سید شاہ زمان شمسی

 ملک بھر میں ٹھنڈ زوروں پر ہے ایسے میں کمرہ گرم رکھنے کے لیے ہیٹر کا استعمال بڑھ جاتا ہے، لیکن ذرا سی بے احتیاطی جان بھی لے سکتی ہے۔سردیوں میں ہیٹر کا استعمال مجبوری اور لازمی بن جاتا ہے ، لیکن ساتھ ہی یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اس کے استعمال میں لوگ بے احتیاطی برتتے ہیں ، اور عموما آگ اسی وقت لگتی ہے جب سب لوگ سورہے ہوتے ہیں ، اس لیے جان بچانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کتنے ہی تھکے ہوئے ہوں یا آپ کا ہیٹر چاہے بالکل ہی نیا ہو، ہر بار احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کریں۔اس بات کو یقینی بنائیں کے ہیٹر کا آٹو میٹک شٹ آف سسٹم درست کا م کررہا ہے ، اور اگر آپ کا ہیٹر مینول ہے تو سونے سے پہلے ہیٹر بند کریں اور ہیٹر کو ملنے والی گیس سپلائی بند کرنا نہ بھولیں ۔ہیٹر کو کسی بھی چیز سے کم از کم تین فٹ دور رکھیں  ہیٹر کے قریب تین فٹ کے دائرے میں کسی بھی چیز سے آگ بھڑک اٹھنے کا خدشہ موجود رہتاہے۔بند کمرے میں جلتا ہیٹر چھوڑ کر سونے کی غلطی نہ کریں ، ایک تو کاربن مونو آکسائیڈ سے کمرے میں سانس لینا دشوار ہوجاتا ہے دوسرا اگر اس دوران گیس کی سپلائی بند ہو کر بحال ہوئی تو ہیٹر آن نہیں ہوپائے گا اور کمرے میں گیس پھیلتی چلی جائے گی ، یہ دونوں باتیں دم گھٹنے کا باعث بنتی ہیں۔صرف ہیٹر کے ساتھ فکس الیکٹرک تار یا گیس پائپ ہی استعمال کریں ، اس کے ساتھ اضافی تار یا پائپ نہ لگائیں۔ہر استعمال کے بعد ہیٹر کو نئے سرے سے صاف کریں اور اس کی الیکٹرک تاروں یا گیس پائپ کا معائنہ ضرور کریں ، اس سے نہ صرف آپ محفوظ رہیں گے بلکہ ہیٹر کی کارکردگی بھی بہتر رہے گی۔جس کمرے میں ہیٹر جلائیں اس کمرے میں اپنے پالتو پرندوں کو ہرگز نہ رکھیں ، یہ ان کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔اس حوالے سے رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ہماری بہترین رہنمائی کی ہے۔ گھر کو آگ لگنے کا ایک ایسا ہی واقعہ مدینہ طیبہ میں بھی پیش آیا تھا ۔ ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مدینہ میں رات کے وقت ایک گھر کو آگ لگ گئی جبکہ گھر والے بھی گھر میں سو رہے تھے ۔ جب ان کے اس معاملے کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ‘‘یہ آگ تمھاری دشمن ہے ۔ جب تم سونے لگو تو اس کو بجھا دیا کرو ۔’’ ( صحیح البخاری )حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ‘‘ جب تم رات کو سونے لگو تو آگ کو اپنے گھروں میں (جلتا ہوا ) نہ چھوڑا کرو ، یعنی اس کو بجھا دیا کرو ۔ ’’ ( صحیح البخاری و مستخرج ابی عوانۃ ) ۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : رات کو اپنے چراغ وغیرہ بجھا کر سویا کرو ، اس لیے کہ کبھی چوہیا اس کو کھینچ کر لے جاتی ہے اور پورے گھر کو آگ لگا دیتی ہے ۔ (صحیح البخاری ) ۔

Facebook Comments