تحریر: عائشہ یاسین


آج رافع کے اسکول میں میلہ تھا اور وہ صبح سے ہی بہت خوش نظر آرہا تھا۔ اس نے صبح اٹھ کر ہاتھ منہ دھویا، وضو کرکے نماز پڑھی اور قاری صاحب کا پڑھایا ہوا سبق یاد کرنے لگا۔ امی نے اس کو آواز دی تو وہ امی اور ابو کو سلام کرکے ناشتے کی میز پر بیٹھ گیا۔ سب نے مل کر دعا کی اور بسم اللہ پڑھ کر ناشتہ کرنے لگے۔


ناشتہ کرنے کے بعد رافع نے امی سے پوچھا، ’’امی کیا میں اپنی غلے میں جمع پیسے لے لوں تاکہ میلے میں سے چیزیں خرید سکوں‘‘؟ یہ سن کر امی نے مسکرا کر جواب دیا، ”بالکل بیٹا یہ تو اچھی بات ہے، چلو غلق توڑنے میں میں تمہاری مدد کرتی ہوں“۔ یہ کہہ کر رافع امی کے ساتھ اپنے غلق کو توڑا تو اس میں پورے 300 روپے جمع تھے۔ رافع نے خوشی خوشی وہ پیسے جیب میں ڈالے اور امی ابو کو اللہ حافظ کہہ کر اسکول کے لیے روانہ ہو گیا۔


آج اسکول بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔ ہر طرف رونق ہی رونق تھی اور رنگ رنگ کے اسٹال اور دکانیں سجی ہوئی تھیں۔ رافع اسکول میں داخل ہوتے ہی اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر خوب مزہ کیا۔ ایک اسٹال پر اس کوکالے رنگ کی اسپورٹس کار بہت پسند آئی۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو اس کے پاس اب بھی خاصے پیسے باقی تھے۔اس نے ایک اسٹال سے اپنے پسند کی آئس کریم خریدی اور وہ جیسے پلٹا اس کو ایک کونے پہ اپنا دوست بیٹھا نظر آیا جو کافی اداس لگ رہا تھا۔ رافع نے اس کے پاس گیا اور اس کی اداسی کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ، ”آج صبح جب میں اسکول آرہا تھا تو راستے میں میرے پیسے کہیں گر گئے۔ میں نے پیسے ڈھونڈ نے کی کوشش کی پر وہ نہیں ملے“۔


یہ کہہ کر اسد رونے لگا تو رافع کو اسد کا رونا بالکل اچھا نہیں لگا۔ رافع نے جلدی سے جیب سے سارے پیسے نکالے اور اسد کے ہاتھ میں رکھ دیے۔ اسد پیسے دیکھ کر بہت خوش ہوا اور رافع کو شکریہ کہہ کر میلے کی طرف بڑھ گیا۔ رافع کو اپنی امی کی بات یاد آرہی تھی۔ امی ہمیشہ کہتی ہیں کہ دوسروں کی مدد کرنے سے ہم کو خوشی ملتی ہے اور آج رافع کو اسد کی مدد کرکے بہت خوشی ہورہی تھی لیکن اس کو افسوس بھی ہورہا تھا کہ اب اس کے پاس گاڑی خریدنے کے لیے پیسے نہیں بچے تھے۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اس کی اردو کی استانی اس کو کسی مقابلے میں شرکت کرنے کے لیے اپنے ساتھ لے گئیں۔ رافع نے ذہنی آزمائش کے مقابلے میں سب سے زیادہ درست جوابات دیے اور اول پوزیشن حاصل کی۔ پرنسپل صاحبہ نے اس کو سرٹیفیکیٹ کے ساتھ ایک انعام بھی دیا۔


گھر آکر رافع نے ساری بات اپنی امی کو بتائی تو امی بہت خوش ہوئیں۔ جب رافع نے اپنا انعام کھولا تو خوشی اور حیرانی سے اس کے آنکھوں میں آنسو اگئے۔ یہ وہی کالے رنگ کی گاڑی تھی جو اس کو بہت پسند آئی تھی پر وہ خرید نہیں پایا تھا۔ اس کی امی نے خوشی سے رافع کو گلے لگا کر کہا کہ، “جب ہم کوئی نیکی کرتے ہیں تو اللہ ہم سے راضی ہوجاتا ہے اور ہمیں انعام سے نوازتا ہے۔ تم نے نیکی کی اور اپنے دوست کی مدد کی اس لیے اللہ نے تمہیں یہ انعام دیا۔ اسی کو نیکی کی طاقت کہتے ہیں“۔ یہ کہہ کر امی مسکرانے لگیں اور رافع نے عہد کیا کہ وہ ہمیشہ دوسروں کی مدد کرتا رہے گا تاکہ اللہ تعالی اس سے ہمیشہ راضی رہیں۔

Facebook Comments