تحریر: رقیّہ فاروقی

محنت کے بل بوتے پر عروج حاصل کرنے والے ہزاروں کردار دنیا میں بکھرے ہوئے ہیں۔ ہر قابل انسان کی زندگی مشقتوں سے عبارت ہوتی ہے۔ بہت کم لوگ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ جنہیں ترقی کے حصول کے لیے زیادہ جدوجہد نہیں کرنی ہوتی۔ اللہ نے انسانی زندگی کو مختلف ادوار میں تقسیم فرما دیا ہے۔ بچپن اور بڑھاپا تو عجز کے ادوار ہے جب کہ جوانی میں انسان مضبوط ہوتا ہے۔ اس کے جذبات مستحکم ہوتے ہیں۔ اس کے لیے کٹھن وادیاں عبور کرنا بھی کچھ مشکل نہیں ہوتا لیکن قدرت کی طرف سے ودیعت کردہ صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرنے کے لیے محنت ازحد ضروری ہے۔جیسے جمع شدہ پانی جوہڑ کی شکل اختیار کر لیتا ہے، بالکل اسی طرح بے کار انسان بھی اپنی چھپی صلاحیتوں سے استفادہ حاصل کرنے کے بجائے مایوسیوں کی اندھی کھائی کی نذر ہو جاتا ہے۔ پھر وہ اپنی ذات کے خول میں بند ہو کر معاشرے کی پیٹھ پر بوجھ بن جاتا ہے۔

بیسیوں نوجوان جن کے ہاتھ میں اقوام عالم کی تقدیر کا بدلنا لکھا جا چکا ہے۔ ضیاع وقت جیسی معصیت میں ڈوب کر اپنی اہمیت کھو بیٹھتے ہیں۔ حالانکہ جوانی کا دور انہیں بطور نعمت کے ملا ہوتا ہے۔ جب اعمال کی کاپیاں کھلیں گی تو مسؤل سے جوانی کے متعلق ضرور پوچھا جائے گا۔اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے محنت کرنے والے کو اللہ کا دوست کہاہے۔ تمام انبیاءکرام علیہ السلام نے باوجود جلیل القدر منصب کے پا لینے کے محنت کو اپنا شعار بنایا تھا۔ سب نے کوئی نہ کوئی پیشہ لازمی اختیار کیا۔

ایک حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ، ”اس سے بہتر کوئی کھانا نہیں جو انسان اپنے ہاتھ سے کماکر لائے“۔ حضرت موسیؑ نے آٹھ یا دس سال مزدوری کی تھی خود بھی پاک دامن رہے اور اپنے مال کو بھی پاک رکھا۔معلوم ہوا کہ محنت انبیائے کرامؑ کی صفت ہے اس کو اختیار کرنے سے غلام بادشاہ بن سکتا ہے۔ غریب اپنی تجوری کو مال وزر سے بھر سکتا ہے اس لیے کہ سونے جیسی قیمتی دھات کو بھی آگ میں تپ کر نکھار آتا ہے، بھٹی سے گزر کر کندن بنتا ہے اسی طرح محنت کی بھٹی انسان کو کندن بنا دیتی ہے۔شریعت نے اپنی قوت بازو پر بھروسہ کرنے کا درس دیا ہے۔

ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور امداد طلب کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہاری ملکیت میں کچھ ہے۔ اس کے بتانے پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامان کی نیلامی کروائی اور اسے کلہاڑی خرید کر دی تاکہ وہ لکڑیاں کاٹ روزگار زندگی چلائے، یعنی باعزت زندگی گزارنے کے لیے اسے محنت پر لگا دیا گیا۔اس دنیا کو دار الاسباب بنایا گیا ہے پیغمبروں کی حیات طیبات اس پر گواہ ہے۔ موسی علیہ السلام اپنی قوم کو لے کر نکلے آگے دریا آگیا۔ اللہ پاک اپنے امر کن سے راستہ بنانے پر قادر تھے لیکن پیغمبر کو حکم دیا کہ وہ عصا ماریں۔ پیغمبرکا عصا مارنا تھا کہ پانی پہاڑوں کی صورت میں اطراف میں کھڑا ہو گیا اور راستہ واضح ہوگیا۔

اس کائنات کا نظام اسباب کے تحت چل رہا ہے۔ موثر حقیقی رب کریم خود ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ آج کا نوجوان طبقہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوبئے معاشرے کی تشکیل نو میں اپنا کردار ادا کرے۔ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنے سے ہم ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ہر انسان اپنی صلاحیتوں کو بخوبی جانچ سکتا ہے پھر اس پر محنت کی چھاپ لگا کر اپنی عظمت کا لوہا منوا سکتا ہے۔ محنت کے لیے بے شمار میدان اس مختصر سی کائنات میں کھلے ہوئے ہیں۔ جوانی کو نعمت فانی سمجھتے ہوئے اس میں اتر جائیے اور اپنے آپ کو گوہر ولعل سے آراستہ کر کے قیمتی بنا لیجیے۔ یہی آج کا پیغام ہے۔

Facebook Comments