نازیہ جب تک پڑوسیوں کے گھر پہنچی تب تک ہاجرہ آپا کا درس شروع ہوئے بیس منٹ گزر چکے تھے۔ خیر نازیہ بھی جلدی سے اپنی ڈائری اور پین کھول کر بیٹھ گئی۔ ہاجرہ باجی شاید اپنی بات کا آغاز کر چکی تھیں۔ اس لیے جو جملے نازیہ کے کانوں سے ٹکرائے وہ کچھ یوں تھے”میری پیاری بیٹیوں! ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا عورت گر چاہے تو اپنے گھر کو جنت بنا سکتی ہے“۔ یہ جملہ سننا تھا کہ نازیہ کسی گہری سوچ میں ڈوب گئی۔ نازیہ جس کی شادی کو محض دو سال ہی ہوئے تھے پر سکون نام کی چیز اس کی زندگی میں نہ تھی۔ وہ تو اللہ بھلا کرے اس کی پڑوسن کا جو اس کہ ہر دکھ درد کی ساتھی تھی۔ اسی نے آج اپنے گھر میں ہونے والے درس میں نازیہ کو شرکت کی دعوت دی۔ اس لیے نازیہ بھی ہاجرہ باجی کا درس سننے جانے لگی تھی جو کہ ہر ہفتے ہوتا تھا۔ یہاں آکر وہ کافی سکون محسوس کرتی تھی۔
نازیہ کی ساس اس سے بہت کام کرواتیں۔ سارا سارا دن کمرے میں نہ جانے دیتیں۔ ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر نازیہ بھی اب زبان دراز ہو چکی تھی۔ نازیہ کا شوہر توقیر، روز روز کی اس لڑائی سے تنگ آگیا تھا۔ آئے دن یہ باتیں گھر میں فساد پیدا کرتی رہتیں۔ نازیہ امید سے تھی اور اس سے کوئی کام نہ ہوپاتا۔ اس کی ساس اسے مستقل پھوہڑ اور نکمے ہونے کے طعنے دیتیں۔ آج بھی توقیر گھر سے لڑ کر نکل گیا تھا۔ بات تو معمولی تھی مگر تماشہ اس کا دنیا نے دیکھا۔ ساس کی باتیں نازیہ سے برداشت نہ ہوئیں تو اس نے جا کر توقیر پر اپنا سارا غصہ نکال دیا۔ وہ بھی کیا کرتی اس کی بھی اپنی طبیعت خراب تھی۔ جس پر توقیر کو غصہ آیا اور گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ توقیر غصے میں بہت کچھ کہہ آیا تھا۔
توقیر کو ابھی گھر سے نکلے تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ اسے یاد آیا آفس سے آنے کے بعد اس نے کچھ نہیں کھایا۔ بھوک کا احساس بڑھ رہا تھا مگر غصے میں وہ بٹوہ تو گھر ہی بھول آیا تھا۔ اس نے جیبیں ٹٹولیں تو اتفاقا کچھ پیسے کھنکھنائے جس سے اس نے ایک برگر اور بوتل خرید کر اپنے پیٹ کی بھوک مٹائی۔ کچھ دیر توقیر من ہی من میں اپنے آپ سے باتیں کرتا رہا۔ ”شاید اتنی بھی بڑی غلطی نہیں تھی نازیہ کی،کیا ہو گیا اگر وہ دن بھر کام نہیں کر پاتی۔ بیمار بھی تو ہے۔ امی کا رویہ بھی صحیح نہیں بات بے بات جھگڑا شروع کر دیتی ہیں۔ مجھے انھیں بھی کہنا چاہیے“۔ توقیر یہ سب سوچتے سوچتے ایک پارک میں جا بیٹھا۔ وہاں دو میاں بیوی آپس میں خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ توقیر انھیں دیکھ کر اپنے رویے پر نادم ہوتا رہا اسے رہ رہ کر یہ خیال آرہا تھا کہ اس نے نازیہ پر کیوں ہاتھ اٹھایا۔
 ویسے تو یہ کوئی پہلی بار نہ تھا وہ غصے میں ایسے ہی آپے سے باہر ہو جاتا تھا مگر آج اس کا دل بہت بے چین تھا۔ توقیر پھر دل ہی دل میں بڑبڑانے لگا، ”ہاں میں مانتا ہوں میں نے غلط کیا مگر نازیہ بھی تو بدتمیزی کرتی ہے۔ بس آج میں گھر نہیں جاوں گا“۔ یہ سوچ کر توقیر وہیں بینچ پر لیٹ گیا مگر تھوڑی دیر میں اسے سخت سردی لگنے لگی۔ سردی میں ٹٹھرتے نجانے کب اس کی آنکھ لگ گئی۔ رات بھر وہ لوہے کے سخت بینچ پر پڑا رہا۔
چڑیوں کی چہچہاہٹ اور موذن کی آواز سے اس کی آنکھ کھلی تو اسے بخار محسوس ہوا۔ ساتھ ہی اسے یاد آیا کہ آج تو اس کی ایک بہت ضروری میٹنگ تھی جس کے بعد اس کی ترقی کے بھی امکانات تھے۔ یہ سب سوچ کر وہ گھر کی طرف جانے کے لیے تیزی سے اٹھا مگر پھر اندر سے ایک آواز آئی، ”کہاں جا رہے ہو جہاں تمھاری کوئی اہمیت نہیں! چھوڑو روز روز کے جھگڑوں سے اچھا ہے سکون سے یہیں پڑے رہو“۔ اس سوچ کے بعد توقیر مزید دو دن سڑکوں پر دھکے کھاتا رہا۔ دوسری طرف نازیہ اور اس کے گھر والے بھی بے حد پریشان تھے۔ نازیہ کی حالت بگڑ رہی تھی۔ نازیہ کو رہ رہ کر اپنے رویوں پر دکھ ہو رہا تھا۔ سو طرح کے وسوسوں نے اسے گھیرا ہوا تھا۔ ساس سمیت سب لوگ نازیہ اور توقیر کے لیے دعائیں مانگ رہے تھے۔ نازیہ کی ساس روتی ہوئی نازیہ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں، ”بیٹا مجھے معاف کر دو میں نے تمھارے ساتھ بڑی زیادتی کی۔ میری وجہ سے تم دونوں میاں بیوی کو یہ دن دیکھنا پڑا۔ نجانے توقیر کہاں ہو گا؟
نازیہ کی حالت زیادہ بگڑی تو گھر والے فورا اسے ہسپتال لے گئے۔ اللہ نے انھیں چاند سا پوتا دیا۔ ایک طرف خوشی تھی تو دوسری طرف پریشانی کے گہرے سائے تھے جو سب کہ چہروں پر چھائے ہوئے تھے۔”ارے توقیر تم یہاں فٹ پاتھ پر کیا کر رہے ہو؟ مبارک ہو بھئی بیٹا ہوا ہے“، یہ ارسلان تھا۔ جو تویر کا قریبی جاننے والا تھا۔ ”بیٹا!“، توقیر کی حالت اتنی غیر ہو چکی تھی کہ وہ اٹھ بھی نہ سکا۔ ارسلان نے اسے بمشکل پکڑ کر ہسپتال پہنچایا۔ جہاں اس کا بیٹا ہوا تھا۔ توقیر کو ایمرجنسی میں کچھ دیر رکھا گیا۔ ارسلان نے جب اس سے سارا معاملہ دریافت کیا تو اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
دیکھو توقیر یہ تو ہمارے نبیﷺ کا بھی فرمان ہے کہ، ”تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہے“ اور دوسری بات کہ قرآن میں اللہ تعالی نے غصہ پی جانے والوں اور درگزر کرنے والوں کو اپنا محبوب ترین بندہ قرار دیا ہے۔ گھروں میں یہ سب باتیں چلتی رہتی ہیں مگر قوام ہونے کے ناطے تمھارا یہ فرض ہے کہ اپنے منصب کو پہچانو۔ توازن قائم کرو۔ ماں اور بیوی کو ان کا مقام دو۔ اب جاو جا کر اپنے گھر والوں سے ملو۔ جب توقیر کی حالت سنبھل گئی تو وہ اٹھ کر اپنے گھر والوں کے پاس گیا۔ توقیر کو دیکھ کر گھر والوں کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ ”بیٹا تم کہاں چلے گئے تھے۔ گھر کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایسے تھوڑی روٹھ جاتے ہیں۔ اپنے بیٹے اور بیوی کی طرف دیکھو جو تمھاری محبت کے منتظر ہیں“، توقیر کی امی نے روتے ہوئے اپنے بیٹے سے کہا”۔
مجھے معاف کر دو نازیہ میں نے بہت غلط کیا تمھارے ساتھ تم نے مجھے اتنی بڑی خوشی دی۔ آج میں سمجھ گیا ہوں میرا گھر ہی میری جنت اور میرا سکون ہے۔ اس گھر کے بنا میں کچھ بھی نہیں“، توقیر کی آواز بھر آئی تو نازیہ کی آنکھوں میں بھی نمی اتر آئی۔ ”واقعی میرے لیے بھی میرا گھر ہی میری جنت ہے۔ میں اپنے رویوں پر بہت شرمندہ ہوں۔ آپ بھی مجھے معاف کر دیں اور امی بھی“۔” لو بھئی اس خوشی کے موقع پر یہ رونا دھونا چھوڑو۔ اب ہمیں پوتے سے باتیں کرنے دو۔ “دادا جان نے پوتے کو توقیر سے گود میں لیتے ہوئے کہا۔ جس پر سب نے ایک ساتھ خوشی میں قہقہہ لگایااور شکر بجا لائے۔

Facebook Comments