ایک اچھا مسلمان اور بہترین انسان کون ہے؟ جب بھی ہم یہ سوچتے ہیں تو ہمارے ذہن کے پردے پر ایک ایسی تصویر ابھر آتی ہے جو ایک پانچ وقت صوم و صلوة کے پابند، سنت نبویﷺ کے عامل انسان کی ہوتی ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا واقعی یہی انسان بہترین انسان اور مسلمان ہیں جو نماز قضا نہ کرتا ہو، جو روزے رکھتا ہو غرض حقوق اللہ پورے کرتا ہو حج کرتا ہو، عمرے کرتا ہو۔

ہاں لیکن پانچ وقت کے نمازی کو نماز غلط کاموں سے نہ روک سکے، پانچ وقت کے نماز پڑھنے والے مسلمان کی ضعیف ماں چارپائی پر پڑی اس کو آوازیں دیتی رہے لیکن اس کے پاس وقت نہ ہو کہ وہ ان کی باتیں سن لے ان کی کوئی ضرورت پوری کرے۔ وہ ہر سال حج کرتا ہے لیکن اس کا پڑوسی بھوکا رہتا ہے۔ وہ تلاوت تو کرتا ہے لیکن پاس اگر بیوی اپنی کوئی ضرورت بیان کردے تو وہیں بیٹھے بیٹھے اسے کو جھڑک دیتا ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ اللہ اور رسولﷺ کیا فرماتے ہیں۔ تو کیا یہی مسلمان ایک اچھا مسلمان ہے؟ لوگوں میں اس کی عبادت کے چرچے ہوتے ہیں کہ فلاں نے اتنے حج کرلیے اتنے عمرے کرلیے ایسے نمازی، ایسے پرہیزگار انسان ہیں۔ اپنی ان عبادات کے ذریعے کیا وہ رضائے الہی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا؟ جب کے اسے پیدا کرنے والی ماں کے لیے اس کے پاس دو گھڑی وقت نہیں ہوتا۔ اپنے فرائض سے غافل کیا یہ ایک اچھا اور بہترین مسلمان کہلانے کا حق دار ہے؟

یا وہ جو جس سے حقوق اللہ پورے نہیں ہوتے لیکن وہ ہر کسی کے دکھ میں شریک ہوتا ہے وہ کسی کے دکھ کسی کے آنسووں کا موجب نہیں بنتا ان کی آنکھیں اور کان کھلے ہوتے ہیں۔ وہ ہر کسی کی آہ و پکار سنتا ہے اسے پتا ہوتا ہے کہ آج پڑوسیوں نے کچھ نہیں پکایا ہے، وہ خود تھوڑا کھا کر ان کو سیر ہوکر کھلادیتا ہے۔ اس کی ماں کے ہاتھ ہر وقت دعا کے لیے اٹھے ہوتے ہیں، اس کے بچے اس کے گھر آتے ہی اس کی آواز سن کر کھونے کھدروں میں نہیں چھپا کرتے، اس کی بیوی کسی ضرورت کا اظہار ڈرتے ڈرتے نہیں کرتی ۔

ہاں مگر لوگ اسے دین سے دور ایک برا مسلمان کہتے ہیں کہ پتا نہیں دن میں کبھی اللہ کو سجدہ کرتا بھی ہے کہ نہیں، کبھی تلاوت بھی کی ہے کبھی حج کی سوادت بھی حاصل کی ہے؟ لیکن کیافقط سجدے سے، حج و عمرے کی ادائیگی سے انسان بہترین مسلمان ہوسکتا ہے؟ جب کہ اس کے پڑوسی بھوکے سوجاتے ہوں، اس کی ماں اس کے انتظار کی آس میں دروازہ پر ٹکٹکی باندھے رکھتی ہو، اس کی بیوی اس کے خوف کے باعث جائز مطالبات سے بھی گھبراتی ہو، اس کے بچے اس کے خوف سے کانپتے ہوں، لوگ اس کی بد زبانی سے محفوظ نہ ہوں تو کیا ایسا انسان ایک اچھا مسلمان اور پابند سنت کہلائے جانے کے مستحق ہے؟

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دیکھیں خود کو اور سوچیں کہ ہمارا ظاہر اور باطن کیسا ہے؟ ہمارے عبادات و معاملات میں اتنے تضادات کیوں ہیں؟ ہم کیا ہیں اور کیا کر رہے ہیں؟ ہماری سمت کدھر ہے اور ہم جا کدھر رہے ہیں۔ یاد رکھیں جب بھی ہم سمت کا تعین کیے بنا بھاگتے ہیں تو ٹھوکر ضرور لگتی ہے اور ضروری نہیں کہ ہر ٹھوکر ایسی ہوگی کہ جس کے بعد سنبھل جائیں گے کبھی کبھی ایسی بھی لگتی ہے ٹھوکر جس کے بعد اٹھنے کی طاقت نہیں بچتی۔

رب کو کرو سجدے ایسے ابن آدم کہ
اس کی لذت تیرے ہر کردار سے عیاں ہو

Facebook Comments