غزل

شاعرہ: دِیا خان بلوچ

افسوس تو بہت ہوتاہوگا
اک پل کو اس نے بھی سوچا ہوگا
ہاں! میری یاد میں رویا ہوگا
خود کو پہروں کوسا ہوگا
کیوں بڑھ کر ہاتھ، نہ تھاما تھا
یہ سوچ کہ، وہ بھی تڑپا ہوگا
کیوں،لمحوں میں اس کو چھوڑ دیا
وہ اکثر خود سے پوچھتا ہوگا
کیوں بھیڑ میں اس کو چھوڑا تھا
اس بات پہ وہ پچھتاتا ہوگا
ایمان تھا، جس کی محبت دِیا
ہاں ! اب رنج تو اس کو ہوتا ہوگا

Facebook Comments