تحریر:ام محمد عبداللہ


پھول کلیوں چاند تاروں اور بہتے جھرنوں سے پیارے پاکستانی بچو! بہت سال پہلے کی بات ہے کہ برصغیر پاک و ہند پر انگریزوں کی حکومت تھی۔ ہندو ان کے منظور نظر تھے اور مسلمان بیچارے کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ ان پر تعلیم کے دروازے جبراً بند کر دیے گئے تھے۔ ان کے مالی حالات بھی اچھے نہ تھے۔ انگریز سرکار بھی ان سے ناراض رہتی اور ہندو بھی انہیں نیچا دکھانے کی کوشش کرتے۔


اب کیا ہوا کہ مسلمان ایسی بے بسی اور ذلت کی زندگی سے تنگ آ گئے۔ وہ سوچنے لگے کہ اللہ تعالی نے تو ہمیں ایک بہت پیارے دین دین اسلام کی نعمت سے سرفراز فرمایا ہے۔ ہمیں ایک بہترین کتاب قرآن مجید عطا کی ہے۔ سنت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا عظیم خزانہ بھی ہمارے پاس ہے پھر بھلا ہم کیوں ذلیل و خوار ہو کر زندگی بسر کریں؟ جب ہمارا دین ہمارے رسولﷺ اور ہماری کتاب ہمیں دنیائے عالم کی امامت کا درس دیتی ہے تو ہم انگریزوں اور ہندووں کی غلامی میں زندگی کیوں بسر کریں؟


بس جب یہ سوچ اجتماعی طور پر برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں میں بیدار ہوئی تو وہ ایسی سرزمین کے حصول کے لیے تڑپنے لگے جسے وہ ریاست مدینہ کی مانند بنا سکیں۔ جہاں وہ اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔ جہاں سیاسی، معاشی، تعلیمی غرض پورے کا پورا معاشرتی نظام اسلامی رنگ میں رنگا ہو۔ اب اس سوچ کے حصول کے لیے عملی جدوجہد کا آغاز ہوا۔ پیارے بچو! جب بھی کوئی تحریک یا جدوجہد شروع ہوتی ہے تو اسے کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے کسی بڑے رہنما کی ضرورت ہوتی ہے۔برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی خوش قسمتی تھی کہ اپنے خواب کی تعبیر پانے کے لیے اللہ تعالی نے انہیں محمد علی جناحؒ جیسے عظیم قائد جو حقیقتا قائداعظم کہلانے کے لائق ہیں عطا کیے۔


پیارے بچو! ہمارے پیارے قائد نہایت ذہین، نڈر مخلص اور بہت بلند اخلاق کے حامل شخص تھے۔ آپ جہاں مسلمانوں کے دل کی دھڑکن تھے وہیں غیر مسلم بھی آپ کی خوبیوں اور کردار کے معترف تھے۔ پیارے بچو! اب ہوا یہ کہ قائداعظمؒ کی رہنمائی میں بڑے بزرگ اور جوان سب پاکستان بنانے کے لیے ڈٹ گئے۔ جب ہندوستان کے مسلمان بچوں نے دیکھا کہ سب بڑے تو پیارے قائد کی آواز پر لبیک کہیں اور تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تو بھلا ہم کیوں پیچھے رہیں۔ بس یہ سوچنا تھا کے بہت سے معصوم اور آپ کی طرح پیارے پیارے بچے بھی قائد کے کارواں میں شامل ہوگئے۔ آئیں میں آپ کو بتاوں کہ ہندوستان کے صوبہ مدراس میں کڈپہ کے یتیم خانہ اسلامیہ کے بچوں کا ایک خط جس پر 25 جولائی 1942ءکی تاریخ ہے۔ پیارے قائد کوخط لکھتے ہیں۔


”ہمارے اچھے قائد اعظم! ہم یتیموں کی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو تادیر سلامت رکھے۔ قائد اعظم! آپ نے ہندوستان کے مسلمانوں سے مسلم لیگ کے لیے چندے کی درخواست کی ہے۔ یہ ہم کو اخباروں کے ذریعہ معلوم ہوا۔ ہمارا بھی خیال ہوا کہ ہم بھی آپ کی خدمت میں کچھ چندہ پیش کریں۔ آپ کو یہ معلوم ہے کہ ہم یتیم ہیں اور ہمارے کھانے پینے اور کپڑے وغیرہ کا انتظام یتیم خانے سے ہوتا ہے۔ ہمارے ماں باپ نہیں ہیں جو ہم کو روز پیسے دیں پھر بھی ہم نے یہ طے کیا ہے کہ آپ کی خدمت میں ضرور کچھ بھیجیں۔ اس لیے ہم نے ہم کو دھیلہ پیسہ جو کچھ بھی اور جہاں کہیں سے ملا، اس کو جوڑنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ تین روپے دو آنے کی رقم جمع ہو گئی۔ ہم اب اس کو آپ کی خدمت میں روانہ کر رہے ہیں۔ آپ اس کو قبول کیجیے۔ ہم آپ سے اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو زندہ رکھا اور ہم خوب پڑھ کر جوان ہوئے تو مسلم لیگ کی بڑے زور و شور سے خدمت کریں گے اور جب ہم کمانے لگیں گے تو آپ کی درخواست پر بہت سے روپے چندے میں دیں گے۔ آپ ہمارے لیے دعا کیجیے“۔


دیکھا بچو! اس وقت کے یتیم بچے بھی قائد اور تحریک پاکستان کے لیے کتنا مضبوط، مخلص اور والہانہ جذبہ رکھتے تھے۔ پیارے بچو! آج پاکستان کو بنے بہت سال بیت گئے ہیں۔ پیارے قائد اور تحریک پاکستان کو زندگی بخشنے والے پیارے پیارے معصوم بچوں کی جدوجہد ہم سے سوال کرتی ہے کہ کیا ان کا دیا ہوا پاکستان واقعی اسلامی فلاحی ریاست بن گیا ہے؟ بہت دکھ سے اس سوال کا جواب نہیں بنتا ہے۔


پیارے بچو!آپ سب بہت سمجھدار بچے ہیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ بہت سال پہلے مسلمان بچوں نے پاکستان بنانے کا خواب دیکھا پھر اس کے لیے جدوجہد کی اور اپنے خواب کی تعبیر کو پالیا۔ آج آپ سب مل کر اس پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا خواب دیکھیں پھر اس کے لیے جدوجہد کریں تو اللہ تعالی آپ کو بھی ضرور کامیاب فرمائیں گے۔ بس اپنے پیارے قائد اور ان سے والہانہ محبت کرنے والے بچوں کی زندگیوں کو اپنے لیے مشعل راہ بنائیے۔ اللہ تعالی آپ کا حامی وناصر ہو۔ آمین

Facebook Comments