غروب آفتاب عزیمت

تحریر: محمد امین آزاد

بچھڑا کچھ اس ادا سے، کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

آج15 جنوری کا دن ہے، اس وقت تقریبا9:30 بج رہے ہیں، آسمان سیاہ چادر اوڑھ چکا تھا اور دن بھی اپنی ذمہ داری نبھا کر، تھکا ہارا، رات میں حلول کر چکا تھا، فلک پر ستاروں کا قبضہ تھا اور چاند اپنی سولہ منازل طے کر کے اس وقت فلک پر براجمان تھا۔ چشم فلک بھی یہ نظارہ دیکھنے کو بیتاب تھاکہ کب آدم زاد رات کا لبادہ اوڑھ کر نیند کی آغوش میں جاکر (وجعلنا اللیل لباسا) کو عملی جامہ پہنائے، رات کا یہ پہر اور فاروقیہ فیز ٹو کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں، ماحول کو مخمور کیے ہوئے تھیں۔ اسی مد ہوشی کی دھن میں طالبان علوم محو مطالعہ تھے۔ دنیا کے تمام جھمیلوں سے آزاد، اپنی دنیا میں کھوئے ہوئے یہ راہ ہدایت کے مسافراپنا سفر جاری کیے ہوئے تھے کہ اچانک کسی کے قدموں کی آہٹ نے چند لمحوں کے لیے اپنا سفر موقوف کرنے پر مجبور کیا۔

جب سب مسافروں نے اپنی جبین نیاز آسمان کو بلند کی تو ایک بزرگ ہستی، مشفق استادحضرت مفتی عزیر محمد صاحب مدظلہ العالیہ لرزتے قدموں کے ساتھ، درجہ سادسہ میں داخل ہوئے۔ طلبا بھی اس اتفاقی آمد پر ششدرتھے۔ پھر استاد کے اندر داخل ہوتے ہی درسگاہ کے چند طلبہ استاد کی جانب لپکے تو استاد محترم نے سب سے پہلا جملہ جو ارشادفرمایا وہ یہ تھا کہ ”آہ! کیا آپ حضرات کو پتا چلا“؟ تمام طلبہ شش و پنج میں ایک دوجے کی جانب دیکھنے لگے کہ خدا را کیا ماجرا ہے؟ نہ معلوم کہ آگے کوئی نوید سحر سنائی دے گی یا اگلا سننے والا جملہ کوئی صاعقہ سماوی شمار ہوگا؟ استاد محترم کے لڑکھڑاتے قدم، رکی رکی زبان، مرجایا ہوا چہرہ اور انداز بیان کی لچک کسی طوفان کے آنے کی خبر دے رہی تھی۔ معلوم ہورہا تھا کہ اگلا جملہ کوہ گراں ثابت ہوگا۔ بالآخر طلبا نے جب نفی میں سر ہلایا تو استاد محترم نے کپکپی آواز میں یہ قیامت خیز، اور دہشت ناک خبر سنادی کہ، ”آہ! قافلہ اسلاف کا چھوٹا مسافر، آج قافلہ سے جا ملاہے، جسے دنیا سلیم اللہ خان کے نام سے جانتی تھی۔

اپنے تو اپنے غیر بھی جس کے گیت گاتے تھے، ہر میدان میں جس کا قول قول فیصل ہوتا تھا، جو اکابر کا نمونہ تھے، آج اس فانی دنیا سے دنیا بھر کے علماءو طلبہ کو یتیم کرکے کوچ کر گئے۔ آہ! میں اس گھڑی کا کیسے تذکرہ کروں کہ ، جب ان کھولتے ہوئے الفاظ کی تپش کانوں کے پردوں سے ٹکرائی، تو یوں لگا جیسے کسی نے سیسہ پگھلا کر کانوں میں انڈیل دیا ہو۔ سب طلبا دم بخود رہ گئے۔ سانسیں جہاں تھی وہیں رک گئیں۔ الفاظ حلق میں آتے آتے اٹک گئے اور دل و دماغ آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے کہ یہ کوئی حقیقت نہیں بس ایک خواب کا منظر ہے کہ آنکھ کھلتے ہی سب کچھ سراب کی مانند آنا فانا ہوجائے گا مگر جب خود کو جھنجھوڑا تو احساس ہوا کہ نہیں نہیں، یہ خواب نہیں بلکہ اس دار فانی کی یہی حقیقت ہے اور بے ساختہ سب کی زبان پر (انا للہ وانا الیہ راجعون) جاری ہوگیا۔

اتنے میں تمام طلبا استاد محترم کے ارد گرد جمع ہوچکے تھے۔ تب استاد محترم طلبا کو نہ چاہتے ہوئے بھی ڈب ڈبی آواز میں تسلی بخش کلمات کہے اور صبر کی تلقین کرتے ہوئے تلاوت و ذکر و اذکار میں مشغول رہنے کی تلقین کی اور اپنے ساتھ چند سمجھدار طلبا کو لے کر درسگاہ سے نکل گئے۔ چند لمحوں میں یہ خبر صرف پورے جامعہ میں نہیں بلکہ پورے پاکستان میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہر کوئی سسکیاں لیتا ہوا درسگاہوں سے باہر دفتر کی جانب بوجھل قدموں کے ساتھ تقریبا رینگتا ہوا بڑھ رہا تھا۔ جہاں پر جملہ اساتذہ کرام اور طلبہ کاایک جم غفیر چہ مگوئیوں میں مصروف تھا ، ہر آنکھ اشکبارتھی اور دل تھا کہ بے تاب،بالآخر اساتذہ کرام نے بڑے بڑے طلبہ کو لے کر قبرستان کی جانب کو ہو لیے۔ جہاں ایک طرف اس حادثے کے غم سے سب نڈھال تھے۔ وہیں دل کے کسی گوشے میں ایک مختصر سی خوشی کی لہر بھی تھی کہ اس سر زمیں فیزٹوکو یہ اعزاز حاصل ہورہا ہے کہ اسے ایک عظیم ہستی کی آرام گاہ کے لیے چنا جارہا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک ایسی خصوصیت ہے کہ جامعہ فاروقیہ مقر ثانی کا اس میں کوئی دوسرا شریک و سہیم نہیں۔ (ہمیں اس پر فخر ہے)

بہر حال یہ قافلہءسلیم رات کے 10بجے اس مقام کی طرف رواں دواں تھا، جہاں ہر خاکی نے سفر کرنا ہے۔ آج ماہتاب بھی اپنی کرنوں پر ناز کیے ہوئے تھا اور دل کھول کر اپنی کرنیں لٹارہا تھا، بےتاب ہوکر یہ منظر دیکھنے پر مجبور تھا کیوں تیرہ و تاریک ہے نظروں میں جہاں آج کیوں چھائے ہیں، ہر سمت پہ ظلمت کے نشان۔ بہر کیف طلبہ کرام کا یہ لشکر اپنے اساتذہ کی نگرانی میں بمع اوزاروں کے قبرستان پہنچ گیا اور اکابر علماءکرام کی نشان دہی کے مطابق مرقد اقدس کی جگہ کا تعین کیا گیا۔ جس کی ابتداءجامعہ کے جانثار، مشفق و عطوف استاذ مفتی محمد عمر فاروق صاحب مد ظلہ نے اپنے دست مبارک سے کی پھر یکے بعد دیگرے تمام اساتذہ کرام جن میں مولانا عثمان اکبرصاحب، مفتی محمد عثمان صاحب، مفتی محمود سواتی صاحب اور مفتی عزیز محمد صاحب دامت برکاتھم قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر تمام اساتذہ کرام بھی اس وقت اس باغ کی آبیاری میں مصروف تھے اور تمام طلبہ کرام نے بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ اس گلستان کی آبیاری میں شامل کیا۔ چنانچہ اساتذہ کرام کا حکم تھاکہ سب طلبہ کو موقع ملنا چاہیے، تمام طلبہ بڑے ادب کے ساتھ اس حکم کی پاسداری کرتے اور اپنا حصہ ڈال کر دوسروں کو موقع دیتے۔

چنانچہ آہوں اور سسکیوں سے لبریز یہ عمل تقریبا رات کے 1بجے تک جاری رہا۔ پھر اس کار ثواب سے فراغت کے بعد اساتذہ کرام نے طلبہ کی مختلف جماعتیں تشکیل دیں۔ چند طلبہ کو مرقد کے آس پاس پہرے پر مامور فرمایا ایسا نہ ہو کہ کوئی موذی جانور نقصان وغیرہ پہنچائے، باقی جماعتوں کے ذمے اگلے روز کے حوالے سے مختلف کام طے فرمائے جو انہیں سرانجام دینے تھے۔ پھر اساتذہ کرام دفتر میں جمع ہوگئے اور اگلے دن کے حوالے سے مشورے میں مصروف رہے۔ چنانچہ رات کافی بیت چکی تھی لیکن آج ہر آنکھ بیدار تھی۔ آج کی رات دن کا منظر پیش کر رہی تھی، ہر جماعت میں طلبا کی مختلف ٹولیاں چہ مگوئیوں میں مصروف تھیں اور اپنے لبوں پر حضرت رحمہ اللہ کے تذکرے سجائے ہوئے تھے۔ کوئی ان کے اخلاق حسنہ اور اوصاف جمیلہ کا تذکرہ کرتا، تو کوئی آپ کے بارعب اور گرج دار آواز کے بول بول رہا تھا۔ کسی کا موضوع سخن آپ کی ذہانت و فطانت بنی ہوئی تھی۔ تو کسی کی زبان پر آپ کی دلیری و بہادری اور حق گوئی کے چرچے تھے۔

چنانچہ حضرت رحمہ اللہ کی زندگی آج کھلی کتاب کی مانند ہر ایک کے سامنے رکھی ہوئی تھی۔ کہیں آپ کے 27دن میں حفظ کے تذکرے تھے، تو کسی ورق پر پچاس سالہ بخاری کے درس کا عظیم باب تھا، کہیں وفاق کے سنہری دور کا تذکرہ تھا، جسے حضرت رحمہ اللہ نے آفاق کی بلندیوں پر پہنچادیا تھا۔ تو کتاب کے کسی گوشے میں حضرت کے درس و تدریس کا عنوان تھا، جو سات دہائیوں پر محیط تھا۔

بہرحال رات گئے تک اس عظیم کتاب کے مصنف کی زندگی زیر بحث رہی۔ پھر نجانے کب یہ راہ ھدایت کے مسافر نیند کی آغوش میں جاپہنچے۔ ابھی آنکھ ہی لگی تھی کہ اذان سحر کی خوشگوار آواز سماعت سے ٹکرائی جسکا بے صبری سے انتظار تھا، تمام طلبہ کرام وضو خانوں کی طرف روان دواں ہوئے۔ اس کے بعد صبح کی ٹھنڈی ہواوں کے ہجوم میں تمام وارثین علوم نبوت جامعہ مسجد محمد بن قاسم کی طرف روانہ ہوئے۔ وقت مقررہ پر جماعت کھڑی ہوئی، امامت کے فرائض استاد محترم مفتی عمر فاروق صاحب مدظلہ انجام دے رہے تھے۔ چنانچہ آج کی فجر بھی آنسووں اور سسکیوں سے عبارت تھی، استاد محترم نے سورہ نبا شروع کی ہوئی تھی جسے ختم کرنا مشکل ہوگیا۔ ہر آیت دو آیت کے بعد استاد محترم ہچکیاں لے کر خاموش ہوجاتے۔ یہی کیفیت مقتدیوں کی بھی تھی۔ بالآخر نماز پوری ہوئی اور پھر سب نے جی بھر کر آنسو بہائے۔ پھر سورہ یاسین کا ورد اور پھر دعا ہوئی۔

16جنوری کی بے رحم کرنیں جامعہ کے درو دیوار کو تپا رہی تھیں۔ جامعہ کے افق پر آج غم کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ ہر آنکھ سے مینہ برس رہا تھا۔ آج فیزٹو کے کھنڈرات واضح طور پر دکھائی دے رہے تھے۔ جس کی کھائیوں میں سر فروشان ملت ہاتھوں میں اوزار لیے اس کی آبیاری میں لگے ہوئے تھے۔ کوئی مسجد کے وسیع وعریض صحن کو فرشتوں کی آمد کے لیے سجا رہا تھا، تو کوئی مسجد کے سامنے میدان مصلی کی صفائی میں لگے ہوئے تھے، ہر طرف طلبا کے ہجوم ہی ہجوم تھے جو باضابطہ اپنے اپنے کاموں میں مگن تھے۔ کچھ قبرستان کے آس پاس بانس گاڑ رہے تھے اور ان سب کی نگرانی جامعہ کے جملہ اساتذہ کر رہے تھے، اتنے میں اتحاد ٹاون کے نامور شخصیت جناب ڈاکٹر عطاءالرحمن صاحب دامت برکاتہ اور حب چوکی کے رہائشی جامعہ فاروقیہ کے قدیم فاضل جناب مولانا جاوید بلوچ صاحب تشریف لائے اور طلبا کو اپنے ارد گرد جمع کرلیا۔ پھر طلبا کی مختلف ٹولیاں بنائیں، اور باضاطبہ طور پر سب کی تشکیل کی،اور پوری ذمہ داری کیساتھ سارا کام اپنی نگرانی میں طلبا سے کرواتے رہے۔ ان حضرات کو انتظامی امور میں کمال مھارت حاصل تھی۔

اتنے میں یہ خبر پہنچی کہ حضرت شیخ رحمہ اللہ کے جسد مبارک کو فیزٹو لایا جارہا ہے، پھر کیا تھا؟ ہر آنکھ حضرت رحمہ اللہ کے دیدار کی منتظر تھی، جامعہ کی بلند و بالاعمارت بھی شارع مفتی محمود کو تک رہی تھی۔ اتنے ہجوم میں بھی آج ہر ایک تنہائی محسوس کر رہا تھا۔ جیسے کوئی والداپنے معصوم بچے کو صحراءمیں اکیلا چھوڑ کر جا چکا ہو۔ چنانچہ 12بجے کے قریب کیا دیکھا کہ ایک قافلہ تھا جو جامعہ کی طرف امڈ رہا تھا۔ انسانوں کا ایک سیل رواں تھاجوہر طرف سے آرہا تھادیکھتے ہی دیکھتے میدان انسانوں سے بھر گیا۔ ہر طرف انسانی ہیولے دکھائی دے رہے تھے۔ اچانک انسانوں کی وادی میں شور برپاہوا۔ پھر خاموشی چھاگئی جیسے سب کو سانپ سونگھ گیا ہو، ہر طرف سناٹا چھا گیا کیونکہ حضرت رحمہ اللہ کی جنازے کی گاڈی جامعہ میں داخل ہوچکی تھی۔ جب یہ درویش حیات تھا تو سب پر لرزہ طاری تھا، آپ کا رعب اتنا تھا کہ بڑے سے بڑا عہدے دار آپ کے آگے ہاتھ جوڑنے پر مجبور ہوجاتے۔

میت گاڑی دفتر کے ساتھ رکی۔ اس کے ساتھ آپ کے جگر گوشے پوتے و نواسے بھی تھے۔ آپ کے جسد مبارک کو دفتر میں لے جایا گیا۔ چاروں طرف ملک کے مقتدر علماءتشریف فرما تھے اور باہر علماءو طلبا کا ایک جم غفیر تھاجو صرف ایک دید کا مشتاق تھا، مگر ظاہر تھا کہ لاکھوں کے مجمعے کو دیدار کروانا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ جس سے بہت بڑی بد نظمی پیدا ہوسکتی تھی اور انتظامیہ کو اس کا احساس تھا۔ ملک بھر سے علماءو طلبا آئے ہوے تھے۔

جامعہ کے تین منزلہ عمارت میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی اور باہر روڈ کی صورتحال یہ تھی کہ رئیس گوٹھ سے لے کرحب ٹول پلازہ تک گاڑیوں کی قطاریں بنی ہوئی تھیں۔ لوگ جوق در جوق آگے بڑھ رہے تھے اور یہ سعادت اپنے اعمال نامے میں جمع کروانا چاہتے تھے کہ ایک محدث عظیم، فقیہ العصر، استاذالعلماءرحمہ اللہ کی نماز جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل ہو۔چنانچہ 2بجے نماز کا وقت مقرر تھا لیکن لوگوں کی مسلسل آمد اور جم غفیر جہاں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ عقیدت مندوں نے کمرے کو چاروں طرف سے گھیرے میں لیا ہوا تھا۔ پھر ایک طرف سے جناب ناظم جامعہ اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاون مولانا مداد اللہ صاحب مد ظلہ العالیہ آگے بڑے اور لوگوں کو ایک طرف دھکیلنے میں کامیاب ہوئے اور گاڑی کے لیے راستہ ہموار کیا۔ تقریبا ساڑھے 3بجے کے قریب گاڑی قبرستان کے پاس پہنچی جہاں جنازے کے لیے پہلے سے قطاریں کھڑی تھیں۔ قبرستان سے لے کر جامعہ کے گیٹ تک لوگوں کی قطاریں بنی ہوئیں تھیں۔ لوگ چھتوں اور پہاڑوں پر چڑھے ہوئے تھے گویا زمیں ان کے لیے کم پڑگئی تھی۔

اس کے بعد حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے دیرینہ شاگرد رشید اور جامعہ کے موجودہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد انور مدظلہ العالیہ نے نماز جنازہ شروع کی، پہلی تکبیر ہی سے اندازہ ہوگیا کہ شاید یہ نماز بھی پوری نہ ہواور حضرت صدمے سے گر جائیں مگر یہ استقامت کا پہاڑتھا جو آخری تکبیر پر جاکر ریزہ ریزہ ہوگیا، اس صدمے کی تاب نہ لاکر زمیں پر گر پڑا اور حضرت کو دل کا دورہ پڑا اور فورا ہی انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن چونکہ اس چشمے سے ابھی دنیا نے سیراب ہونا تھا اس لیے اللہ رب العزت نے اس کی روانی کو بر قرار رکھا۔ جو الحمد للہ آج بھی رواں دواں ہے۔ اللہ رب العزت اس کی روانی کو مزید بر قرار رکھے۔ آمین

نمازکے بعد ہر خاص و عام آگے بڑھے لیکن چونکہ قبرستان میں جگہ محدود تھی اس لیے ہر خاص و عام کو آگے جانے کی اجازت نہیں تھی۔ اس لیے صرف اکابر کا لشکر ہی آگے بڑھا۔ جس میں ملک کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے اکابرین شامل تھے اور ہر ایک یہ سعادت حاصل کرنے کا خواہشمند تھا۔ قبرستان کے ارد گرد عارضی طور پر بانس وغیرہ گاڑکر جالیوں کی چار دیواری بنائی گئی۔ گاڑی سمیت جنازے کو اندر لے جایا گیا۔ پھر بڑے احترام کے ساتھ گاڑی سے نکال کر آخری آرام گاہ کی طرف لے جایا گیا، جہاں حضرت مفتی عمر فاروق صاحب دامت فیوضھم پہلے سے کھڑے تھے۔ انہوں نے بہت ہی احتیاط اور احترام کے ساتھ لرزتے ہاتھوں سے نعش اقدس کو سنبھالا اور پھر زمین کو بوسہ دینے کا موقع عنایت فرمایا۔ پھر حاضرین کو آخری دیدار سے مستفید فرمایا اور پھر پھول ہمیشہ کے لیے مرجھا گیا لیکن اس کی خوشبو سے آج بھی ایک گلستان معطر ہے۔

مرقد اقدس کے ایک طرف آپ کے لخت جگر حضرت مولانا عبیداللہ خالد صاحب دامت برکاتھم اور دوسری طرف آپ کے فرزند ارجمند ڈاکٹر محمد عادل خان صاحب دامت فیوضھم نے کھڑے ہوکر سورہ بقرہ کی ابتدائی اور انتہائی آیات تلاوت فرمائیں اور شاید کہ دنیا کو پھر یہ منظر دیکھنے کو نہ ملے کہ ایک عظیم والد کی آخری آرام گاہ پر عظیم فرزندان اللہ کا کلام سنا رہے ہوں۔ مجمع اب بھی سکتے میں تھا اور چشم فلک بھی بیتاب ہوکر یہ منظر دیکھ رہا تھاکہ نہ معلوم پھر ایسا دل سوز منظر دیکھنے کو میسر ہو یا نہ ہو۔ بلا شبہ یہ ایسا منظر تھاجسے لفظوں کی کمزورتعبیروں کے سانچے میں پرویا نہیں جاسکتا کیونکہ یہ جذبات و احساسات ہیں جن کا صرف تصور تو کیا جاسکتا ہے مگر اسے تعبیر کرنا کسی بشر کے بس میں نہیں۔ اس کے بعد پھر آخر میں شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مد ظلہ العالیہ نے ان الفاظ کے ساتھ دعا فرما کر ایک بار پھر مجمعہ کو آہوں اور سسکیوں کی خاردار وادیوں کی طرف دھکیل دیا۔اس کے بعد کچھ دیر مجمع سکتے کے عالم میں رہا، پھر سسکتا ہوا باہر نکل گیا۔

آتی ہی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو
گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا

Facebook Comments