یہ الفت ہے کہ ہے یہ فسانہ کوئی
درِ جاناں پہ بیٹھا ہے دیوانہ کوئی
شمع مضطرب ہے یہ جان کر کہ
اس کو ڈھونڈ رہا ہے پروانہ کوئی
سرِ راہ بھی اب مسکرا کے ملتا ہوں
راہ رو اپنا ہو یا پھر ہو بیگانہ کوئی
فقط دلاسوں سے تشفی نہ ہوئی کہ
دل کو چاہیے جینے کا اور بہانہ کوئی
جَفا در جَفا در جَفا تیرا وصفِ مکَرر
سِتم گَری کا بھی ہوتا ہے پیمانہ کوئی
تنگ ظرفوں کا اب ایک ہجوم سا ہے
عامر آگیا ہے دیکھو یہ زمانہ کوئی

Facebook Comments