جب بھی نیا جوتاخریدنا ہو تو خوب دیکھ بھال اور جانچ پڑتال کرتے ہیں کہ اس کا ڈیزائن اور رنگ وغیرہ آوٹ آف فیشن نہ ہوں۔ اس کی ساخت دیکھی جاتی ہے کہ آرام دہ ہو۔ قیمت پر بھی بہت تکرار ہوتی ہے تب کہیں جاکر ایک جوتا خریدا جاتا ہے تاکہ ہمارے پاوںکی زینت بن سکے۔ بعد ازاں اس کی پالش اور چمک دمک کاخاص خیال رکھاجاتا ہے اور پھر ہم اسے پہن کر اکڑ اکڑ کے خدا کی زمین پر ایڑیاں مار مار کے چلتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اپنی زمین پر اکڑ کے چلنے سے نہایت سختی سے منع کیا ہے۔ یہی معاملہ ہمارا لباس کے متعلق ہوتاہے۔ اس کی سلائی سے لے کر استری تک کا انتہائی باریک بینی سے خیال رکھا جاتا ہے۔ پھر جب اسے کلف لگا کر پہنتے ہیں تو گردن خواہ مخواہ سریے کی طرح اکڑ جاتی ہے تو خود کو بہت اعلیٰ پائے کی کوئی چیز سمجھ کر ہواوں میں اڑنے لگتے ہیں تو یہ بات بالکل بھول جاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے بہترین لباس تقویٰ قرار دیا ہے۔

اسی طرح ایک کسان جب کوئی فصل بوتا ہے تو اس کے بیج کی اچھی طرح صفائی کرتا ہے تاکہ کسی جڑی بوٹی کا بیج اس میں نہ رہ جائے۔ ہل چلا کر زمین کو اچھی طرح نرم کرتا ہے۔ کھاد کا مناسب استعمال کرتا ہے اور پھر جب فصل بڑھوتری شروع کرتی ہے تو اس میں قیمتی زہر ڈالتا ہے تاکہ غیرضروری پودوں کی نشوو نما نہ ہو اور متعلقہ فصل ہی پھلے پھولے۔ مزید برآں فصل کی کٹائی کے بعد اس کو مختلف مشینوں میں ڈال کر صاف کیا جاتا ہے لیکن کیا ہے کہ نیکی کے معاملے میں ہم اس کے بالکل برعکس کرتے ہیں۔ اپنی چھوٹی سے چھوٹی نیکی میں ریا کاری کی ملاوٹ کرتے ہیں۔ اپنی معمولی سے معمولی اچھائی کو بھی اشتہار بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اپنے ادنیٰ سے ادنیٰ کام کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ ہمارا ہر کام دکھاوے کے لیے اور ہر عمل شہرت کے لیے ہوتا ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ہم نیکی اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں بلکہ اپنی مشہوری اور شہرت کے لیے کرتے ہیں۔

اس کے باوجود بھی ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں اس نیکی کا اجر فوری طور پر دنیا میں بھی مل جائے۔ نیزآخرت میں بھی اس نیکی کے بدلے ہمارے لیے جنت اور جنت میں محل کے ساتھ ساتھ حوریں بھی منتظر ہوں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ تو ہمارا اخلاص دیکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو ہماری نیت پہ ہمیں اجر و ثواب دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو ہمارے دلوں کے حالات جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو ہمارے تمام شعوری اور لاشعوری خیالات و افکار جانتا ہے۔ اسے کسی نیکی کے اعلان سے کیا مطلب؟ اللہ تعالیٰ کو ہماری ریاکاری سے کیا غرض؟

اللہ تعالیٰ نے ہمارے دکھاوے اور شہرت سے کیا لینا؟ اسے اگر غرض ہے تو ہمارے تقویٰ سے، ہمارے خلوص سے، ہماری صاف اور اچھی نیت سے، اللہ تعالیٰ کو اگر مطلب ہے تو ہماری اس خدمت سے جو ہم اس کی مخلوق کی کرتے ہیں۔ اس احسان سے جو ہم اس کی مخلوق کے ساتھ کرتے ہیں۔ اس نیکی سے جو خالصتاً اللہ تعالیٰ کی خاطر کرتے ہیں۔ اخلاص سے بڑی کوئی دولت ہے نہ نعمت۔ اخلاص سے بڑا کوئی انعام ہے نہ مقام۔ اخلاص ایک بہت بڑا قرب ہے اور مخلص ایک بہت بڑا مقرب۔ آئیے دعا مانگیں، اے اللہ! ہمارے دلوں میں اخلاص ڈال دے۔ اے اللہ! ہمارے دلوں میں تقویٰ بھردے۔ اے اللہ! تو ہمیں اپنے انعام یافتہ لوگوں کی راہ پہ ڈال دے۔ آمین

Facebook Comments