہوا، بادل، برف سے ڈھکے بلند و بالا پہاڑ، بارش، جھیلیں دریا اور ندی نا لے بچے سحر زدہ یہ مناظر دیکھ رہے تھے۔

کسان اب ہل چلا رہا ہے۔ گندم کی فصل بونے کے لئے زمین تیار کی جا رہی ہے۔بیل کی صورت میں جانور ہوں یا ٹریکٹر کی صورت میں مشین سب سر جھکائےایک ہی لگن میں مصروف عمل ہیں۔ حضرت انسان تک روٹی پہنچانے کی لگن۔ زمین کی تیاری کے بعد بیج بونے کا مرحلہ آتا ہے۔ یہ میموری کارڈ آپ کو کتنا حیران کرتا ہے اتنا چھوٹا اور اتنی بہت سی فائلیں۔ سکرین پر میموری کارڈ اور گندم کا دانہ ساتھ ساتھ دکھائے جا رہے تھے۔ یہ دانہ میموری کارڈ کی نسبت بہت چھوٹا ہے لیکن گندم کی فصل کا مکمل پروگرام اللہ رب العزت نے اس میں محفوظ کر دیا گیا ہے۔ مٹی میں ملکر اسے کب اور کیسے کونپل بننا ہے۔ پھر پھلنا پھولنا ہے پھر اس ایک دانے نے کیسے اپنے جیسے سینکڑوں دانوں کو جنم دینا ہے۔ اسے سب بتا دیا گیا ہے اور صرف یہ ہی نہیں کیا آپ جانتے ہیں آٹا،سوجی،میدہ اور نشاستہ یہ سب آپ اسی ایک دانے سے حاصل کرتے ہیں۔
اسی ایک گندم کے دانے سے یہ سب کچھ۔۔ بچوں کی آنکھیں حیرت سے پھیلی اور منہ کھلے ہوئے تھے۔ بیج بونے کا مرحلہ اختتام پذیر ہوا لیکن کسان مستعد اور ہوشیار ہے ۔ اسے معلوم ہے اسے کیڑے مکوڑوں،پرندوں اور ناپسندیدہ جڑی بوٹیوں سے ان بیجوں اور سر اٹھانے والی کونپلوں کو محفوظ بنا نا ہے۔ کہیں اچھی فصل حاصل کرنے کے لیے وہ کھاد ڈالتا دکھائی دیتا ہےتو کہیں کیڑے مکوڑوں سے بچاو کے لئے سپرے کرتا نظر آتا ہے اور کہیں جڑی بوٹیوں کو تلف کرنے میں مصروف عمل ہے۔ سورج کی روشنی، ہواوں میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ، چاند کی چاندنی، مٹی میں موجود نمکیات اور کسان کی شبانہ روز محنت سے فصل پروان چڑھنے لگی ہے۔ گندم کی سبز بالیاں ہوا کے دوش پر لہرا رہی ہیں۔ کہیں بارش اور کہیں ٹیوب ویل فصلوں کو سیراب کر رہے ہیں۔ دھیرے دھیرے وقت گزر رہاہے۔ یہ ایک دو روز کی بات نہیں کم و بیش چھ ماہ کا عرصہ بیت چکا ہے۔ کھیتوں میں لگی بالیوں کے خوشے سبز سے سنہری مائل ہو گئے ہیں۔ سورج، سمندر، ہوائیں، بادل، مٹی، پانی اور یہ سونے جیسی گندم سب اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کر رہے ہیں کہ نوع انسانی کی جس خدمت کا انہیں حکم دیا گیا ہے وہ اس سے غفلت کے مرتکب نہیں ہوئے۔

کٹائی کا مرحلہ شروع ہوا تو کہیں روایتی طریقے سے اور کہیں جدید طرز پر کٹائی کا عمل جاری ہے۔ ایک طرف ہارویسٹر دھول کے بادل بناتا بوٹے سے گندم کے دانے الگ کر رہا ہے تو دوسری طرف گندم کے دانوں کو گھٹوں سے تھریشر کے ذریعے الگ کیا جارہا ہے۔ اسکرین پر دکھائے جانے والے مناظر پر بچے تبصرہ کرنے لگے تھے ۔ بہت دلچسب سلمان بولا، حیران کن سائرہ نے رائے دی۔ “کتنی محنت کی ہے ناں کسان نے‘‘۔ کرن کسان کی محنت سے متاثر تھی۔

جی لیکن سب سے بڑھ کر سورج، سمندر، ہوا، بادل اور مٹی سب نے ملکر اللہ کا حکم مانا تو فصل تیار ہوئی۔ کاشف کے معصوم ذہن و دل نے بہت اہم بات سمجھ لی تھی۔ لیکن ابھی کہاں، اب یہ گندم مختلف ہاتھوں اور مراحل سے گزر کر آٹے کی شکل اختیار کرے گی اور پھر پیکنگ کے مراحل سے ہوتی ہوئی مختلف دکانوں میں آٹے کے تھیلوں کی صورت میں نظر آئے گی۔ ڈوکومینٹری مرحلہ وار آگے بڑھ رہی تھی۔ ان دکانوں پر سے آٹا آپ کے ابا جان کی محنت کی کمائی کے عوض آپ کے گھر میں آئے گا۔ بچوں نے ملکر بابا کو سلوٹ کیا تو انہوں نے ذرا گردن اکڑا کر فرضی کالر جھاڑے۔ یہاں سے اب آپ کی امی جان کی محنت شروع ہے۔ آٹا گوندھنے سے روٹی پکانے تک ہر محلہ ڈوکومینٹری میں دکھایا گیا۔

امی جان نے کیسے محنت سے آٹا گوندھا پھر روٹی پکائی۔ آٹے گوندھنے میں پانی نے ڈیوٹی دی اور روٹی پکانے میں آگ نے۔ سائرہ نے سکرین سے نظر ہٹا کر امی جان کے ہاتھوں کو بغور دیکھا۔ کہیں چھری سے کٹ لگا تھا تو کہیں جلنے کا نشان لیکن ان کے چہرے پر کہیں شکایت نہیں تھی۔ وہ اطمینان سے مسکرا رہی تھیں۔ میری پیاری امی جان۔ ہم تک مزے دار کھانا پہنچانے کے لئے کتنی محنت کرتی ہیں۔ اس نے محبت سے سوچا۔ ہمیں نہیں کھانی یہ روٹی۔۔۔سکرین پر کیسے بدتمیز بچے دکھائے جا رہے تھے۔ اتنی محنت سے تیار کی گئی روٹی کی ایسی ناقدری۔۔ آئیے آپ کو ایک شادی ہال میں لئے چلتے ہیں۔ لوگ اتنا کھا نہیں رہے جتنا ضائع کر رہے ہیں۔ ابھی تک بچے بہت شوق سے گندم اگنے سے روٹی پکنے تک کے مراحل دیکھ رہے تھے۔ مگر یہ کیا۔ اب ان کے چہروں پر پریشانی نمودار ہو رہی تھی۔

اقوام متحدہ کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا میں ہر سال تیار کی جانے والی ایک تہائی خوراک ضائع ہو جاتی ہے۔ ہر سال ضائع ہونے والی خوراک کا وزن تقریبا ایک ارب ٹن ہوتا ہے۔ یورپ اور شمالی امریکہ میں اوسطا ایک شخص سالانہ ایک سو کلوگرام قابل استعمال خوراک ضائع کر دیتا ہے۔ خوراک ضائع کرنے کے معاملے پاکستان بھی کسی سے کم نہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں پکنے والے کھانوں کا چالیس فی صد حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔
سکرین پر بہترین پکے ہوئے کھانے کوڑے کے ڈھیر پر پڑے ہوئے دکھائے جارہے تھے۔ اتنی محنت سے تیار کئے جانے والے کھانوں کا یہ حشر۔۔ سائرہ دکھ سے بولی ۔

ناظرین کھانے کا ضیاع بھوک کی وہ المناک داستان لکھتا ہے جسے دیکھنے کے لئے حوصلہ چاہیے۔ اقوام متحدہ کے خوراک کے ادارے ایف اے او کا کہنا ہے کہ دنیا میں ایک ارب سے زائد افراد بھوک میں مبتلا ہیں۔ پاکستان کی اٹھارہ کروڑ آبادی میں سے پانچ کروڑ ستاسی لاکھ افراد غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ دیکھیے روانڈا،برونڈی اور ایتھوپیا کی قحط زدہ زندگی۔ روٹی کی ناقدری پر ہی بچے بہت پریشان ہو تھے کہ اب قحط زدہ چہروں نے ان کے دل دکھ اور غم سے بھر دئیے۔ بھوک سے سیاہ پڑتی رنگتیں، انسانی ڈھانچوں کے اوپر برائے نام جلد، آنکھوں میں بے بسی، بیچارگی اور حسرت۔ بچوں کے سانس سینے میں اٹک چکے تھے۔ آنکھیں آنسوؤں سے بھر رہی تھیں۔ کاشف تو امی کے دوپٹے میں منہ چھپائے سسکیاں لے رہا تھا۔ کرن نے ابا جان کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا مبادا روٹی کے وہ نوالے جو لاپرواہی سے وہ نیچےگرا دیا کرتی ہے اسے اٹھا کر ایتھوپیا نہ لیں جائیں۔

آئیے غفلت سے بیداری کی جانب۔ اندھیروں سے روشنیوں کی جانب۔ اسکرین پر منظر بدل رہا تھا۔ گنبد خضرا تیری ٹھنڈی چھاوں کو سلام۔ ہم کو مل جائے ہدایت پر دوام۔ اسکرین پر مسجد نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا پر نور منظر دکھایا جا رہا تھا۔ کوئی مولانا تقریر فرما رہے تھے ۔ ’’میرے عزیزو! ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان مبارک ہے۔ *روٹی کی عزت کرو* آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی بھی کھانے میں عیب نہیں نکالا۔ چاہتے تو کھا لیتے اور نہ چاہتے تو چھوڑ دیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا “جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے اٹھا لے اور صاف کر کے کھا لے اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے” آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تین انگلیوں کے ساتھ کھانا کھاتے اور انگلیاں صاف کرنے سے پہلے برتن کو اچھی طرح صاف فرماتے اور انگلیوں کو چاٹ لیتے‘‘۔

آئیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرامین کو، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اسوہ کو اپنی زندگی بنا لیں ۔ روٹی کی عزت کریں۔ رزق کی قدر کریں۔ پانی ضائع نہ کریں۔ اپنے برتن میں سالن اتنا نکالیں جتنا کھا سکیں۔ کھانے کا برتن اچھی طرح صاف کریں۔ اگر کوئی نوالہ گر جائے تو اس جھاڑ کر کھا لیں۔ ضائع ہونے کے لئے ہر گز نہ چھوڑیں۔ آئیں دنیا پر ثابت کر دیں کہ ہم نبی برحق محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیرو کار ہونے کے ناطے نعمتوں پر شکر کرنے اور ان کی قدر کرنے والے ہیں‘‘۔

ڈوکومینٹری ختم ہوچکی تھی۔ نعت کے الفاظ گویا سماعتوں سے بچوں کے دل میں اتر رہے تھے۔ ہم اپنے پیارے آقا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان پر، ان کی اسوہ پر عمل کریں گے۔ امی با با جانی ہم روٹی کی عزت کریں گے۔ کھانا ضائع نہیں کریں گے۔ ان شاء اللہ ۔ بچے امی اور بابا سے مخاطب تھے۔اے اللہ ہم سب کو پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کی توفیق دے آمین۔ امی اور بابا نے صدق دل سے دعا مانگی۔

Facebook Comments