تحریر: لقمان ہزاروی

دو دن سے دل اداسی کے کناروں پر خیمہ زن ہے۔ اداسی نے ایسا جھکڑا ہوا ہے کہ شش و پنج کی کیفیت طاری ہوچکی ہے۔ سوچتا ہوں تو بھٹک جاتا ہوں۔ لکھتا ہوں تو رک جاتا ہوں۔ پڑھتا ہوں تو ٹوٹ جاتا ہوں۔ جب میں سانحہ ساہیوال پر کچھ سوچتا ہوں تو آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔ کیسے یہ ننھے بچے اپنی باقی ماندہ زندگی جئییں گے۔ کیسے یہ اپنا درد دکھ بانٹیں گے۔ کیسے وہ اس درد ناک واقعے کو ذہن سے نکالیں گے۔ کیسے وہ انتقام کی آگ پر پانی جھڑک کر ٹھنڈا کریں گے۔دھیمے لہجے میں بولتا ہوں کہ ریاست نے ظلم کیا ہے اور بہت کیا ہے۔ ان بچوں کو بھی صرف ایک رات  سکون کی نیند کے لیے درکار ہوگی۔

ان ظالموں کا دل ہے کہ پھٹتا نہیں، دماغ ہے کہ شل ہوتا نہیں، جسم ہے کہ سکڑتا نہیں، آنکھیں ہیں کہ بھدکتی نہیں، قدم ہیں کہ مڑتے نہیں، دھڑکنیں ہیں کہ رکتی نہیں ارے ظالمو! کچھ تو سوچو کہ تم کیا کر گزرے ہو! تم نے ظلم کو اک نیا رنگ دیا ہے۔ تم نے دکھ کو اک نیا پروان چڑھایا ہے۔ تم نے مصیبت کو اک نئی شکل بخشی ہے۔ تم نے اندھیروں کو ایک نیا روپ دیا ہے۔ تم نے افسانوں کو اک حقیقت بخشی ہے۔

کہتے ہیں کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے۔مانا کہ ضرور ہوتی ہے لیکن ہر ریاست ماں جیسی ہو یہ بھی ضروری نہیں۔ سانحہ ساہیوال نے یہ عیاں کیا ہے کہ ریاست ماں کو چھین بھی لیتی ہے اور انتہائی سفاک، خوفناک اور درندگی سے بچوں کو اس جہاں کی عظیم نعمت سے محروم بھی کردیتی ہے۔ ریاست تو ریاست ہے ایک ظلم کو چھپانے کے لیے کئی ظلم کرجاتی ہے۔ ظلم و ستم کے کئی واقعات دیکھے پر ایسا واقعہ کہ  ننھی کلیوں کے سامنے ان کے والدین کو دن دہہاڑے اندھا دھند فائرنگ سے قتل کردینا ظلم کی ایک نئی داستان ہے۔ یہ ایک ایسی داستان ہے کہ جس میں ملک کے  رکھوالے محافظ  ہونے کے بجائے قاتل ہیں۔ یہ ایسی کہانی ہے کہ جس میں سہمے بچوں سے ان کی مسکان چھین کر عمر بھر کے لیے سسکیاں تھما دی ہیں۔

بچوں کو بچاتے ہمدردی جتاتے اہلکاروں نے انہیں گہرا گھاو لگایا ہے۔ کیا ان کلیوں سے ان کی خوشی کو چھیننے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا؟ اگر انصاف ہو بھی جاتا ہے تو کیا ان کلیوں کو ان کی خوشی لوٹائی جاسکتی ہے؟ ایسے واقعات ملک دشمن تو کرتے ہیں لیکن یہ پہلی دفعہ دیکھنے کو ملا کہ اپنے ملک کے محافظ ہی دشمن والا کارنامہ سرانجام دے بیٹھے۔ ارے تم اپنے دشمن ملک ہی سے کچھ سبق حاصل کرلیتے کہ انہوں نے اپنے شہریوں کی جانے بچانے کے لیے اپنے دشمن مسعود اظہر کے طیارے کو بم مار کر گرایا نہیں۔ جب کہ یہاں تو صرف شک کی بنا پر لوگوں کو قتل کردیا گیا جو کہ صریحا ظلم ہے۔ اب اس ظلم و درد کا مداوا کون کرے گا؟ سی ٹی ڈی کے پاس یہ بہترین موقع تھا کہ دن دہہاڑے قتل کرنے کے بجائے انہیں گرفتار کرلیتی اس کا فائدہ یہ ہوتا کہ انہیں معلومات مل جاتیں۔ دہشت گرد باآسانی گرفتار ہوجاتے۔

اس واقعے میں جو ہونا تھا سو ہوگیا لیکن حکومتی سطح پر اس جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی کردار ادا نہیں ہوا۔ حکومتی وزراء کے اپنے بیانات اس واقعے کی حقیقت سے ناآشنائی ظاہر کررہے ہیں۔ اگر بچے اور عورتیں گاڑی میں تھیں تو ان پر فائرنگ کیوں کی گئی؟ یہ ایک آئینی ملک ہے اور آئینی ملک میں ایک قانون ہوتا ہے جس کی پاسداری کی جاتی ہے۔ یہاں جنگل کا قانون اگر چلے گا تو ایسے واقعات کی بھرمار ہوجائے گی اور نتیجہ یہ ہوگا کہ ملک کے محافظ خود ہی اپنے ملک میں دشمن کی جڑیں مضبوط کر رہے ہیں۔ ظاہر کوئی ماورائے عدالت قتل کیا جاتا ہے یا کسی کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو یہ فطری قانون ہے کہ بدلے کا جذبہ بھڑک اٹھتا ہے۔

سی ٹی ڈی نے کئی اہم کاروائیاں کی ہیں اور ملک کو بڑی دہشت گردی سے بچایا بھی ہے۔ ہمیں جذبات کی آڑ میں سی ٹی ڈی کی سرے سے مخالفت کا پہلو اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ یہ کچھ زیادہ ہی اپنے آپ کو قانون کے رکھوالے سمجھنے لگے ہیں جس کا نتیجہ یہ واقعہ ہے۔ اس کی روک تھام ہونی چاہیے اور ان کے لیے ایک دائرہ کار ہونا چاہیے جس میں رہ کر یہ اپنا کام کرسکیں۔ اگر اس طرح کے ایک دو واقعات مزید ہوجاتے ہیں تو سی ٹی ڈی کا عوامی نظر میں وہی حشر ہوگا جو کہ عام پولیس کا ہے۔ سی ٹی ڈی کی کاروائیوں کا آڈٹ ہونا چاہیے تاکہ جتنے ماورائے عدالت قتل کیے ان کا حساب لیا جائے۔

عجب ہے کہ ‏جو سرکاری محمکے  ساہیوال میں قتل عام میں ملوث ہیں اب انہی اداروں کے افسران پرمشتمل جے ائی ٹی بنا کر انکوائری کا کام سونپ دیا گیا ہے۔ انکوائری سپریم کورٹ کے جج سے کرانی چائیے تھی نہ کہ جنہوں نے قتل عام کیا سانحہ ماڈل ٹاؤن اس لیے حکمرانوں کے گلہ پڑا کہ انہوں نے اہلکاروں کو بچانے کی کوشش کی اور یہی کام موجودہ حکومت کررہی ہے۔ صرف گرفتار کرنے سے عوام میں ابھرا وقتی غصہ تو قابو ہوجاتا ہے لیکن متاثرین انصاف کے لیے ترس رہے ہوتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا شادی میں جانے والے اس خاندان کو مارنے کے سوا گرفتار کرنے کی کوئی صورت نہیں تھی؟ اور انہیں قتل کرکے اس گاڑی میں کیوں چھوڑ دیا  گیا؟ اگر اسلحہ تھا تو اس اسلحے کی ویڈیو کیوں نہ بنائی گئی؟ اس وقت پولیس کی مزید نفری کیوں طلب نہ کی گئی؟ بچوں کو ساتھ لے جاکر کسی پٹرول پمپ پر کیوں چھوڑا گیا؟ سی ٹی ڈی اپنے بیان کیوں بارہا بدل چکی ہے؟ کیا دہشت گرد اپنے بچوں کو ساتھ لے کر دہشت گردی کرتے ہیں؟ کیا دہشت گردوں کے پاس شناختی کارڈ اور اس جیسی گاڑی ہوتی ہے جس میں کاروائی کی گئی ہے؟ اگر اسلحہ تھا تو دکھایا کیوں نہیں؟

دہشت گردی کے بعد اب ریاستی اداروں سے خوف آنے لگا ہے۔ جنھیں ہم اپنا محافظ گردانتے ہیں وہ اب قاتل ہونے لگے ہیں۔ اب فیملی کے ساتھ سفر کرنا ایک  خوف مول لینے کا نام ہے۔ دشمن کو سبق پڑھانے کا فارمولا اب خود پہلے سیکھنے کے لیے استعمال کریں  پہر دشمن کو سبق پڑھائیں۔ اگر کلبھوشن زندہ گرفتار ہوسکتا ہے تو ذیشان کیوں نہیں ہوسکا؟ کیا ذیشان کلبھوشن سے بڑا دہشتگرد ہے جو کہ گرفتار نہ ہوسکا اور سیدھا گولیوں کی زد میں آگیا؟ کچھ تو ہے جو چھپایا جائے گا اور عوام کو کسی نئے کھیل میں دھکیل دیا جائے گا۔

Facebook Comments