آپی ہمارا تعلق کس فرقے سے ہے‘‘؟ سات سالہ سدرہ معصومیت سے لائبہ سے سوال پوچھ رہی تھی۔ ’’سدرہ آپ نے یہ کہاں سے سنا‘‘؟ ’’آپی جن آنٹی کے گھر میں پڑھنے جاتی ہوں وہاں ایسی باتیں ہو رہی تھیں اور دو آنٹیاں آپس میں لڑائی کر رہی تھیں‘‘۔ ’’کیا وہ آنٹیاں اس ہی بات پر لڑرہی تھیں؟ کہ ہم کون ہیں‘‘؟ ’’جی آپی وہ اس ہی بات پر لڑ رہی تھیں اور ایک دوسرے کا مذاق بھی اڑا رہی تھیں‘‘۔
اچھا سدرہ کسی کی باتوں پر تجسس نہیں کرتے۔ ابھی ہم کچھ بات کرتے ہیں‘‘۔’’

سدرہ وہ باجی کبھی آپ کو قرآن ترجمہ سے بھی پڑھاتی ہیں‘‘؟’’
نہیں آپی وہ تو بس عربی پڑھاتی ہیں۔ ویسے کبھی کبھی اچھی باتیں بتاتی ہیں‘‘۔’’
اچھا سدرہ آپ کی اردو تو ماشاء اللہ بہت اچھی آتی ہے۔ جائیں آپ وضو کرکے’’ آئیں۔ پھر ہم قرآن سے دیکھتے ہیں کہ اللہ ہمیں کیا کہتا ہے‘‘، سدرہ بولی۔ ’’آپی قرآن میں لکھا ہو گا کہ ہم کیا ہیں‘‘؟
جی پیاری سدرہ قرآن میں سب لکھا ہوتا ہے ۔ جائیں آپ وضو کر کے آئیں پھر ہم مل کر ڈھونڈیں گے۔
سدرہ وضو کر کے آئی تو لائبہ جلدی سے ترجمہ والا چھوٹاقرآن کا نسخہ اٹھا لائی۔ سدرہ کیا آپ مجھے بتائیں گی حضرت ابراہیم علیہ اسلام کون تھے؟” ” جی آپی مجھے پتہ ہے حضرت ابراہیم علیہ اسلام کون تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ اسلام اللہ کے پیغمبر تھے۔ اور وہ اللہ کی ہر بات مانتے تھے ۔ ایک بار اللہ تعالی نے خواب میں کہا کہ آپ اللہ کی راہ میں اپنے بیٹے کو قربان کر دیں تو حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے اللہ کا حکم مانا۔ لیکن پھر جب وہ اپنے بیٹے پر چھری چلانے لگے تو اللہ ان سے راضی ہوگئے اور ان کی جگہ دنبہ بھیج دیا۔ آپی میں صحیح کہہ رہی ہوں نا؟” حضرت ابراہیم کا مختصر تعارف کروا کر اب سدرہ معصومیت سے اپنے علم کی درستگی کی یقین دہانی چاہتی تھی۔
“جی ماشاء اللہ میری پیاری بہنا آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ آپ تو بہت ذہین ہیں۔ اللہ آپ کے علم حق میں برکت دے۔ لائبہ نے فورا بہت دل سے دعا کی۔” “اچھاتو ہمیں پتہ چلا کہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام اللہ سے کتنی محبت کرتے تھے۔ اور آپ کو پتہ ہے حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے سب بتوں کو توڑا تھا؟آپ کو پتہ ہے نا پہلے لوگ بتوں کی پوجا کرتے تھے؟” “جی آپی مجھے تھوڑا تھوڑا پتہ ہے۔” “ماشاءاللہ چلیں میں کچھ تھوڑا تھوڑا اور بتا دیتی ہوں۔جب حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو اللہ کا پتہ چل گیا تو حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے سارے بت توڑ دیے۔لیکن حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے پاپا تو بتوں کی پوجا کرتے تھے ۔ وہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام سے ناراض ہوگئے اور انھیں گھر سے نکال دیا۔ اور حضرت ابراہیمؑ کو اللہ کی محبت پر بہت یقین تھا اس لیے وہ اپنے والد کے لیے دعا کرتے ہوے گھر سے چل دیۓ۔

تو سدرہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے اللہ کو جاننے کےلیے اور ان کی محبت کو پانے کےلیے بہت محنت کی تھی۔ بالکل ویسے ہی اب ہمیں بھی محنت کرنی ہے یہ جاننے کےلیے اللہ تعالی ہمیں کیا کہتاہے۔ اور اللہ ہم سے کب محبت کرے گا؟آپ کریں گی نہ محنت  سدرہ؟”
“جی آپی میں ضرور محنت کروں گی تاکہ پھر اللہ خوش ہو جائے اور ہم سب جنت میں جائیں۔” 
“جی ان شاء اللہ سدرہ ہم ضرور جائیں گے کیونکہ اللہ محنت کرنے والے کی بہت قدر کرتا ہے اور محنت ضائع نہیں جانے دیتا۔اللہ فرماتا ہے
*الکاسب حبیب اللہ*
محنتی اللہ کا دوست ہے۔
کیا آپ اللہ کو اپنا دوست بنانا چاہوگی پیاری بہنا! 
جی آپی میں ضرور بنانا چاہوں گی اللہ کو اپنا دوست سدرہ نےخوشی سے اچھلتے ہوۓجواب دیا۔
اچھا اب آپ یہ سورت الحج کی آخری آیت پڑھیں۔اس میں ہی اللہ نے بتا یا ہے کہ ہم کون ہیں۔ اللہ نے ہمارا کیا نام رکھا ہے۔” 
“سدرہ کچھ دیر آہستہ آہستہ پڑھتی رہی پھر بولی آپی اللہ نے تو ہمارا نام مسلمان رکھا ہے۔”اور یہ تو مجھے پہلے بھی پتہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔” 
“جی سدرہ شاباش اللہ نے ہمارا نام مسلمان ہی رکھا ہے۔ اور یہ ہمیں پہلے بھی پتہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ لیکن سدرہ ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ اللہ نے ہمیں مسلمان کیوں کہا؟اور ایک مسلمان کو کیا کیا کرنا چاہیے؟تو یہ جاننے کےلیے ہمیں روز قرآن سمجھ کر پڑھنا ہو گا۔ کیونکہ قرآن میں اللہ ہم سے بات کرتا ہے۔ اللہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم کیوں مسلمان ہیں۔ اور مسلمان کو اللہ کی اتنی بڑی بہت بڑی جنت میں جانے کےلیے کیا کرنا چاہیے۔”
لائبہ نے دونوں ہاتھوں کو پھیلا کر بڑی جنت کی وسعت بتانے کی کوشش کی۔ “اور آپ کو پتہ ہے مسلمان کا مطلب ہوتا ہے فرمانبردار اور فرنبرداری تو ہم تب کرتے ہیں نا جب ہمیں کسی کام کا حکم دیا جائے۔ جیسے حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے کی۔ تو اللہ ہم سے کیا چاہتے ہیں یہ سب ہمیں قرآن میں پتہ چلے گا۔
اب آپ یہ چھوٹا سا قرآن اپنے پاس رکھیں گی اور روز ایک آیت ترجمہ کے ساتھ پڑھیں گی تاکہ ہم اچھے مسلمان بن جائیں۔ اور اپنی دوستوں کو بھی اللہ کے بارے میں بتائیں گی ۔ کیونکہ سدرہ جب ہم اللہ کی باتیں اپنے دوستوں اور والدین سے کرتے ہیں تو اللہ ہم سے خوش ہو جاتا ہے اور پھر اللہ تعالی فرشتوں کے ساتھ ہماری باتیں کرتا ہے۔”

“واوو آپی اللہ کو خوش کرنا کتنا آسان ہے نا میں ضرور اپنی دوستوں کو بھی اللہ کی باتیں بتاؤں گی۔ اور ان کے ساتھ بھی قرآن ترجمہ سے پڑھا کروں گی۔”
سدرہ کی آنکھوں سے بھی خوشی چھلکتی نظر آ رہی تھی۔
“ماشاء اللہ۔۔ سدرہ اللہ پاک آپ کے شوق میں برکت دے۔ “
   “اور آپی! آپی عائشہ بھی اس لیے عربی پڑھنے گئیں ہیں نا تا کہ اللہ کی باتوں کو سمجھ سکیں۔تو اب جب آپی عائشہ گھر آئیں گی عربی سیکھ کر تو ہم بھی ان سے عربی سیکھیں گے تا کہ ہمیں بھی اللہ کی باتیں فوراً فوراً اور اچھی طرح سمجھ آئیں۔” 
“جی ضرور ان شاء اللہ چلیں اب آذان ہونے والی ہے ہم نماز کی تیاری کرتے ہیں۔”

Facebook Comments